الحمدللہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے بھر پور ، مذہبی جنونی سوچ پر مبنی حکومت کی بین الاقوامی ایزی لوڈ کی مدد سے تیار کی گئی ایک سازش ، بھارت کی ذلت آمیز شکست کے ساتھ ناکام ہوئی
یہ کوئی مقامی یا مودی حکومت یا بی جے پی کی بانجھ سوچ کی پیداوار نہیں کی بنیادی طور پر یہ اس بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے جو پچھلے 10 سالوں سے اس علاقے میں پروان چڑھ رہی ہے یہ سازش اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ سے ہے اسرائیل میں بھی ایک مذہبی جنونی شخص برسر اقتدار ہے اور جو حقیقت میں اتنا زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہے لیکن وہ بنیادی طور پر اس فلسفے پر چلتا ہے کہ اس کی والدہ پر بہت زیادہ مظالم ہوئے تھے اور وہ اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بنا کر چھوڑے گا ادھر نریندر مودی ہیں جو تعلیم یافتہ نہیں ہیں ان کی سیاسی جماعت نے ہمیشہ ایک تقسیم کی سیاست کی اور اس کی سیاست کی بدولت اب بھارت دنیا میں ایک ہندو ریاست کے طور پر جانا جانے لگا ہے جبکہ اس کی ابتدا بنیادی طور پر ایک سیکولر ریاست کے طور پر کی گئی تھی نریندر مودی اور ان کی جماعت جب سے برس اقتدار ائی ہے انہوں نے مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے لیے جینا حرام کر رکھا ہے اس سازش کی ابتدا بن یامین نیتن یاہو کے دورہ انڈیا سے ہوئی پھر مودی جی تشریف لے کر گئے اسرائیل وہاں پر بھی ان کو ان کی ذہنی اوقات سے زیادہ پروٹو کول ملا تو شاید یہ سمجھ بیٹھے کہ اب ہم اس علاقے کی طاقت ہیں امریکہ کے تھنک ٹینک کے ایک پروفیسر ہیں جیفری ڈس ایکس انہوں نے ایک لیکچر بھی دیا تھا مضامین بھی تحریر کیے تھے کہ درحقیقت دنیا میں سات جنگیں ہوں گی اس میں انہوں نے بتایا تھا کہ یہ جنگ بنیادی طور پہ اس کی ابتدا تو امریکہ ہی کرے گا امریکہ اس کی جنگوں کا منصوبہ ساز ہوگا یہ جنگیں ابتدا ہوں گی بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے اور اس کے نتیجے میں پہلی کوشش میں شام تباہ ہو گیا اور وہاں پر ایک بڑی خوفناک قسم کی دہشت گرد تنظیموں نے جنم لیا اور حقیقتا شام کی اتنی کمزوری کے بعد وہاں پر جو دوسری جس چیز نے جنم لیا وہ تھی مقامی طور پر دہشت گرد اس کے بعد یمن کی باری ائی یمن اور سعودی عرب کو لڑایا گیا اس کے ساتھ سوڈان میں فوجی ایکشن کیے گئے صومالیہ میں فوجی ایکشن کیے گئے اور ایک خواہش جو ہمیشہ سے اسرائیل کی رہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے ایران اور امریکہ کی جنگ ہو جائے جس میں وہ اب تک ناکام ہے لیکن اس میں تبدیلی اس وقت ائی جب مودی صاحب تیسری بار کامیاب ہوئے اور اس میں اس منصوبے میں اب اس جنگ کو جنوبی ایشیائی سرحدوں پر بھی لانے کی کوشش کی گئی اور کوشش کی گئی کہ پاکستان کو بھی اس جنگ میں لپیٹا جائے اب اس مقصد کے لیے کوششیں تو شروع ہو ہی چکی تھی لیکن اب وقت کا انتظار تھا اور وقت یہ تھا کہ پاکستان شاید مالی طور پر اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ اس کو کبھی بھی ایک ترنوالہ سمجھا جا سکتا تھا اللہ کے فضل و کرم سے ہماری پاک فوج کی کوششوں سے اور چائنہ کے تعاون سے پاکستان اس مالک بحران سے نکلنے لگا جیسے ہی نکلنے لگا تو یہ سمجھا گیا کہ یہ شاید اگر پاکستان مزید مالی طور پر مضبوط ہوا تو شاید اس کے ساتھ لڑنا اتنا اسان نہ ہو دوسری چیز وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے تھے کہ پاکستان کی فوجی صلاحیت کیسی ہے کیونکہ پاکستان کی نے الحمدللہ اپنے بل بوتے پر دفاعی میدان میں بڑی ترقی کی 1934 میں جب پاکستان نے پر یسکر ترمیم کے بعد یہ دیکھا کہ پاکستان کو بین الاقوامی امداد نہیں ملے گی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے میزائل پروگرام کی بنیاد رکھی اصل میں کہتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کی فائل پر دستخط نہیں کیے حقیقت میں اپنی حکومت کے خاتمے کی فائل پر دستخط کیے کہا یہ جاتا ہے کہ جس وقت 1993 میں میں نے بھی اس وقت نیا پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا تھا اور میری ہمیشہ بین الاقوامی اور دفاعی امور میں دلچسپی ہمیشہ سے تھی اور ہے اور رہے گی اس وقت پاکستان میں چھ امریکی سفیر کرسٹینا روکا کی سرپرستی میں ائے اور اس اتنے بڑے دورے کا مقصد صرف محترمہ کو ان کے میزائل پروگرام کے عزائم سے باز رکھنا تھا محترمہ کو باقاعدہ دھمکی دی گئی لیکن ایک چیز اچھی تھی کہ اس موقع پہ اپوزیشن کی قیادت میاں نواز شریف کے پاس تھی پاکستان ارمی اور محترمہ نے باہمی طور پر فیصلہ کیا کہ ہم ہر حال میں پاکستان کو میزائل پروگرام دے کر رہیں گے اور پاکستان کے میزائل پروگرام کا ابتدا ہو گئی اس کے بعد وقت اگے بڑھتا رہا اور پاکستان بالاخر اکیڈمی قوت بھی بن گیا یہ تو خیر ایک ماضی کا قصہ ہے ہم واپس حال میں اتے ہیں اب یہ سب ایک بہانہ تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ ابھی بھی مودی حکومت کو ڈی جی ائی ایس پی ار کے ان سوالات کا جواب دینا باقی ہیں کہ یہ واقعہ تو 22 اپریل کو ہوا لیکن اپ اس سے پہلے اپنی فوجی سرگرمیاں شروع کر چکے تھے اپ اپنے جنگی طیاروں کو پاکستانی بیسز کے نزدیک لا چکے تھے اپ کی ارمرڈ اور دیگر سٹرائک کورز پاکستان کے نزدیک ا چکی تھی اس کی کیا وجہ تھی کیا اپ جانتے تھے کہ 22 اپریل کو کوئی واقعہ ہونے لگا اور ہم نے یہ حرکت کرنی ہے نہیں اصل میں یہ سارا باہمی منصوبہ تھا اس کے بعد پہلگام واقعہ کے ہونے کے بعد جب حکومت پاکستان نے یہ کہا کہ ہم اس واقعے کی پوری کی پوری تحقیقات کے لیے تیار ہیں تحقیقات کی بجائے 10 منٹ بعد ایف ائی ار کاٹ دی گئی جو اس بات کی غمازی تھی کہ شاید جنون اور گھمنڈ میں مبنی ہندو نواز بھارتی جنتہ پارٹی کو یقین ہو چکا تھا کہ شاید اب ہم ہر حال میں پاکستان کو تاریخی طور پر کوئی بہت بڑا زخم دینے والے ہیں لیکن وہ یہ بات بھول گئے کہ وہ قومیں جو اپنے بل بوتے پر اپنے کام کیا کرتی ہیں وہ اندرونی طور پہ ہمیشہ مضبوط ہوتی ہیں لیکن وہ بھی اس کا اظہار کا موقع چاہ رہی ہوتی ہیں اور پاکستان کی پاک افواج پاکستان کے سائنسدانوں کے تیار کردہ میزائل پروگرام اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں ترقی پاکستان بھی شاید چاہتا تھا کہ دنیا دیکھ لے کہ ہم کیا ہیں اور ہمیں اب اسان نہ سمجھا جائے بہرحال اچانک ایک اپریشن لانچ ہوا جس کا نام اپریشن سندور رکھا گیا اور اس اپریشن سے دور کی ابتدا پاکستان کے مذہبی مقامات پر یا عبادت گاہوں پر حملوں سے ہوئی سندور کا خالصتا ہندو مذہب سے تعلق ہے مسلمان خواتین سندور نہیں لگاتی سندور ہمارے مذہبی روایات کا حصہ نہیں ہے سندور سکھ مذہب کی بھی روایات کا حصہ نہیں عیسائیت کا بھی نہیں سندور خالصتا ہندو مذہب کی خواتین اپنے ظاہر ہے کہ اپنے سہاگ کی سلامتی اور اپنی شادی شدہ ہونے کی نشانی کے طور پر استعمال کرتی ہیں بہرحال یہ اعلان ہو گیا کہ یہ مکمل طور پر ایک مذہبی جنگ ہے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی فوجی جو پہلے لڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کو مذہبی بنیادوں پر اکسایا جائے اگر اپ کبھی اسرائیل اگر اس اپ تلاش کریں کہ اس جنگ میں اور اسرائیل کی فوجی تیاری میں کیا ہے اسرائیلی فوجی تیاریوں کو بھی ایک جنونی اعتبار سے مذہبی فوجی کے طور پر تیار کیا جاتا ہے انہیں عظیم تر اسرائیل کو بنانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے دنیا پر یہودیت کے اقتدار کو قائم کرنا ہے اور وہ اصل میں اس کو ایک مذہبی جنگ کے طور پہ تیار کرتے ہیں سندور رکھنے کا مقصد اور اس حملوں کی ابتدا پاکستان کے مذہبی مقامات سے کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ فوجیوں کو مذہبی جنونی بنیاد پر تیار کر سکیں کہ انہوں نے ہر حال میں یہ جنگ جیتنی ہے بہرحال ایک مسلم خاتون ایک مسلم خاتون کو بعد میں جو کہ شاید کرنل کے عہدے پہ ہیں سامنے لایا گیا اور کوشش کی گئی کہ وہ الزام یا مذہبی جنونیت کا وہ الزام ہے اس کو دھویا جا سکے لیکن اس طرح کی دکھاؤں سے چیزوں سے حقیقت نہیں چھپتی اور حقیقت اپنی جگہ رہتی ہے دوسرا اس اپنے ابتدائی رات کو اپریشن کا مقصد یہ بھی تھا کہ کیا جائے کہ کیا پاکستان کے اندر سے کوئی مزاحمت اتی ہے اگر مزاحمت نہیں اتی تو پھر شاید اس جنگ کا دوسرا بڑا کردار اسرائیل بھی کود پڑتا اور وہ منصوبہ جس میں کہ پاکستان کی ابتدائی طور پر ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تباہ کرنا ایئر ڈیفنس کو تباہ کرنا پاکستان کے معاشی اور ابی اثاثوں کو تباہ کرنا اور مطلب پاکستان کو ایک لولی لنگڑی ریاست میں تبدیل کرنا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھارت کی طرف دیکھتی رہے یا بھارت کے سامنے یا بھارت کے توسع پسند انہ عزائم کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے اگر پاکستان پہلے ہی رات جو شاندار مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے جس میں رافیل طیارے بھی شامل ہیں تو یہ بھارت کی انکھیں کھل گئی کہ ہم تو شاید پاکستان کو بڑا اسان لے رہے تھے لیکن اصل میں یہ تو لینے کے دینے پڑ گئے اب یہ وہ زخم تھا جس کا وہ بدلہ لینا چاہ رہا تھا اس کے بعد ان کے اپنے ہاں مذہبی جنونی میڈیا مذہبی جنونی عوام عوام کو جذباتی کیا گیا وہ حقیقت میں مودی جی کے گلے کا عذاب بن گئی کہ وہ عوام خاموش ہی نہیں ہو رہی اور وہ ہر حال میں جنگ چاہتی تھی اب اس کی تسلی دینے کے لیے مجبورا ان کو ایک بار پھر ایک بار پھر پاکستان کے ایئر بیسز پر ہم نے کرنے پڑے لیکن یہ ایئر بیسز پر حملے نہیں تھے دراصل یہ پاکستان کے شاہینوں کو جگایا گیا پاکستان کے شیروں کو چھیڑا گیا اور یاد رکھیے گا کہ وہ کہتے ہیں
زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ہوتو لشکر نہیں دیکھے جاتے
ادھر پاکستان میں کچھ مہاتما بھی تھے جن کا علاج بہت ضروری تھا او جی یہ تو اسٹیبلشمنٹ کی اسٹیبلشمنٹ سے جنگ ہے اور جی یہ جنگ تو جناب پاکستان کے سیاسی معاملات سے توجہ ہٹانے کی جنگ ہے اور جی یہ تو ہر دو چار سال بعد ایسی جنگ ہو جاتی ہے اور جی جب دونوں فوجوں کو کچھ بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے تو ایسا ماحول پیدا کر دیتی ہیں میرے بھائی جتنی گھسی پیٹی اپ کی سوچ ہے اتنا ہی گھسا بیٹا اپ کا بیانیہ ہے اور جتنی اپ کی سوچ پست ہے اللہ جانے اپ کے جذبے کتنے پست ہوں گے اب دنیا بدل رہی ہیں دنیا کو بدلی ہوئی نظر سے دیکھیں یہ جنگ جو پاکستان پر زبردستی تھوپی جا رہی تھی یہ جنگ بین الاقوامی سازش کا حصہ تھی اور ہمارے کمزور کوتاہ چھوٹے ذہن شاید اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھے اور وہ فیس بک کی زمبیز جو یہ اصل میں یہ چاہتے تھے کہ استغفر اللہ استغفر اللہ میرے منہ میں خاک کہ پاکستانی فوج کو کامیابی نہ ہو ان کے منہ پر کالک زیادہ ملی گئی ہے
اس کم وقت اور دباؤ کے ماحول میں پاکستان کی فوجی قیادت نے ایک اپریشن کی بنیاد رکھی جس وقت غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کم اور کفار کی تعداد زیادہ تھی تو اللہ تعالی نے ایک ایت نازل کی اور اس ایت میں بنیان مرصوص سیسہ پلائی دیوار کا لفظ استعمال کیا گیا اللہ کے لیے لڑنے والوں کے لیے اور اس کے ساتھ ساتھ شاید وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ پاکستان کی فوجی قیادت بھی شاید ایک حافظ قران کے پاس ہے جو قران کی ایک ایک ایت کو دلی طور پر یاد رکھے ہوئے شاید پاکستان کے چیف اف ارمی سٹاف کے ذہن میں یہ بات بھی ہوگی کہ سورہ العادیت میں صبح کے وقت حملہ کرنے والے گھوڑوں کا ذکر ہے وہ گھوڑے جن کے قدموں سے چنگاریاں نکلتی تھیں اور وہ گھوڑے جن کی دہشت سے ہی دشمن بغیر لڑے زیر ہو گیا تھا شاید انہوں نے صبح پہ حملے کا وقت اس لیے انتخاب کیا شاید فجر کی نماز ان ماؤں کے بچوں نے کیسے پڑھی ہوگی اللہ جانے ان ماؤں نے اپنے دامن میں کتنے انسو بہائے ہوں گے کہ یا اللہ ہمارے لعل ایک چھوٹے ہیں اور اپنے سے بڑے طاقتور اور سازشی دشمن سے لڑنے جا رہے ہیں یا اللہ ان کو کامیابی عطا فرما اللہ جانے کتنے انسو بہے ہوں گے کتنے دعا ہاتھ کے لیے اٹھے ہوں گے کتنے تسبیح کے دانوں پر اللہ اکبر اور یا فتح کی تسبیح پڑھی گئی ہوگی لیکن پاکستان کے شاہینوں نے وہ تاریخ رقم کی کہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا کیا گجرات کیا دہلی جہاں پر پاکستان کے جے ایف تھنڈر اور پاکستانی شاہینوں کے تیاروں کی گھن گرج اور نیچے خوفزدہ اور مودی اور اس کی کابینہ جو دنیا جہان کی منت ترلے کر رہی ہے کہ خدا کے واسطے جنگ بندی کرا دو اور ہم ائندہ یہ غلطی دوبارہ نہیں کریں گے پاکستان کے میزائل چلانے والوں نے وہ شاندار تاریخ رقم کی کہ وہ بھارت جو کئی دن سے یہ کہہ رہا تھا کہ میں جنگ بندی نہیں کروں گا وہ جے ڈی وینس جو کہ پرو اسرائیل اور بھارت کا داماد ہے وہ یہ کہہ رہا تھا کہ ہم غیر جانبدار رہے تھے جب بھارت کو جوتے پڑتے دیکھے تو پھر غیر جانبداری بھی بھول گئے اور ہمارے وہ دوست نما دشمن جو بظاہر غیر جانبدار تھے ان کو بھی غیر جانبداری بھول گئی اور وہ جنگ بندی کروانے کے لیے چل پڑے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر پاکستان اس سے اگے مزید گیا اور حملوں کا ایک مزید اور حملوں کا ایک مزید دور چلا تو شاید چھارت کی ابتدائی طور پہ پاکستان کے نزدیک سارے بیس تو نیست و نابود ہو گئے تھے پاکستان نے شاید اس سے اگے بڑھ کر ان کی دوسری دفاعی لائن کو بھی تباہ نہ کر دے اور اس علاقے کی بڑھتی ہوئی قوت جس کی بنیاد پر شاید انہوں نے اپنے توثیق پسندانہ عزائم اگے بڑھانے ہیں کہیں ختم نہ ہو جائے الحمدللہ پاکستان کی کامیابی یہ ہوئی کہ پوری دنیا نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے شاہینوں نے اپنے اپ کو فضاؤں کا بادشاہ ثابت کیا پاکستان کے میزائل ٹیکنالوجی نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم نے کسی سے نہیں لی خود بنائی لیکن دیکھو ہم دنیا میں سب سے بہتر ہیں ویسے تو خیر میں اپ کو ایک بات بتا دوں کہ پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ پاکستان کے میزائل پروگرام کے حوالے سے کچھ کمپنیوں پر پابندیاں لگا چکا ہے جو پاکستان کو اس کے سپیئر پارٹس دیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو بھی پاکستان کے میزائل پروگرام کو لے کر اب بہت سارے خدشات پیدا ہو چکے ہیں جو مزید بڑھ جائیں گے لیکن اس جنگ کے بعد ہم اس کامیابی کو مستقل کامیابی نہ سمجھیں ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر اتحاد پیدا کریں ہماری سیاسی قیادت زیادہ بالغ نظری کا مظاہرہ کرے ہم باہمی اختلاف چھوڑ کر پاکستان کو ایک معاشی قوت بنائیں اگر ہم معاشی قوت بن گئے اور ہماری یہ دفاعی صلاحیت رہی تو یہ ذہن میں رکھیے گا کہ انڈیا کا سائز بڑا سائز تو ضرور ہے لیکن دنیا پاکستانی معاشرے کو ابھی بھارت سے زیادہ ایک بہتر معاشرہ سمجھتی ہیں ضرورت صرف پاکستان کی معاشی مضبوطی کی ہے ضرورت اندرونی اتحاد کی ہے ضرورت ہماری سیاسی سوچ میں ایک بالغ نظری کی ہے اگر ہم اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت ائندہ جرات نہیں کرے گی وہ اس طرح کی حرکت کر سکے یہ ضرور ہے کہ اسرائیل کو بھی سمجھ اگئی ہوگی کیا پاکستان کے ساتھ براہ راست یا کسی اور ذریعے سے کوشش نہیں کرنی لیکن یاد رکھیے گا یہود و ہنود پاکستان کے دوست نہیں ہیں وہ اپس میں دوست ہیں اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے رہیں گے ہمیں ہمارے پاکستانی شہریوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ہمیں تعلیمی ترقی کی ضرورت ہے ہمیں جدید علوم سیکھنے کی ضرورت ہے ہم بجائے اس کے کہ فیس بک پر بیٹھ کر جنگ کریں ہم عل م کے میدان میں جنگ کریں ہم معاشی جنگ جیتیں اور پاکستان جو کہ الحمدللہ ہمیشہ رہنے کے لیے تھا ہمیشہ رہے گا ہم اس قابل ہو سکیں کہ جیسے کل بیٹھے بیٹھے میرے گھر میں میری بیٹی نے مجھ سے کہا کہ بابا غزا والے بھی تو سوچتے ہوں گے کہ کاش ہماری بھی کوئی فوج ہوتی کوئی ہم پر بھی ہم نے روکتا تو پاکستان اس قابل ہو سکے کہ اپنی سرحدوں سے بڑھ کر اسلامی دنیا میں ہونے والے ہر ظلم کو روک سکے الحمدللہ وہ دن ضرور ائے گا کہ پاکستان وہ منزل ضرور حاصل کرے گا انشاءاللہ
پاکستان زندہ باد
پاک فوج زندہ باد

