ملتان ۔۔ گرد و پیش رپورٹ ۔۔ رضی الدین رضی سے ) ۔سینئر صحافی، ملتان پریس کلب کی مجلس عاملہ کے سابق صدر اور کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے روح رواں گوہر جاوید کی تیسری برسی آج منائی جا رہی ہے ۔ ان کا 13 اپریل 2023 کو 69 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا ۔ گوہر جاوید کو ملتان میں کورٹ رپورٹنگ کا بادشاہ کہا جاتا تھا ۔ اس میدان میں انہوں نے بہت سے صحافیوں کی تربیت بھی کی جن میں نوید شاہ اور یوسف عابد کے نام قابل ذکر ہیں ۔گوہر جاوید کم و بیش پچاس برس صحافت سے وابستہ رہے ۔ انہوں نےساری زندگی عسرت میں گزاری .
سجاد جہانیہ ایک فیچر میں لکھتے ہیں ’’ گوہر جاوید 21 اگست 1953ءکو لاہور میں برانڈرتھ روڈ کی رام گلی نمبر6کے ایک مکان میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد اور ماموں دلی سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد غلام رسول نے وہ مکان اپنے برادر نسبتی کو دیا اور خود ملتان چلے آئے کہ پیر فقیروں کا شہر ہے وہیں رہیں گے۔
گوہر جاوید کی عمر اُس وقت تین چار سال کی تھی۔ غلام رسول کے ہاں تین بیٹیاں پیدا ہوئی مگر تینوں ہی شیر خوارگی کی عمر میں وفات پا گئیں ۔ گوہرجاوید کو پیر کالا سکول حرم گیٹ میں داخل کروایا گیا۔ چھٹی جماعت تک وہیں پڑھا پھر ماموں ان کو اپنے پاس لاہور لے گئے۔ دو سال وہاں رہے اور واپس آ کر بخاری پبلک سکول میں داخلہ لیا‘ میٹرک یہیں سے کیا پھر دولت گیٹ کے پاس جو فنی تربیت کا سرکاری کالج ہے وہاں ٹیلی وژن کورس میں داخلہ لیا مگر کرکٹ کا جنون تھا۔ گوہر سارا دن کرکٹ کھیلتے‘ پڑھائی کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر تھی ۔
پڑھائی کو خیر باد کہہ کر گوہر جاوید نے چھاونی کے مرکزی بازار میں بیکری اور جنرل سٹور کے سامان پر مشتمل دکان کھول لی جو سانجھے کی ہنڈیا تھی سو تین ہی چار برس بعد چوراہے میں پھوٹ گئی۔ گوہر جاوید کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ضیاءالحق مرحوم ملتان میں بریگیڈیئر ہوا کرتے تھے اور ان کی دکان کے مستقل گاہک۔ پھر شاہ رسال روڈ پر مستو کے اکھاڑے کے قریب ایک اور دکان کھولی‘ یہ بھی ایک دوست کے ساتھ مشترکہ تھی۔ دکان میں چوری ہو گئی تو سانجھے داروں کے بیچ ٹھن گئی اور یہ کاروبار بھی تمام ہوا۔ ہاں! اس سے قبل ”گوہر سبزی فرش“ کے عنوان تلے حرم گیٹ چوک میں انہوں نے سبزی کی دکان بھی کھولی۔ کہتے ہیں تجربہ نہیں تھا بڑی دکان کھول بیٹھا‘ اس کو بھرنے کے لئے ڈھیر ساری سبزی لانا پڑی مگر سب کی سب فروخت نہ ہو پاتی چناں چہ ان سستے دنوں میں کم و بیش پانچ سو روپے روز کا خسارہ برداشت کرناپڑا چناں چہ اس کو بند کر دیا۔‘‘
گوہر جاوید نے بہت متحرک زندگی گزاری ۔ وہ سائیکل پر رپورٹنگ کرتے تھے ۔ ملتان کے اخبارات اعلان ، سنگ میل ، نوائے ملتان سے وابستہ رہے ۔ ذاتی مکان بیچ کر ہفت روزہ ’’ گوہر ‘‘ کے نام سے اخبار بھی نکالا جو بعد ازاں بند کرنا پڑا ۔
فیس بک کمینٹ

