محترم رضی الدین رضی سے پہلا تعارف دو سال پہلے ملتان ٹی ہاؤس میں سر گل نوخیز کے اعزاز میں سجائی گئی ایک تقریب میں ہوا۔یہاں ادیبوں کا ایک جھرمٹ تھا ۔۔صوفی تبسم والا واقعہ یاد کروں تو ”میلہ ادیباں و شاعراں “ تھا ۔ ان شخصیات کے نام سن رکھے تھے۔۔لائیو دیکھا تو میرا محتاط ہونا فطری بات تھی۔۔ہماری ایک گروپ فوٹو بنائی گئی ۔۔یہ دن ایک یادگار کی صورت محفوظ ہوگیا۔۔اس کے بعد میری مصروفیات بڑھ گئیں۔۔دوبارہ ملتان گئی تو پی ٹی وی کے عید شو پر مدعو کیا گیا تھا۔۔تیسری بار اب گئی۔یعنی اپنے پروفیشن سے متعلقہ مصروفیات ہی مجھے ملتان لے گئیں۔۔
بات ہو رہی تھی سر رضی الدین رضی کی تو ان سے اگلی ملاقات ”محبت فاتح عالم “ کی تقریب میں ہوئی ۔۔میری بدقسمتی ہی سمجھیں کہ یہ جناب بھی ایک آدھ گھنٹہ پہلے تقریب میں آئے ہوئے تھے۔۔۔
انہوں نے مجھے دیر سے پہنچنے اور انگلش املا والی غلطیوں پر ٹھیک ٹھاک ڈانٹا اور اپنا اظہار خیال کرکے چلے گئے۔۔۔میری تو خوف کے مارے ان سے دوبارہ بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔ دل ہی دل میں سوچا ان کے تعارف میں تو مزاح نگار لکھا تھا ۔۔مزاح نگار اتنے غصیلے ہوتے ہیں ؟؟؟
وہ تصویر کسی میموری میں سامنے آئی جہاں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑے تھے۔۔جھرجھری سی لی۔۔یا اللہ ان اینگری برڈ کے ساتھ کھڑے ہونے کی میری جرات کیسے ہوگئی تھی؟؟
ظاہر ہے اس وقت ڈانٹ جو نہ کھائی تھی۔۔۔
خیر جو بھی ہو قصور میرا تھا۔۔۔نہ اس طرح کے پنگے کرتی نہ ڈانٹ کھاتی۔
۔خود کو موٹیویٹ بھی کیا۔۔ کہ کوئی بات نہیں۔۔سینئر کی ڈانٹ جونئیر کو سنوارتی ہے۔۔۔۔ وہ کہانیاں ڈھونڈ ڈھانڈ کر پڑھیں جن میں شاگردوں نے استادوں سے رج کے بے عزتی کرا لی مگر اف تک نہ کی۔۔لیکن اب مجھے لگتا ہے یہ روایات جھوٹ موٹ گھڑ کر پھیلا دی گئی ہیں۔۔تاکہ ہمارے جیسے جذباتی شاگرد طبیعت صاف کروا کر زیادہ کالے نیلے نہ پڑیں۔۔
خیر ۔۔کچھ دیر پہلے فون پر رضی الدین رضی کالنگ کا سائن جگمگا رہا تھا۔۔میری نظر پڑی تو بوکھلا اٹھی۔۔
یا اللہ اب میں نے کیا جرم کردیا؟؟؟
کس بات پر ڈانٹیں گے کیا گستاخی کی؟ کال اٹھاؤں نہ اٹھاؤں کہاں مروں؟؟؟ دل چاہا گیٹ کھول کر کسی کو فون دے دوں ۔۔یہ لو بھائی یہ فون چوری کرلو۔۔تاکہ میں یہ کال رسیو کرنے سے بچ جاؤں۔۔
لیکن فون کی قیمت نے یہ حرکت بھی نہ کرنے دی۔۔ فون پانی کی بالٹی میں ڈال دیتی ہوں۔۔پھر خیال آیا واٹر پروف فون کا کیا بگڑنا ہے بھلا۔۔
مرتی کیا نہ کرتی کال اٹینڈ کرلی۔۔
ڈرتے ڈرتے سلام کیا ۔۔اس سے پہلے کہ میں اپنے کردہ ناکردہ جرائم کی معافی مانگتی۔۔سر کی شفقت بھری آواز سنائی دی۔۔
کیسی ہیں بیٹا؟؟؟
میں نے سکرین کو دوبارہ دیکھا ۔۔رضی الدین رضی صاحب ہی ہیں نا۔۔۔
جی سر۔۔۔ٹھیک ہوں۔۔
بیٹا ۔۔آپ بہت اچھا لکھتی ہو۔۔۔میں چاہتا ہوں ہماری ویب سایٹ کے لیے بھی لکھو ۔۔۔
لیکن سر۔۔انگلش کا کوئی لفظ غلطی سے ڈال دیا تو؟؟؟ آپ مجھے ڈانٹیں گے تو نہیں؟؟؟؟
غالبا مسکرائے۔۔یا شاید میرا گمان۔۔
ارے نہیں بیٹا ۔۔کیوں ڈانٹیں گے۔۔آپ ہمارے جونئیر ہو۔اصلاح ہم نے ہی کرنی ہے۔۔۔۔
جی جی۔۔۔ضرور سر
تو ان کی ویب سائٹ کے لیے لکھنے جا رہی ہوں۔۔اب میرے کالم اس ویب سائٹ پر دستیاب ہونگے ۔۔
یعنی میرے حسن سلوک یا حسن تحریر نے مجھے ان کا بیٹا بنا ہی دیا؟؟ دل فخر سے پھولنے لگا۔۔۔
”بالکل نہیں“ دماغ نے جھڑکا ۔۔دیکھ لینا آئے روز ڈانٹ کھاؤگی۔
۔دفع ہوجاؤ ۔۔تم ہمیشہ ایسے ہی ڈراتے ہو۔۔دل نے بھی جوابی گھرکی دی۔۔
یہ جنگ تو چلتی رہے گی۔۔کرن خان کو بہرحال یہ چیلنج قبول ہے۔۔
فیس بک کمینٹ

