یہ بات 1861ء کی ہے جب متحدہ ہندوستان پر گوروں کا راج تھا ،اس سال برطانوی حکومت نے اس خطے میں پہلی بار ریلوے ٹریک بچھانے کا فیصلہ کیا،13مئی 1861ءوہ تاریخی دن تھا جب پہلی بار کراچی سے کوٹری تک 169کلو میٹر طویل ریلوے لائن عام لوگوں کے لیے کھول دی گئی ،1897ء میں کیماڑی سے کوٹری تک ریلوے ڈبل ٹریک بھی بچھا دیا گیا،1947ء میں جب برصغیر میں برطانوی دور ختم ہوا تو اس وقت موجودہ پاکستان(اس وقت کا مغربی پاکستان)میں انگریزوں کے بچھائے ہوئے ٹریک کی طوالت 8124کلو میٹر تک پہنچ چکی تھی اور ریلوے ملازمین کی تعداد مجموعی طور پر ایک لاکھ 33ہزار748تھی ۔
برٹش راج اختتام پذیر ہوا،ریلوے کو پاکستانیوں نے سنبھال لیا،شروع شروع میں تو ریلوے کی حالت بہت بہتر رہی ،گوروں کا بنایا ہوا ریل سسٹم پائیدار اور مضبوط تھا ،ان کے سکھائے ہوئے مقامی افسران بھی قابل تھے ،یوں ریلوے کا نظام چلتا رہا،70ء کی دہائی تک ریلوے بہت اچھی نہ سہی مگر چلتی رہی ،ریلوے کا الگ بجٹ مختض ہوتا تھا،اس کے بعد ریلوے بتدریج زوال کا شکار ہوتی چلی گئی،آنے والی حکومتوں نے ریلوے کو نظر انداز کرکے ساری توجہ شاہراہوں پر کردی،وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ریلوے ٹریک بوسیدہ ہوتا چلاگیا،ریلوے پل اپنی مدت مکمل کرگئے،انجن بوڑھے ہونے لگے،ریلوے میں ہونے والی بھرتی میں میرٹ پیچھے رہ گیا سفارش آگے آگئی،اگرچہ اس دوران نئی بوگیاں اور انجن بھی خریدے گئے مگر وہ سسٹم میں کمی کو پور ا نہ کرسکے،ریلوے فریٹ سسٹم شروع میں بہت بہتر تھا وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ زوال کا شکار ہوا ، سرکاری سرپرستی میں نیشنل لاجسٹک سیل(این ایل سی)بھی مید ان میں آگیا،جس سے سامان کی نقل وحمل میں ریلوے کے حجم کا تناسب مزید کم ہوتا گیا ۔آج 2024ء ہے ۔
اگر پیچھے مٹر کر نظر ڈالیں تو انگریزوں کے جانے کے بعد جو حشر ہم نے ایک پرائم ادارے ریلوے کے ساتھ کیا ہے وہ اپنی جگہ خود ایک تاریخ ہے،ہمارے ہاں تو یہ بھی ہوا کہ جب دنیا الیکٹرک ٹرینوں کی طرف جارہی تھی ہم خانیوال سے لاہور تک الیکٹرک ٹریکشن کا چلتا ہوا سسٹم اکھاڑ رہے تھے،ریلوے کی ٹرینوں کو نجی شعبہ کے حوالے کررہے تھے،ہم نے اصل مرض تلاش کر نے کی بجائے ادارے کو نجی شعبہ کے حوالے اور ملازمین کی چھانٹیوں پر زور دیا،ویسے تو ہم ہرمیدان میں ہمسائے انڈیا سے مقابلے کی خواہش کرتے ہیں لیکن اگر آج انڈین ریلوے کو دیکھیں تو موازنہ میں شرم آتی ہے ،پاکستان ریلوے اربوں روپے کے خسارے سے دوچارجب کہ انڈین ریلوے اربوں روپے کے منافع میں چل رہی ہے،آج بھی ہمارے فطین پالیسی ساز ریلوے کو خسارے سے بچانے کے لیے ً روایتی طریقہ واردات ً ڈاؤن سائزنگ کی طرف جارہے ہیں،حالانکہ ہم ریلوے سے بتدریج ملازمین کی تعداد کم کرتے جارہے ہیں یہ اور بات ہے کہ افسران کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی،صرف ملازمین کم کرنے سے ریلوے بہتر نہیں ہوسکتی۔
ماضی کے اعداو شمار اس بات کی گواہ ہیں،75-1970میں ریلوے کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 33ہزار748تھی، 2000-1995ء میں ڈاؤن سائزنگ کی گئی اور یہ تعداد 97ہزار917رہ گئی،2005ءمیں مزید کم ہوکر 87ہزار988ہوگئی،2015ءمیں ملازمین کی تعداد 80ہزار اور 2019ءمیں یہ تعداد سکڑ کر 67ہزار 627رہ گئی،ہزاروں اسامیاں ختم ہونے کے باوجود ریلوے ترقی اور جدت کے ٹریک پر نہیں چڑھ سکی،یعنی صرف ملازمین کی چھانٹی ہی ریلوے کو بہتر کرنے کا واحد حل نہیں ہے،ریلوے کو بہتر کرنا کوئی ایسی راکٹ سائنس نہیں ہے،انڈیا سے سبق سیکھ لینے میں بھی کوئی برائی نہیں ہے،ہم ان کی اچھی پالیسوں کی مدد سے ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنا سکتے ہیں،حکومت ریلوے پر خصوصی توجہ کرے،اس کو مطلوبہ بجٹ فراہم کرے ،ادارہ سے کرپشن ختم کرے،تقرریاں اور بھرتیاں ،میرٹ پر ہوں ،پروموشن صرف کارکردگی کی بنیاد پر دی جائے،ٹریک اور رولنگ سٹاک کی حالت بہتر اور مطلوبہ تعداد میں ہو تو ریلوے کو ترقی کے ٹریک پر آج بھی چڑھایا جاسکتا ہے،مگر افسوس اس طرف توجہ دینے کی بجائے ایک بار پھر ریلوے میں ڈاؤن سائزنگ کا عمل شروع کردیاگیاہے،ابتدائی طور پر وزارت ریلوے نے ریشنلائزیشن کمیٹی کی سفارشات پر محکمہ کے 8شعبوں کی منظورشدہ 17ہزار371 اسامیوں میں سے 5ہزار494اسامیاں ختم کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی،جب کہ ریلوے کے شعبہ کمرشل وٹریفک،سول انجینئرنگ،میکنیکل انجینئرنگ اور دیگر شعبوں سے مزیدسینکڑوں اسامیاں ختم کرنے بارے ریشنلائزیشن کمیٹی کی سفارشات وزارت ریلوے کوپہلے ہی ارسال کی جاچکی ہیں،وزارت ریلوے نے جن 8شعبوں سے 5494اسامیاں ختم کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے ان میں ایڈمنسٹریٹو سٹاف(کلریکل) کی 1326اسامیاں،ویلفیئرسٹاف کی 15،انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی 85،شعبہ سٹورکی 400،میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کی 853،آفس سپرنٹنڈنٹس کی 22،برج ورکشاپ جہلم کی 157 اورریلوے ورکشاپ ڈویژن کی سب سے زیادہ 2636اسامیاں شامل ہیں،اب دیکھنا یہ ہے کہ ان اسامیوں کے ختم ہوجانے کے بعد ریلوے میں کتنی ترقی ہوتی ہے
فیس بک کمینٹ

