لاہور : سینئر صحافی عبد المجید ساجد کو 24 اپریل کی رات نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اغواء کیا۔ وہ روزنامہ جنگ لاہور کے سابق میگزین رپورٹر ، ٹی وی ٹوڈے کے ڈائریکٹر نیوز اور لاہور پریس کلب کے سابق سیکرٹری ہیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق، رات تقریباً چار بجے انہیں گھر سے اٹھایا گیا اور بعد ازاں انہیں صبح کے وقت لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ پر چھوڑ دیا گیا۔لاہور پریس کلب نے اس واقعے پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کلب کی جانب سے جاری کردہ مذمتی بیان میں عہدیداروں نے عبد المجید ساجد کے اغواء کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عبد المجید ساجد کو ان کے گھر سے نامعلوم افراد ہمراہ لے گئے اور سات گھنٹے بعد چھوڑا گیا۔ لاہور پریس کلب کے صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔پنجاب اسمبلی پریس گیلری کی طرف سے بھی صحافی عبد المجید ساجد کے واقع پر مذمتی بیان جاری کیا گیا ۔بیان میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی پریس کلب کے سابق سیکرٹری اور سینئر صحافی عبد المجید ساجد کی پراسرار گمشدگی اور سات گھنٹے کے بعد بازیابی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے،پریس گیلری کمیٹی حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت سے عبد المجید ساجد کے ساتھ پیش آنے والے اس صحافی دشمن واقعہ کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ پریس گیلری کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ ورکنگ جرنلسٹس میں موجود بے چینی کی لہر کا خاتمہ ہو سکے۔
دوسری جانب ملتان میں روزنامہ اوصاف سے وابستہ صحافی ارشد ملک کو مبینہ طور پر 22 اپریل کی شب نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا۔ ارشد ملک کے اہل خانہ کے مطابق وہ اس وقت سے لاپتہ ہیں اور ان کے اغواء کی ایف آئی آر تاحال درج نہیں کی گئی۔ ارشد ملک کے بیٹے نے وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد نے ملتان کے ٹائمز انسٹی ٹیوٹ کے جعلی ڈگری اسکینڈل کو بے نقاب کیا تھا، جس کے بعد سے انہیں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ 22 اپریل کی شام انہیں تھانہ صدر سے ڈی ایس پی کی کال آئی کہ ادارے کے مالک کی جانب سے ان کے خلاف درخواست آئی ہے اور وہ تھانے میں پیش ہوں۔ والد اپنے دفتر سے تھانے کے لیے روانہ ہوئے لیکن اس کے بعد سے ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ ارشد ملک کے بیٹے کے مطابق، ان کے اغواء کی درخواست تھانہ کینٹ میں دی گئی ہے لیکن پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔وائس پی کے کی طرف سے ملتان کے تھانہ کینٹ کے انویسٹی گیشن آفیسر محمد اکبر سے رابط کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے انکار کر دیا۔ واقعہ کے خلاف ملتان پریس کلب کے باہر صحافی برادری نے احتجاج کیا اور ارشد ملک کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
( بشکریہ : وائس پی کے )
فیس بک کمینٹ

