دیکھا جائے تو قوم پرستی کے جذبات منفی نتائج کی بجائے مثبت نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔یورپ/مغرب کی ترقی کے عقب میں قوم پرستی(نیشنلزم)کا رول زیادہ نمایاں ہے ۔نیشنلزم اگر” نیرو نیشنلزم "کا روپ دھار لے تو شدت پسندی/نراجیت یا انتہا پسندی جنم لیتی ہے ۔اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ قوم پرستی بعض اوقات سفاکیت،ذاتیات،جانبداری یا پھر ظلم کرنے کے رویے لے کر سامنے آ تی ہے ۔یہ مائنڈ سیٹ اکثر اوقات اس وقت اپنا بھیانک چہرہ دکھاتا ہے جب ظلم بڑھ جاتا ہے یا پھر قوم پرستی کی تحریکوں کی قیادت باشعور نہیں ہوتی یا پھر اسے اعلی انسانی قدروں کے لطیف احساس کا ادراک نہیں ہوتا۔اس طرح کی سفاک تحریکوں کا بھیانک چہرہ ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک یا پھر پاکستان (مہاجر قومی موومنٹ ،بعض بلوچ قوم پرستوں یا تین چار دہائیوں سے افغان طالبان وغیرہ) میں دکھائی دیتا ہے ۔قوم پرستوں کی یلغار میں بلوچوں نے کسی حد تک نراجیت کی شکل اختیار کر لی ہے ۔جس سے اب ریاست کے ساتھ عوامی سطح پر بھی آ پس میں ایک تصادم کی صورت سامنے آ نے کو ہے اوریہ خطرناک صورتحال ہو گی۔
پاکستان میں بلوچوں کا ایشو آ غاز ہی سے آ رہا ہے ۔یہاں رول صرف ریاست کی بے حسی کا نہیں بلکہ یہاں کے سرداروں کا کردار بھی بڑی حد تک مشکوک ہے ۔یہ سردار بڑے پیمانے پر وفاقی حکومت سے بلوچ عوام کے نام پر فنڈز لیتے ہیں جو عوام کی بجائے ان کی اپنی تعیشات پر خرچ ہو جاتے ہیں،نتیجے میں ایک خاص طرح کا احساس محرومی جنم لیتا ہے اور بلوچ عوام براہ راست ریاست پاکستان کو موردالزام ٹھہراتی ہے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس طرح کی غلط فہمیوں کو ختم کیا جائے۔ دیکھا جائے تو بہت سے گلے شکوے مل بیٹھ کر یا مذاکرات کے ذریعے دور کیے جاسکتے ہیں۔یہاں نظریاتی اختلاف کم اور حقوق کا مسلہ زیادہ ہے ۔مواصلات ،صحت ،روز گار اور تعلیم کے بہت زیادہ مسائل ہیں جنھیں ریاستی "ول” سے آ رام سے حل کیا جاسکتاھے۔انڈیا نے خالصتان،تامل ناڈو اور اب کشمیر میں حالیہ اقدامات سے ان تحریکوں کو منطقی انداز میں قابو میں کر لیا ہے ۔بلوچستان جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسے اوونرشپ کی زیادہ ضرورت ہے ۔یہ صرف پاکستانی معیشت کا گیٹ وے نہیں بلکہ مڈل ایسٹ ،انڈیا، فار ایسٹ اور ایران کا بھی گیٹ وے ہے ۔ اس کی ترقی/ پورے خطے کے لیے نہایت اہم ہے ۔ گوادر پورٹ تو ہمارے مستقبل کی ضامن ہے اسے سبوتاژ کرنے کے عالمی طاقتوں کی سازشوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان سازشوں کا مقابلہ بلوچوں کو بیگانگی کے رویوں کی بجائے اپنائیت کے جذبے سے کیا جاسکتا ہے ۔
اگر بلوچستان کے مسلے کو حل کرنے میں ریاست پاکستان سنجیدہ ہے تو پھر اس کا فوری حل سیاسی اور مذ اکراتی کے ساتھ بجٹ میں ایک خطیر رقم مختص کر کے بلوچوں کو وہ تمام حقوق دے دیے جائیں جن کے لیے وہ کئی برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔بلوچ مانڑو دھرتی واسی ھیں انھیں محبت اور اپنا بنا کر راضی کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہ سب اعتماد کی فضا قائم کیے بنا ممکن نہیں۔
فیس بک کمینٹ

