کوئٹہ : بلوچستان میں ایک ہی روز کے دوران 12 شہروں میں حملوں کے دوران 10 اہلکار اور 18 شہری ہلاک اور 37 شدت پسند مارے گئے
ہفتہ کی صبح شروع ہونے والے حملوں میں دارالحکومت کوئٹہ بھی نشانہ بنا اور شہر کے مختلف مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ شہر میں حملوں کا سلسلہ صبح چھ بجے کے بعد شروع ہوا اور ان کا آغاز شہر کے جنوبی علاقوں سے ہوا۔
شیخ زید ہسپتال کے علاقے سے بلوچستان یونیورسٹی کے اطراف مسلح افراد نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے کیے۔
سریاب میں ہزار گنجی کے علاقے میں بینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ خالق شہید پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس دوران دیگر سرکاری تنصیبات پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔
بعدازاں ان حملوں کا دائرہ کار ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک تک پھیل گیا، جہاں نو بجے ایک زوردار دھماکے کے بعد دوپہر ایک بجے تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔
ایدھی چوک کے قریب واقع یونیورسل کمپلیکس میں موجود ایک عینی شاہد ایاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے کمپلیکس کے شیشے ٹوٹ گئے۔
دھماکے کی وجہ سے امداد چوک سے جناح روڈ تک کے علاقے میں ہوٹلز کے شیشے ٹوٹ گئے اور دکاندار، دکانیں بند کر کے چلے گئے۔
سول سیکریٹریٹ میں بھی دفاتر میں کوئی کام نہیں ہوا، جبکہ ضلع کچہری اور ماتحت عدالتوں میں بھی کام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔
اس دوران ریڈ زون کے اطراف کے علاقوں سے بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے صحافیوں کو سول ہسپتال جانے سے بھی روک دیا گیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق بلوچستان میں 12 مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے جن میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر شامل ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنیچر کو دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات میں کم از کم 37 شدت پسندوں اور 10 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ سکیورٹی ذرائع نے جوابی کارروائیوں میں 67 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
کوئٹہ
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں سنیچر کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز ہوا اور دہشت گردوں نے سریاب روڈ اور ہزار گنجی سے لے کر ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک کے علاقوں میں حملے کیے۔ایدھی چوک پر ایک زوردار دھماکہ بھی ہوا جس کی نوعیت کا تعین نہیں ہو سکا۔
مستونگ
پولیس حکام کے مطابق مستونگ جیل پر ہونے والے حملے کے دوران 27 قیدی بھی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
نوشکی
ضلع نوشکی میں حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے گھر پر بھی حملہ کر کے اُنھیں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
خاران
مقامی پولیس اہلکار کے مطابق خاران میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر ہونے والے حملے میں شاہد گل سمیت سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق اُن کے گھر اور گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
گوادر
سکیورٹی ذرائع نے گوادر میں بھی حملے کی تصدیق کی ہے، جہاں خضدار سے تعلق رکھنے والے خاندان کے 11 افراد کو ہلاک کیا گیا، ان میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
پسنی
بلوچستان کے ضلع پسنی میں ایک خاتون خود کش حملہ آور کی جانب سے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے دفتر پر حملے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے، تاہم حکام نے یہاں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مچھ
ضلع مچھ میں پولیس اہلکار اور مقامی صحافی کے مطابق لوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس حوالے سے مساجد میں اعلانات بھی کیے گئے ہیں۔
( بشکریہ :بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

