ہوا یوں کی متحدہ عرب امارات والوں کو خیال گزرا کہ راقم جیسا فرد پاکستان میں کیا کر رہا ہے؟ ایسے ہیرے کو تو اماراتی تاج میں لگنا چاہیے۔ خیال کا آنا تھا کی آن کی آن میں راقم کو گولڈن ویزہ دے دیا گیا۔
ویزہ تو ہم نے اس لیے لے لیا کہ ایسے موقعے ہاتھ سے جانے دینا درویشی کی شان کے منافی ہے لیکن ویزہ لے کر اب کیا کیا جائے؟ ہمیں تو لکھنے پڑھنے کے علاوہ کوئی کام بھی نہیں آتا۔
چنانچہ کچھ لکھنے پڑھنے والوں سے رابطہ کیا۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ اسی روز جہلم بک کارنر پہ سرمد خان صاحب بھی اسی سلسلے میں تشریف لائے تھے کہ پاکستانی کتابوں کو یو اے ای میں مقبولیت دلائی جائے۔
میں نے سرمد خان صاحب کو دعوت دی، وہ میرے گھر تشریف لائے، چند دوسرے ادیب بھی موجود تھے اور وہاں ہم نے یہ ارادہ کیا کہ اردو کی نئی بستیوں میں مشاعروں کے ساتھ پاکستان کا سنجیدہ ادب بھی پہنچایا جائے۔
بات کی بات میں، ابوظبی انٹرنیشنل بک فئیر کی انتظامیہ سے بات ہوئی، ڈاکٹر اسامہ صدیق نے کچھ سیشنز ترتیب دیے جو کہ عین اسی طرح منظور ہوئے۔
عید سے ایک روز قبل سب معاملات ٹھیک ٹھاک ہو گئے اور تیس اپریل کو پاکستانی ادیبوں کا تین رکنی قافلہ، جس میں ڈاکٹر اسامہ صدیق، ڈاکٹر طاہرہ اقبال اور راقم شامل تھے ابوظبی کے لیے روانہ ہوا۔
ائرپورٹ پہ ہمارا استقبال بطور مہمان ہوا، پروٹوکول اور تام جھام سے ہوٹل پہنچایا گیا۔ کتاب میلہ، ہوٹل کے سامنے موجود ADNEC ایکسپو سنٹر میں بپا تھا۔
اس کتاب میلے کا تھیم، کلیلہ و دمنہ تھا اور ان ہی حکایات کی خیالی مخلوقات جگہ جگہ پینٹ کی گئی تھیں۔ نجیب محفوظ کا کام خاص کر نمایاں کیا گیا تھا۔ ان کی کتابیں، ان کی زندگی کا سفر، سب ہی میوزیم کی شکل میں نمائش کو موجود تھا۔
مندوبین کو جو یادگاری تھیلے دیے گئے ان پہ بھی نجیب محفوظ کی تصویر بنی تھی۔
عربی کی کئی کتابوں اور کئی نئے ادیبوں سے تعارف حاصل ہوا۔ پاکستان کا سٹال پہلی بار سجا تھا اور اس پہ خوب رونق تھی۔ سرمد خان صاحب کے چچا اور ماموں بھی انگلینڈ سے آئے تھے اور ان کے خلوص اور وضع داری نے سٹال کو حقیقتاً چار چاند لگا رکھے تھے۔
پاکستانی سفیر، فیصل ترمذی صاحب بھی تشریف لائے اور کئی کتابیں خریدیں۔ انڈیا کے سٹال اتنے زیادہ تھے کہ میں گن نہ پائی، اٹھارہ تو مجھے یاد ہیں۔
پاکستانی ادیبوں کے دو سیشنز تھے۔ پہلا سیشن، پاکستانی ڈرامے پہ تھا، جس میں دبئی میں مقیم، مہوش اعجاز نے ماڈریٹر کے فرائض سر انجام دیے جبکہ میرے ساتھ گفتگو میں شازیہ علی خان جو کہ دبئی میں مقیم فلم ساز ہیں، شریک تھیں۔
اگلے روز پاکستانی ناول پہ سیشن تھا، جس میں ڈاکٹر اسامہ صدیق، ڈاکٹر طاہرہ اقبال نے گفتگو کی اور میں اس سیشن کی ماڈریٹر تھی۔ دونوں سیشنز میں پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار موجود تھے۔
اسی رات پاکستانی سفارت خانے نے اس وفد کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا۔ جس میں مذکورہ پاکستانی وفد کے علاوہ چند مزید پاکستانی بھی شریک تھے۔ اردو ادب کو یو اے ای میں پھیلانے اور پاکستانی کتابوں کی سہل دستیابی پہ بات کی گئی، مستقبل کے لیے بھی کچھ ارادے باندھے گئے۔
یہاں سے نکلے ہی تھے کہ پاکستانی ادب کے چاہنے والوں نے گھیر لیا اور جب تک ہم یو اے ای میں رہے حقیقتاً پاؤں زمین پہ نہیں رکھنے دیا، طاہر بندیشا اور رضوان صاحب کے نام خاص کر یاد ہیں۔
مختصر یہ کہ یو اے ای کی تعمیر میں پاکستانی مزدوروں کا خون پسینہ شامل ہے۔ اب ان کی اگلی نسلوں کو اپنے ملک کے ادب اور قدیم دانش سے آگاہ کرانا اور ان میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ اس سلسلے کا پہلا قدم ہے۔ دیکھئے بات کہاں تک پہنچتی ہے۔
(بشکریہ :ہم سب )
فیس بک کمینٹ

