ایک پورا جہان آباد تھا اس علاقے میں جہاں میرا بچپن گزرا ۔ کچھ پرانی دکانیں اور کچھ پرانے لوگ اب بھی موجود ہیں لیکن گزشتہ نصف صدی میں بہت کچھ تبدیل ہو گیا ۔ صدر بازار اور اس کے گردو نواح کی گلیوں اور بازاروں میں کچھ پکوان اور کچھ ایسی سوغاتیںبھی تھیں جو صرف اسی علاقے میںدستیاب تھیں۔اوپل شہید روڈ پر لال کرتی چوک کے قریب آج بھی پرانی طرز کا وہ خورشید ہوٹل موجود ہے جس کے کھانے خاص طور پر سفید شوربے یا سوپ والے چکن کا زمانہ معترف ہے ۔ اسی سڑک پر چھیلو کا ہوٹل رات بھر قاتلانِ شب کے طفیل آباد رہتا ہے ۔ ہوٹل کے قریب ایک گلی میں سینئر صحافی خلیل بھٹی رہتے ہیںجن کے ساتھ میں اپنی صحافت کے ابتدائی زمانے 1985 میں کام کر چکا ہوں۔ خلیل بھٹی شام کے اخبار ”نوائے ملتان “کے ایڈیٹر تھے ۔ نوائے ملتا ن میری صحافتی زندگی کا واحد اخبار ہے جسے میںنے خیر باد کہا تو بھٹی صاحب نے میرے تمام واجبات مجھے فوری طور پر ادا کر دیے تھے ،( ورنہ تو جنگ ،نوائے وقت سمیت وہ تمام اخبار جہاں میں نے کام کیا آج بھی میرے مقروض ہیں ۔) ۔ اسی سڑک کے حوالے سے بھٹی خاندان کے کچھ اور افراد کا ذکر بھی مجھے کرنا ہے لیکن پہلے اسی اوپل شہید روڈ پر آگے بڑھتے ہیں۔ لال کرتی جاتے ہوئے بائیںہاتھ ایک سبز جالیوں والی مٹھائی کی دکان ہے جس کے توشے بہت لذیذ ہیں۔ یہ توشے گلاب جامن سے ملتے جلتے ہیںلیکن ان میںشیرہ نہیںہوتا ۔ ان کی لذت کا زمانہ معترف ہے ۔ ملتان سے میرے جو دوست ہجرت کر چکے ہیںکبھی ملتان آئیںتو یہ توشے ضرور لے کر جاتے ہیں۔
اسی بازار میں پنسار کی دو دکانیں ہیں ۔ ایک دکان یعقوب صاحب کی تھی لیکن یہ اب ان کے بھائی یا بھتیجے جاوید کے نام سے معروف ہے ۔ یعقوب صاحب کا گھر بھی اسی بازار میں گلزار سٹیشنرز کے ساتھ تھا اور ان کی والدہ کو ہم لبھیا والی دادی اماںکہتے تھے کہ انہوں نے میرا نام ” لبھیا “ رکھا ہوا تھا ۔
اوپر ہم نے توشوں کا ذکرکیایا تو حاجی حلوہ کا ذکر بھی کر لیتے ہیں۔ حاجی صاحب سفید کرتے میںملبوس ہوتے تھے سفید لمبی ڈاڑھی تھی ان کی ۔ حاجی صاحب کی بغل میںایک لمبا سرکنڈوںکا بنا ہوا اونچے موڑھے کی طرز کا چھکُو یا سٹینڈ اور سر پر جالی والے کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھال ہوتا تھا ۔حاجی حلوہ انہیںاس لیے کہتے تھے کہ وہ چنے کی دال کا حلوہ بیچتے تھے ۔ حلوہ بہت سلیقے کے ساتھ تھال میں سجا ہوتا تھا اور اس پرچاندی کے ورق بھی لگے ہوتے تھے ۔ حاجی حلوے کے ذکر پر مجھے حاجی معاملہ بھی یاد آ گئے ۔ حاجی معاملہ کو حاجی ماملہ کے نام سے کیوں یاد کیا جاتا تھا یہ تو مجھے معلوم نہیںلیکن وہ جب مسجد میں نماز کے دوران سجدے میںجاتے تو محلے کے نوجوان ان کی جوتی چھپا دیتے تھے ۔ روز کی اس شرارت سے تنگ آ کر حاجی معاملہ نے جوتی اپنے سامنے رکھ کر نماز پڑھنا شروع کی تو ایک روز نوجوانوں نے دیدہ دلیری کے ساتھ ان کی آنکھوں میںآنکھیںڈال کر ان کی جوتی اٹھا لی ۔ بس پھر کیا تھا حاجی معاملہ نے نماز توڑ کر انہیں غلیظ گالیاںدینا شروع کر دیں۔ جب انہیںمسجد میںگالیاں دینے سے روکا گیا تو انہوں نے کہا اگر مسجد میں چوری ہو سکتی ہے تو گالی دینے میںبھلا کیا حرج ہے ۔
اسی سڑک پر ہمارے گھر کے قریب ہی گلزار سٹیشنری مارٹ اور اس سے آگے دلمیر کی دودھ دہی کی دکان تھی جو اب برفی اور پیڑوں کی دکان بن چکی ہے ۔ دلمیر والے چوک پر ہی محفوظ پان والے کی دکان پر جنرل ضیاء کی بڑی تصویر آویزاںتھی ( ممکن ہے اب بھی ہو ) ۔ جنرل ضیاء جب ملتان میںکور کمانڈر تھے تو محفوظ سے پان یا سگریٹ لیتے تھے ۔ اقتدار پر قبضے کے بعد انہوں محفوظ پان والےپر بہت نوازشات کیں۔ ملک تو غیر محفوظ ہوا لیکن محفوظ صاحب کا مستقبل بہر حال محفوظ ہو گیا ۔
ہمارے لڑکپن کے دن تھے جب خورشید نامی ایک نوجوان نے لال کرتی کے قریب کلچوں کا تندور لگایا ۔ ہمارے علاقے میںکلچوں کا یہ پہلا تندور تھا ۔ اس زمانے میں وہ شائد چار آنے کاکلچہ دیتا تھا ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے خورشید نے ترقی کی اور بہت کم وقت میںکلچے سے نان تک کا سفر طے کر لیا ۔ یہ نان شاپ آج بھی موجود ہے اور ایک نان کی قیمت اب 35 روپے ہو چکی ہے ۔
اب بھٹی خاندان کا ذکر ہو جائے ۔ ہمارے پڑوس میںلا ل دین صاحب کی برتنوںکی دکان تھی ۔ یہاںسلور اور پیتل کے برتن فروخت ہوتے تھے ۔ لال دین صاحب کے بیٹے عزیز اللہ بھٹی اور نذیر بھٹی تھے عزیز اللہ بھٹی کا بیٹا شیراز بھٹی میری والدہ سے قرآن پاک پڑھنے آتا تھا اس کی والدہ کی میری والدہ سے دوستی تھی ۔ شیراز روزگار کے سلسلے میں برطانیہ چلا گیا تو پھر طویل عرصہ تک اس کی واپسی نہ ہوئی ۔ اپنی والدہ کی شدید علالت کے دوران وہ دو تین برس قبل وہ آخری بار پاکستان آیا اور ان کی وفات کے بعد واپس چلا گیا ( شائد ہمیشہ کے لیے ) ۔ اسی خاندان سے دلدار بھٹی صاحب کا بھی تعلق تھا جن کا بیٹا انوار بھٹی میرا کلاس فیلو تھا ۔ بہت عرصہ پہلے امریکا گیا اور پھر وہیں اس کا انتقال ہو گیا ۔ بھٹی مرغ پلاؤ والے بھی اسی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔آج کل جاوید بھٹی کے بچے یہ دکان چلا رہے ہیںجاوید بھٹی کے والد کی دلمیر کی دکان کے سامنے چنوں کی ریہڑی ہوتی تھی ۔ ان کی موت آلو بخارا کھانے سے واقع ہوئی تھی کہ آلو بخارے میں کسی مکھی یا کیڑے کا زہریلا ڈنک تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ ہمارے گھر سے لال کرتی تک گھنے درختوں کی ایک قطار تھی جن کے نیچے ریڑی اور چھابڑی والے بیٹھتے تھے ۔ گھر کے بائیں جانب جہاں اب جوتوں کی دکان ہے یہاںنیم کا گھنا درخت ہوتا تھا ۔ اس گھر میںرہنے والوں کو ہم تتری والے کہتے تھے کہ ان گھر میںدو تتریاں ہوتی تھیںیہ مور نما پرندے تھے جو میںنے اپنے بچپن میں ہی دیکھے ۔۔۔ یہ صرف ایک سڑک کی کہانی ہے ۔ اپنے بچپن اور لڑکپن کی ابھی اور بہت سے سڑکوں اور محلوں کا ذکر مجھے کرنا اور یہ بھی بتانا کہ میں نے کئی علاقوں کی جانب بڑھتا ہوا اپنے قدم روک کیوں دیتا ہوں ؟ شائد اس لیے کہ میری یاد میں اس علاقے میں جو لوگ تھے اگر اب وہاں نہ ہوئے تو میرا طلسم ٹوٹ جائے گا ۔ میں اپنی آنکھوں میں بچپن اور لڑکپن کے خواب سلامت رکھنا چاہتا ہوں۔ تاکہ میرے کانوں میں لبھیا والی دادی اماںکی آواز سدا گونجتی رہے
فیس بک کمینٹ

