سرور نغمی صاحب کے ساتھ میری سنگت تو نہیں تھی لیکن میں انہیں 1980کے عشرے سے جانتا تھا ۔ان کا تعارف برادرم شفیق آصف کی معرفت ہوا اور شفیق جب تک ملتان رہے سرور نغمی باقاعدگی سے ادبی محفلوں میں شریک ہوتے رہے ۔ مجھے یاد ہے انہوں نے شفیق کے ساتھ مل کر’’ ندرت ‘‘ نامی رسالہ بھی شائع کیا تھا ۔ ان کی آواز خوبصورت تھی ریڈیو ملتان پر کمپئیرنگ بھی کرتے رہے ۔ کوئی ایک برس قبل وہ مجھے ٹی ہاوس میں ملے تھے ۔ مالی حالات ان کے کبھی بھی بہتر نہیں رہے تھے ۔ لیکن میں نے انہیں کبھی اس حوالے سے بات کرتے نہیں دیکھا ۔ نہ انہوں نے کبھی کسی کے سامنے دست سوال دراز کیا نہ اپنے حالات کا رونا رویا اور نہ کبھی کسی ادارے سے مالی امداد کے لیے کہا ۔ دوستوں نے اس سلسلے میں اگر اپنے طور پر کوئی کاوش کی ہو تو وہ میرے علم میں نہیں ۔ ادبی محافل میں وہ باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اس جہان میں بس اپنے حصے کے دکھ جھیلنے آتے ہیں ۔ اور پھر رخصت ہو جاتے ہیں ۔
ان کے بارے میں شفیق آصف اورچند دوسرے دوستوں کی مختصر تعزیتی تحریریں فیس بک پر آپ کی نظر سے بھی گزری ہوں گی جس میں انہیں بہت بڑا براڈ کاسٹر اورلکھاری کہاگیاہے انہی تحریروں سے معلوم ہوا کہ چند برس قبل ان کی اہلیہ بھی انتقال کرگئی تھیں ۔ان کے پسماندگان میں تین بیٹے اورچار بیٹیاں شامل ہیں ۔سرور نغمی کے بہنوئی افضل چوہان بھی معروف شاعرہیں ان کے بھانجے شکیل عادل شعر وادب سے وابستہ ہیں ۔جب تک ان کے انتقال کی خبریں دوستوں تک پہنچیں انہیں منظور آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کیاجاچکاتھا۔
افسوس اس بات پرہے کہ ہمارے سامنے ہمارے بہت سے پیارے اسی کسمپرسی میں رخصت ہوتے ہیں ہم ان کی یاد میں چند سطور درج کرکے جنازے میں شریک نہ ہونے کی تلافی بھی کرتے ہیں لیکن پھر پلٹ کر ان کے اہل خانہ کی جانب نہیں دیکھتے کہ وہ باقی زندگی کیسے گزاریں گے ؟ ۔ کہنے کو یہاں ادب کے نام پربہت سی تنظیمیں اورادارے قائم ہیں لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ ایسے موقع پرہر طرف خاموشی ہی نظر آتی ہے ۔کیاادب کے نام پرقائم ہونے والے ادارے کوئی ایسا نظام وضع نہیں کرسکتے کہ سرور نغمی جیسے لوگ جیتے جی مرنے سے بچ جائیں یاکم از کم ان کے بعد ان کے اہلخانہ کی باعزت کفالت ممکن ہو ۔سرور نغمی کی شاعری کے بارے میں بات اس لیے نہیں کروں گا کہ ان کا مکمل کلام میرے سامنے نہیں اور اب ان کے شعری مجموعے کی اشاعت کا بھی کوئی امکان نہیں ۔ مجھے تو بس یہ معلوم ہے کہ نغمی کی زندگی ایک دکھ بھرے نغمے کی طرح تھی ۔ یکم جولائی2024 کو جب نئے مالی سال کے گوشوارے مرتب کیے جا رہے تھے نغمی کی زندگی کا پرسوز نغمہ ہی ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں ہوا ان کے جیون کا گوشوارہ بھی اختتام پذیر ہو گیا ۔ ان کےچنداشعار آپ کی نذر کرتاہوں
کچھ ایسا جستجو کا چلن پاش پاش ہے
رہرو کو سنگِ میل نہ درکی تلاش ہے
آندھیوں سے بستیوں کے لوگ جب ڈرنے لگے
ہم منڈیروں پر چراغِ آرزو دھرنے لگے
ہم نے پہلے وار میں دشمن کو پسپا کر دیا
بعد ازاں ہم لوگ اپنے آپ سے ہرنے لگے

