تحریک انصاف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی اس تجویز کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ بات چیت شروع کرنے اور اعتماد سازی کے لئے حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کو ہمسایہ ملک کے حوالے کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایسے کسی اقدام کو قومی سلامتی اور ملی غیرت کے منافی قرار دیا ہے۔
شاید یہ تجویز اور اس پر کی جانے والی تنقید دونوں ہی انتہائی نقطہ نظر ہیں اور دونوں پارٹیوں کے لیڈروں نے اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے پاک بھارت تعلقات، دہشت گردی کی تاریخ اور پاکستان سے بھارت میں سرگرم رہنے والے جہادی گروہوں کے افسوسناک ماضی کو پیش نظر نہیں رکھا۔ بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات شروع کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ رعایت دینے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے لیکن ایسے لوگوں کو دشمن ملک کے حوالے کرنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے جنہیں طویل عرصہ تک ریاست کے اثاثوں کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اور جن کے بارے میں حقیقی معلومات منظر عام پر نہیں ہیں۔ حتی کہ ایف اے ٹی ایف کے دباؤ کے بعد لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف کارروائی کی گئی لیکن پھر بھی انہیں ان تمام جرائم کا سزا وار نہیں ٹھہرایا جاسکا جو ان سے سرزد ہوئے یا جن کا الزام ان پر عائد ہوتا ہے۔
حافظ سعید و مولانا مسعود اظہر جیسے لوگوں کو ایک ایسے ہمسایہ ملک کے حوالے کرنا کسی صورت قومی مفاد میں نہیں ہوسکتا جو پاکستان کو بدنام کرنے اور عالمی فورمز پر اس کے خلاف دہشت گرد عناصر کی اعانت کا مقدمہ بنانے میں ہر حد سے گزرجاتا ہے۔ پاکستان نے گو کہ اب ہر قسم کے جہادی گروہوں کا خاتمہ کیا ہے اور انہیں منظر نامہ سے ہٹا دیاہے۔ پاکستان خود دہشت گردوں کے خلاف زندگی و موت کی لڑائی لڑ رہا ہے ۔ خیبر پختون خوا کے علاوہ بلوچستان میں مسلح گروہ مسلسل ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں اور سکیورٹی فورسز نہایت بہادری سے ان کا مقابلہ کررہی ہیں۔ پاکستان نے شروع سے ہی ملک میں ہونے والی دہشت گردی پر افغانستان کی طرف سے سہولت کاری کا حوالہ دیا ہے ۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت اور سرکش گروہوں کی مالی و عسکری امداد کا ایک ٹھوس ثبوت تو کلبھوشن یادیو کی صورت میں اس وقت پاک فوج کی حراست میں ہے۔
پاکستان نے مئی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد کھل کر بھارت کی تخریبی سرگرمیوں اور پاکستان میں انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کا ذکر کرنا شروع کیا ہے۔ جبکہ بھارت تو گزشتہ دو دہائیوں سے یہی بیانیہ پوری دنیا کو باور کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بدقسمتی سے یہ ماننے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ مئی کے دوران پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت سے پہلے تک دنیا کے متعدد ممالک اس یک طرفہ پروپیگنڈا کو درست مانتے ہوئے یا بھارت کو خوش کرنے کے لیے کسی حد تک اس بیانیہ کی تائد کرتے رہے تھے۔ البتہ پہلگام سانحہ کا بے بنیاد الزام پاکستان پر لگا کر اور بین الاقوامی سرحد عبور کرکے شہری ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے، اس جارحیت و دہشت گردی ختم کرنے کا نام دیا گیا۔ اس عمل نے بھارتی جعل سازی اور جھوٹ کی قلعی کھول کر رکھ دی۔
پاکستان نے مسلسل پہلگام سانحہ کی تحقیقات کرانے اور اس حوالے سے مکمل تعاون کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن بھارتی بزرجمہروں نے پاکستان کی دفاعی طاقت و جذبہ کا غلط اندازہ لگایا۔ بھارت نے شہری ٹھکانوں کو دہشت گردوں کے مراکز کہہ تو دیالیکن وہ اسے ثابت کرنے میں ویسے ہی ناکام رہا جیسے پہلگام سانحہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا جاسکا۔ اس کے علاوہ بھارت نے چالاکی سے یہ اعلان کرنے کی کوشش کی کہ بھارتی فوج نے پاکستانی کی عسکری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا کیوں کہ اس کی پاکستانی فوج سے لڑائی نہیں ہے۔ یہ بچگانہ مؤقف تھا کیوں کہ بین اقوامی سرحد عبور کرکے پاکستانی علاقوں میں شہریوں پر میزائل پھینکے گئے تھے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی گئی کہ بھارت پاکستان سے جنگ نہیں چاہتا۔ نریندر مودی کی سیاسی ضرورتوں کے تحت پاکستان پر کیے گئے اس حملہ نے اسی عاقبت نااندیشانہ طریقے کی وجہ سے پوری دنیا میں بھارت کو بے نقاب کردیا۔
اس کے بعد سے پاکستان نے مسلسل یہ واضح کیا ہے کہ دونوں ملکوں کو تنازعہ بڑھانے کی بجائے بات چیت کے ذریعے تمام مسائل حل کرلینے چاہئیں۔ فطری طور اس میں سر فہرست کشمیر کا تنازعہ ہے جو پون صدی سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کی بنیاد بنا ہؤا ہے۔ پھر سندھ طاس معاہدے کا معاملہ ہے کیوں کہ اس معاہدے کے تحت کشمیر سے نشیب میں آنے والے تین دریاؤں کا پانی پاکستان کا حق ہے۔ بھارت چوبیس کروڑ لوگوں کا پانی بند کرکے کسی امن کی امید نہیں کرسکتا۔ البتہ پاکستان نے اب ان موضوعات کا حوالہ دینے کے علاوہ یہ بھی مانا ہے کہ دونوں ملک دہشت گردی کے معاملہ پر بھی بات کریں اور اس مسئلہ کو مل جل کر حل کرلیں۔ دیکھا جائے تو یہی متفقہ و آزمودہ طریقہ ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے کسی ملک کو صرف اسی صورت میں ’دشمن‘ قرار دے کر جنگ جوئی کی بات کی جاسکتی ہے جب وہ ملک دہشت گردی کے بارے میں مذاکرات ہی کرنا نہ چاہتا ہو۔ لیکن لگتا ہے کہ اس معاملہ میں بھی بھارت کی پوزیشن کمزور ہے ، اسی لیے وہ بات چیت کی بجائے کسی صورت مل کر نہ بیٹھنے اور کسی بھی دہشت گردی کے وقوعہ پر پاکستان پر حملہ کرنے کی بات کررہا ہے۔ اس حوالے سے ’دہشت گردی و مصالحت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی‘ کا سلوگن اختیار کرتے ہوئے البتہ بھارتی لیڈر اس کا کوئی قابل قبول جواز پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ لے دے کے ان کا ایک ہی عذر ہوتا ہے کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے ملزموں کو سزائیں نہیں دیں اور اب انہیں بھارت کے حوالے کیا جائے۔ جن لوگوں کو بھارت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، ان میں حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر سر فہرست ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے الجزیرہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اسی تناظر میں کہا تھا کہ اگر بھارت کے ساتھ بات چیت کا معاملہ آگے بڑھتا ہے تو اس پہلو پر غور کیا جاسکتا ہے۔ بلاول بھٹو سے سوال کیا گیا تھاکہ کیا بطور خیرسگالی، سربراہ لشکرِ طیبہ حافظ سعید اور جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بھارت کے حوالے کرنا ممکن ہے؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ’اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات ہوں، جن میں دہشت گردی کے مسئلہ پر بات ہو تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان کو ان معاملات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘۔ بلاول بھٹو زرداری اس وقت ملک کی شریک اقتدار ایک بڑی پارٹی کے لیڈر ہیں اور سابق وزیر خارجہ ہیں۔ انہیں حال ہی میں عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف پیش کرنے کے لیے سفارتی وفد کا قائد بھی نامزد کیا گیا تھا۔ وہ حکومت یا عسکری اداروں کی مرضی کے بغیر ایسی کوئی بات نہیں کہہ سکتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ شاید اس ’معصومانہ‘ جواب کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے پاکستان ، بھارت کو خوش کرنے کے لیے ان دونوں افراد کو حوالے کرنے پر آمادہ ہے۔ حالانکہ ایسے کسی اقدام کو جامع مذاکرات کے لیے اعتماد سازی سے مشروط کیا گیا ہے۔
تحریک انصاف نے اس تجویز کو ایک سخت بیان میں مسترد کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس تجویز کو سیاسی ناپختگی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ ایسی کوئی کوشش قومی سلامتی کے بیانیہ کے برعکس ہوگی اور پوری قوم کو بے عزت و بے توقیر کرنے کے مترادف ہوگی۔ بلاول بھٹو زرداری نے جارحیت کرنے والے ایک ہمسایہ ملک کو غیر ضروری طور سے خوش کرنے کی کوشش کی ہے‘۔ سیاسی اپوزیشن ثابت کرنے کے لیے ایسا بیان دینا شاید تحریک انصاف کی مجبوری ہوگی ۔لیکن بلاول ب بھٹو زرداری کو بھی اس بیان کی وضاحت کرنی چاہئے کیوں کہ حافظ سعید جیسے کسی شخص کو بھارت کے حوالے کرنے کا مقصد ایک ایسے فرد کو ایک ناقابل اعتبار دشمن کے سپردکرنا ہوگا جو کسی بھی قیمت پر ماضی میں پاکستان سے سرگرم رہنے والے جہادی گروہوں کا تعلق پاکستانی فوج و انٹیلی جنس ایجنسیوں سے جوڑنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو ایسا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد دونوں تنظیموں پر پاکستان میں پابندی عائد کر رکھی ہے۔ حافظ سعید اس وقت دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں 33 سال کی سزا کاٹ رہیں ہے ۔ حافظ سعید ریاست پاکستان کی تحویل میں ہیں جبکہ حکومتِ پاکستان کو یقین ہے کہ مسعود اظہر افغانستان میں ہیں۔ پاکستان مسعود اظہر کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ بھارت کے عدم تعاون کی وجہ سے پاکستانی عدالتوں میں سرحد پار دہشتگردی پر ان افراد کے خلاف مقدمات چلانا مشکل ہے۔بھارت ان افراد کو سزا دلوانے کے لیے ضروری بنیادی تقاضوں پر عمل نہیں کر رہا۔ عدالتوں میں شواہد پیش کرنا، بھارت سے گواہوں کا پاکستان آنا، یہ سب ضروری ہے۔ ’اگر بھارت اس عمل میں تعاون پر آمادہ ہو تو مجھے یقین ہے کہ ایسے کسی بھی فرد کی حوالگی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی‘۔
حکومت پاکستان کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی آئی ایس پی آر نے کوئی وضاحت کی ہے۔ البتہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ماضی کے مردے اکھاڑنے اور حساس حیثیت والے بعض لوگوں کو بھارت کے حوالے کرنے کی بجائے، ان پر عدالتوں میں مقدمے چلاکر سزائیں دلائی جائیں۔ ایسے کسی اقدام پر بھارت کو بھی مطمئن ہونا چاہئے کہ اس نے جن لوگوں کی نشاندہی کی اور ثبوت پیش کیے انہیں ان کے جرم کی سزا دی گئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی کا اس سے بہتر ثبوت فراہم کرنا ممکن نہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

