سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے میں پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی پارٹی تسلیم کرتے ہوئے خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ 13 ججوں پر مشتمل فل کورٹ نے جاری کیا ہے ۔ اگرچہ یہ پٹیشن سنی اتحاد کونسل کی جانب سے دائر کی گئی تھی لیکن اکثریتی فیصلے میں مخصوص نشستوں کے لیے اس کی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔ البتہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے کر تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
ملک میں معاملہ کے اس پہلو پر مباحث کا سلسلہ جاری ہے کہ کیا سپریم کورٹ ایک درخواست کے دائرہ کار سے نکل کر کوئی حکم جاری کرسکتی ہے۔ البتہ یہ معاملہ فل کورٹ کے اکثریتی ججوں کی طرف سے سامنے آیا ہے لہذا اس بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ ا س حکم پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔ حکومتی نمائیندوں نے فیصلہ کو ناجائز اور اختیارات سے ماورا ضرور قرار دیا ہے لیکن اس بات کا اعلان نہیں کیا کہ حکومت اس پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسی طرح ابھی تک الیکشن کمیشن کی طرف سے نظر ثانی کی درخواست کے حوالے سے کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ ملک کے حقیقی سیاسی ماحول اور اس معاملہ کے تمام عملی پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے حکومت یا الیکشن کمیشن کی جانب سے نظر ثانی کی اپیل دائر کرنا وقت کا ضیاع ہوگا اور اس اقدام سے ملک میں سیاسی تقسیم اور تلخیوں میں اضافہ ہوگا۔
یہ حکم چونکہ فل کورٹ نے دیا ہے ، اس لیے اس بات کا امکان بھی موجود نہیں ہے کہ اگر حکومت یا کسی دوسرے ادارے کی جانب سے نظر ثانی کی اپیل دائر کی جاتی ہے تو عدالت عظمی اسے قبول کرتے ہوئے فل کورٹ کے اکثریتی حکم پر عمل درآمد روک دے گی۔ اس صورت میں نظر ثانی اپیل دائر ہونے کے باوجود کئی سال تک زیر سماعت رہ کر تاریخ کا حصہ بن جائے گی ۔لیکن عدالتی حکم کے باوجود سیاسی ضرورتوں کے لیے اس معاملہ کو طول دینے سے ملک کے سیاسی بحران میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے مصالحت اور وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دینے والے تمام عناصر اس موقع کو غنیمت جانیں ۔ اختلافات کم کرنے اور مصالحت کا کوئی راستہ اختیار کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔
اس فیصلہ کے بارے میں بنیادی اختلاف یہی ہے کہ کیا سپریم کورٹ ایک پٹیشن سامنے آنے کے بعد اس درخواست کے دائرہ کار سے باہر جاتے ہوئے کوئی حکم صادر کرسکتی ہے۔ وزیر قانون نذیر اعظم تارڑ نے بھی اسی پہلو کی جانب اشارہ کیا ہے۔ البتہ تحریک انصاف کے حق نمائیندگی سے متعلق معاملات اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ شاید سپریم کورٹ کے لیے کوئی سادہ اور آسان جواب دینا ممکن نہیں تھا۔ زیر غور معاملہ میں ہی سپریم کورٹ کے فل بنچ نے درحقیقت سنی اتحاد کونسل کی طرف سے مخصوص نشستوں پر استحقاق کی درخواست مسترد کی ہے کیوں کہ قانونی طور سے اسے شاید ایسی سیاسی پارٹی کی حیثیت حاصل نہیں ہے کہ وہ ان نشستوں پر دعویٰ کرسکے۔ البتہ اس نتیجہ تک پہنچنے کے بعد فاضل جج حضرات کے پیش نظر یہ معاملہ تھا کہ سنی اتحاد کونسل کے دعوے کو مسترد کرکے آئین کے مطابق مخصوص نشستیں کس پارٹی کو دی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے اس بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے چار ایک کی اکثریت سے یہ نشستیں قومی اسمبلی میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت الیکشن کمیشن میں اس بات پر تو اتفاق رائے تھا کہ سنی اتحاد کو یہ سیٹیں نہ دی جائیں لیکن ایک رکن نے البتہ ان سیٹوں کو دیگر پارٹیوں کو دینے کے فیصلہ کی مخالفت کی تھی۔ البتہ اس رکن الیکشن کمیشن کے پاس بھی اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ پھر یہ نشستیں کسے دی جائیں۔
سپریم کورٹ کو بھی اسی مشکل سوال کا سامنا تھا ۔تاہم فل کورٹ کی اکثریت نے غیر روائیتی دانش سے کام لیتے ہوئے معروضی سیاسی حالات کے مطابق اس کا حل نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس بات میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا تھا کہ تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں نے 8 فروری کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد انہیں پارٹی کا نشان نہیں دیاگیا تھا اور ان امیدواروں نے متعدد مختلف نشانات کے تحت انتخاب میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ انتخابی نتائج کے بعد صرف الیکشن کمیشن ہی الجھن کا شکار نہیں ہؤا بلکہ خود تحریک انصاف بھی کوئی واضح اور سیاسی و قانونی طور سے درست فیصلہ نہیں کرسکی۔ کسی عدالتی فیصلے میں یہ اصول طے نہیں کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے پر پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہ دینے کا حکم دیا تھا لیکن الیکشن کمیشن کو یہ اختیار نہیں دیا تھا کہ وہ تحریک انصاف کو سیاسی پارٹی کے طور پر تسلیم کرنے سے ہی انکار کردے۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے انتخابات کے بعد جلد بازی میں پارٹی کا پارلیمانی گروپ بنانے اور مخصوص نشستوں پر دعویٰ کرنے کی بجائے ایک غیر معروف سنی اتحاد میں شامل ہوکر خود کو ان نشستوں کا مستحق بنانے کی کوشش کی جو درحقیقت اس کا حق تھا۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلہ میں یہ اصول واضح کیا گیا ہے۔
اس عدالتی فیصلہ سے یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ تحریک انصاف کی سیاسی قیادت ہی سطحی طور سے معاملات کو دیکھنے کی عادی نہیں ہے بلکہ اس پارٹی سے وابستہ بڑے بڑے قانون دانوں نے بھی اس آسان قانونی پہلو پر غور کرکے خود کو پارلیمانی گروہ کے طور پر منوانے کی کوشش نہیں کی۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے درحقیقت تحریک انصاف کو ایک غلط فیصلے کی اصلاح کا نیا موقع عطا کیا ہے۔ حکومت اور ناقدین کے نزدیک یہ ضرور مسلمہ قانونی اور عدالتی طریقہ کار سے انحراف ہوسکتا ہے لیکن جب سوال کا کوئی جواب موجود نہ ہو تو اسے تلاش کرنے کے لیے نیا راستہ تلاش کرنا بھی معیوب نہیں ہوتا۔ خاص طور سے موجودہ صورت حال میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کو لوگوں نے بڑی تعداد میں ووٹ دیے اور عمران خان سے وفاداری کا دم بھرنے والے ارکان اسمبلی نے ان کے حکم پر ہی اپنی آزاد حیثیت ختم کرکے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا حلف نامہ دیا تھا۔ اس صورت میں یہی طے کرناباقی تھا کہ کیا تکنیکی الجھنوں میں عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی ایک جماعت کو مخصوص نشستوں پر اس کے استحقاق سے محروم کردیا جائے۔ اکثریتی فیصلہ کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ عوام نے جس پارٹی کے لیے ووٹ دیے ہیں، مخصوص نشستیں بھی اسی حساب سے اسی پارٹی کو ملنی چاہئیں۔
اگرچہ یہ سادہ فیصلہ ہے اور اسے طے کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن قانونی بکھیڑوں اور الیکشن کمیشن کی متعدد غلطیوں کی وجہ سے سپریم کورٹ کو قانونی پہلوؤں کے ساتھ سیاسی معاملات کا جائزہ بھی لینا پڑا۔ ججوں نے یہ سوال اٹھایا کہ عوام نے جس پارٹی کے لوگوں کو کثیر تعداد میں ووٹ دے کر کامیاب کروایا ہے ، کیا مخصوص نشستوں پر اس کے حق کو یہ کہہ کر مسترد کردیا جائے کیوں کہ اس نے بروقت درست فیصلے نہیں کیے تھے۔ خوش قسمتی سے اس مرحلہ پر سپریم کورٹ نے روایت پسندی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کیا اور تحریک انصاف کا حق تسلیم کرتے ہوئے اسے 15 روز کے اندر اسمبلیوں میں اپنی اصل قوت ثابت کرنے کا موقع دیا ہے۔ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے نام نہاد ’آزاد ارکان‘ اب الیکشن کمیشن میں نیا حلف نامہ داخل کرواکے تحریک انصاف سے اپنی وابستگی ظاہر کرسکتے ہیں اور الیکشن کمیشن اس کے بعد تحریک انصاف کی فراہم کردہ فہرستوں کے مطابق اسے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں دینے کا پابند ہے۔ اس فیصلے کے بعد تحریک انصاف کو سنی اتحاد کونسل کی آڑ میں پارلیمانی سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ خود ایک پارلیمانی پارٹی کے طور پر عوام کی نمائیندگی کا حق ادا کرسکے گی۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ نے قانونی ہی نہیں بلکہ سیاسی راستہ ہموار کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ یہ فیصلہ عوام کے حق رائے کے احترام کے اصول پر استوار ہے ، اس لیے سب سیاسی پارٹیوں کو اختلاف یا اتفاق سے قطع نظر اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ملکی سیاسی قیادت اگر ہوشمندی اور صلح جوئی کا مظاہرہ کرے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو سیاسی تقسیم گہری کرنے کے لیے استعمال کرنے کی بجائے، اسے اسی جذبے سے قبول کرے اور اس پر عمل کیا جائے جس کی بنیاد پر اکثریتی ججوں نے یہ حکم دیا ہے تو یہی ملک و قوم کے لیے بہتر ہوگا۔ یعنی عوام جن لوگوں یا پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں، ان سے مخصوص نشستوں میں حصہ کا حق واپس نہیں لیا جاسکتا۔ اسی طرح جن پارٹیوں کو الیکشن کمیشن نے ان کی نمائیندگی سے تجاوز کرتے ہوئے ایک دوسری پارٹی کے حصے کی سیٹیں دے دی تھیں ، انہیں بھی اسے نقصان سمجھنے کی بجائے یہ مان لینا چاہئے کہ حق بحقدار رسید۔ تحریک انصاف ہی ان نشستوں کی مستحق تھی۔ یہ اسی کو ملنی چاہئیں۔
حکومتی پارٹیاں اور تحریک انصاف اگر اسی جذبے سے کام لیں اور اس عدالتی فیصلہ کو سیاسی رفو گری کے مقصد سے استعمال کریں تو ملک کا سیاسی ماحول بہتر ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر اس فیصلہ کو بھی کشتی کے اکھاڑے کی طرح کسی ایک کی جیت یا ہار کا معاملہ بنایا گیا تو سپریم کورٹ کے حکم سے حاصل ہونے والا موقع رائیگاں جائے گا۔ تحریک انصاف نے فوری طور سے جذباتی اور تند و تیز ردعمل ضرور دیا ہے اور اپنی توپوں کا رخ ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر کی طرف کیا ہے ۔ تاہم پی ٹی آئی کی قیادت کو سمجھنا چاہئے کہ اس کی سیاسی قوت میں اضافہ ہؤا، اس کی پارلیمانی موجودگی دستاویزی شکل اختیار کرلے گی۔ اس طرح اب اس پر بھی ملک کو مشکلات سے نکالنے کی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس قدر حکومتی پارٹیوں پر عائد ہے۔ البتہ اگر ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اگر مسلسل حق کی بات کی جاتی رہی اور منفی سیاسی نعرے بازے کے رجحان کو کم نہ کیا گیا تو حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سخت ردعمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو اس فیصلہ کی روشنی میں اپنی پوزیشن پر غور کرنا چاہئے۔ مناسب یہی ہوگا کہ وہ از خود اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تاکہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مواصلت کے ذریعے کسی غیر متنازعہ شخصیت کو اس عہدے پر فائز کرسکے۔ اس طرح وہ خود بھی ملک میں سیاسی طوفان کا زور کم کرنے میں کردار ادا کرسکیں گے۔ سکندر سلطان راجہ نے اگر اب بھی عہدے سے چمٹے رہے تو الیکشن کمیشن کی کارکردگی کے علاوہ اس کی نیک نیتی کے بارے میں مسلسل شبہات موجود رہیں گے۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

