کوئٹہ : بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کے روز بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں کینسر کے امراض کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہر اللہ ترین بھی شامل تھے۔پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ دھماکے میں تین افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے زخمیوں میں سے چار کی ہلاکت تشویشناک ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں ایک مصروف بازار کے قریب ہونے والے دھما کہ ہوا تھا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق کوئٹہ کے وسط میں ڈبل روڑ پر ہونے والے اس دھماکے میں پولیس موبائل وین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔سینیئر ڈاکٹر کی ہلاکت کے باعث سول ہسپتال کوئٹہ میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ڈاکٹر ایک دوسرے کے گلے لگ کے رونے لگےبم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں بلوچستان کے معروف معالج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہر اللہ ترین بھی شامل تھے۔وہ کینسر کے امراض کے ماہرتھے اور ان کا شمار بلوچستان کے اچھے اور انسان دوست معالجوں میں ہوتا تھا۔ وہ دھماکے کے وقت وہاں سے گزر رہے تھے کہ دھماکے کی زد میں آکر زخمی ہوگئے۔ انھیں بھی دیگر زخمیوں کے ہمراہ ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی زخمی ہونے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر زندگی کی بازی ہارنے کی خبر سن کے ان کے ساتھی ڈاکٹروں کے علاوہ دیگر ڈاکٹر جمع ہوئے تھے۔ ان کی لاش کو جب ٹراما سینٹر سے نکالا گیا تو ڈاکٹر ایک دوسرے سے گلے لگ کر زور زور سے رونے لگے۔ ایک سینیئر ڈاکٹر پشتو زبان میں بار بار یہ کہتے رہے کہ ’ڈاکٹر مہراللہ اُلاڑے‘ یعنی ڈاکٹر مہر اللہ چلے گئے۔
خاتون اکلوتے بیٹے کی ہلاکت پر ہوش و حواس کھوبیٹھی
اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک 20 سالہ نوجوان بھی شامل تھا جو اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ دھماکے میں ان کے زخمی ہونے کی خبر سن کر بوڑھے والدین ٹراما سینٹر اس امید کے ساتھ پہنچے کہ ان کا بیٹا بچ گیا ہوگا۔ لیکن جب انھوں نے بیٹے کو وہاں نہیں پایا اور انھیں یہ بتایا گیا کہ ان کا بیٹا ہلاک ہوگیا ہے تو ان کی والدہ زور زور سے رونے لگیں۔ عینی شاہدین کے مطابق جب خاتون بیٹے کی لاش دیکھنے کے لیے ٹراما سینٹر پہنچی تو وہاں اپنی ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔
’دھماکے کے بارے زخمی افراد نے کیا بتایا‘
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ ڈبل روڈ پر دھماکہ پولیس موبائل کے پاس ہوا۔ دھماکے کے باعث پولیس کی گاڑی کو نہ صرف نقصان پہنچا بلکہ اس میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔دھماکے میں دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ پولیس کی گاڑی کے قریب ایک موٹر سائیکل بھی تباہ ہوگئی۔پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے ٹراما سینٹر کے باہر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جو دھماکے کا نشانہ بننے والی گاڑی میں سوار تھے۔دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار کامران ایوب نے بتایا کہ وہ گشت کے بعد واپس آرہے تھے کہ دھماکہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ دھماکے میں چار پولیس اہلکار دھماکے جُھلس گئے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے عبدل شفیق نے بتایا کہ وہ جائے وقوع کے پاس کھڑے تھے کہ پولیس کی گاڑی کے گزرنے کے ساتھ دھماکہ ہوا۔انھوں نے کہا کہ وہ دھماکے کی وجہ سے بے ہوش نہیں ہوئے تاہم زخمی ہونے کی وجہ سے خون زیادہ بہہ گیا۔ زخمی ہونے والے ایک پولیس اہلکار عطااللہ کا کہنا تھا کہ ’وہ گشت پر تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے بعد مجھے پتہ نہیں چلا اور گاڑی میں اندھیرا چھا گیا۔‘
24 گھنٹوں کے دوران نو افراد کی ہلاکت
بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تشدد کے واقعات میں نو افراد ہلاک اور 28 سے زائد زخمی ہوگئے۔ کوئٹہ میں بم دھماکے سے قبل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر ناکہ بندی کی۔ گوادر میں پولیس کے حکام کے مطابق گوادر اور کراچی کے درمیان ساحلی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران ایک مسافر بس سے چھ غیر مقامی مسافروں کو اتار کر انھیں گولی ماردی جس کے نتیجے میں ان میں سے پانچ ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔اسی طرح کوئٹہ کراچی شاہراہ کی مستونگ کے علاقے میں ناکہ بندی کے دوران سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں کو گولی ماری گئی تھی جس میں سی ٹی ڈی کا ایک سب انسپکٹر ہلاک اور دوسرا اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔ مسلح افراد کی فائرنگ سے مستونگ میں لیویز فورس کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا تھا۔جبکہ مستونگ کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو ڈرائیوروں کو اغوا کرکے لے گئے تھے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

