ملک میں جیسے ہی کسی کام پر پابندی لگائی جاتی ہے یا اس کے لیے لائسنس لازمی قرار دیا جاتا ہے، دل کو عجیب سی تسلی ملتی ہے کہ "چلو، حکومت زندہ ہے!”
ابھی حال ہی میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے لائسنس مہم اس جوش و خروش سے شروع کی گئی ہے جیسے ہر بائیک والا ایک مکمل دہشت گرد ہو۔ شہریوں کو یوں روکا جا رہا ہے جیسے انہوں نے نیشنل سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہو۔ چالان، تھانے، لائن، فائل، شناختی کارڈ، خون کے نمونے، بچپن کے قاعدے، اور پرائمری جماعت کی تصویریں مانگی جا رہی ہیں — صرف لائسنس کے لیے!
یہ سب دیکھ کر مجھے تو ڈر لگنے لگا ہے کہ اگر حکومت کے عزائم یہی رہے تو آنے والے دنوں میں ہم سب کو پیدل چلنے کے لیے بھی لائسنس بنوانا پڑے گا۔
تصور کریں، آپ فٹ پاتھ پر چل رہے ہیں کہ پولیس والا روک کر پوچھتا ہے:
"اوئے بھائی! پیدل چلنے کا پرمٹ دکھاؤ!”
"جناب میں تو سڑک کے کنارے آہستہ آہستہ چل رہا ہوں۔”
"تو پھر سائیڈ واک لائسنس کہاں ہے؟ یہ پیدل گردی غیر قانونی ہے!”
اس کے بعد نمبر آئے گا سانس لینے کا!
اگر آپ نے بغیر اجازت کے لمبی سانس لی تو فوراً نوٹس تھما دیا جائے گا:
"یہ سانس ماحولیاتی قوانین کے خلاف ہے!”
ایک خاص سانس کارڈ جاری ہو گا جس میں لکھا ہو گا:
"سانس فی منٹ: 14، آواز کی سطح: درمیانی، مقصدِ سانس: زندہ رہنا!”
پھر آئے گا دل دھڑکنے کا لائسنس، کیونکہ دل کا دھڑکنا بھی خطرناک سمجھا جائے گا اگر وہ "مناسب مقصد” کے بغیر دھڑک رہا ہو۔
دل کے بعد بات ہو گی بلڈ پریشر کی۔
جی ہاں، جن لوگوں کا بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے، ان کے لیے "ہیوی ڈیوٹی لائسنس” جاری ہوگا۔
اور جن کا لو ہوتا ہے، ان پر شک ہو گا کہ کہیں وہ جذباتی بغاوت کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟
اور اب بات ہو رہی ہے ان چیزوں کی جنہیں ہم اب تک اپنی زندگی کے انفرادی اور ذاتی افعال سمجھتے آئے تھے۔ مثلاً:
رونا —
اگر آپ کسی فلم دیکھ کر رو پڑے، یا مہنگائی کا بل دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئیں، تو اب ہوشیار ہو جائیں۔
نیا حکم نامہ:
"رونے کا لائسنس حاصل کیے بغیر کوئی شخص آنسو بہانے کا مجاز نہیں ہوگا۔”
ورنہ ایف آئی آر درج ہوگی کہ:
"جذباتِ قومی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔”
واش روم استعمال کرنے کے لیے پرمٹ —
اگر آپ عوامی یا ذاتی بیت الخلا استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو روزانہ کی بنیاد پر "استعمال اجازت نامہ” حاصل کرنا ہوگا۔
سوالات ہوں گے:
وقت؟
مقصد؟
پانی استعمال کی مقدار؟
فلیش کی آواز کی شدت؟
اگر آپ نے بغیر اجازت واش روم استعمال کیا تو یہ "قومی آبی وسائل کی چوری” کے زمرے میں آ جائے گا!
نہانے کا لائسنس —
یقیناً اب صرف شوقیہ نہانے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔
حکومت اعلان کرے گی کہ روزانہ نہانے والے "مشکوک افراد” ہیں۔
روزانہ نہانے کے لیے الگ این او سی،
گرم پانی کے لیے الگ فیس،
اور اگر صابن کا استعمال ہو تو "خوشبو پھیلانے کا اجازت نامہ” درکار ہوگا۔
اگرچہ ابھی تک دماغ کے استعمال کا لائسنس نہیں بنا، مگر میرے جیسے لکھنے والوں کے لیے یقیناً جلدی آ جائے گا۔ کیونکہ ہم جو لکھتے ہیں وہ کئی بار "قومی ذہنیت” پر اثر انداز ہوتا ہے، جو یقیناً خطرناک بات ہے۔
اور ہاں…
مسکرانے کا لائسنس!
اس مہنگائی، بے روزگاری اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے دور میں اگر کوئی شخص مسکرا رہا ہے تو شک یقینی ہے کہ:
"یہ بندہ کچھ چھپا رہا ہے!”
پھر آپ سے پوچھا جائے گا:
"مسکراہٹ کی وجوہات؟ قہقہے کی گہرائی؟ اور متاثرہ سامعین کی تعداد؟”
جیو مگر اجازت لے کر،
چلو مگر لائسنس کے ساتھ،
رونا ہو، ہنسنا ہو، نہانا ہو یا واش روم جانا —
سب کچھ قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے،
ورنہ ہو سکتا ہے کل سے سانس بھی صرف اجازت نامے سے لی جا سکے۔
تو اگر آپ کو کبھی صبح اُٹھتے ہی لگے کہ آپ "بغیر لائسنس جینے” کے جرم میں ملوث ہیں، تو زیادہ حیران نہ ہوں۔
یہ وہی ملک ہے جہاں بائیک چلانے سے زیادہ خطرناک کام "جینا” بنتا جا رہا ہے!
فیس بک کمینٹ

