کوئٹہ : بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد ایک بم دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق دھماکے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔
دھماکے میں تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین محفوظ رہے تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی میر احمد نواز بلوچ زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما غلام نبی مری نے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ کے علاقے سریاب میں واقع شاہوانی سٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر اس مقام پر ہوا جہاں گاڑیوں کو پارک کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ جلسے کے اختتام کے اندازاً دس سے پندرہ منٹ بعد ہوا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت جلسہ گاہ سے نکلنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں سے گزر رہی تھی۔ انھوں نے خودکش حملہ آور کا دعویٰ کیا جس کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔
ادھر صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ ’انسانیت دشمنوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔‘
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا ’شرپسند عناصر معصوم شہریوں کے خون سے کھیل رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔‘
بی این پی کے رہنما کے مطابق دھماکہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر ہوا جہاں گاڑیاں پارک کی گئی تھیں
‘دھماکہ اس وقت ہوا جب ہم جلسہ گاہ سے نکل رہے تھے‘
یہ جلسہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی سردار عطا اللہ مینگل کی تیسری برسی کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا جس سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے رہنما میر کبیر احمد محمد شئی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
سردار اختر مینگل نے بی بی سی کے نمائندے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ ان کے والد سردار عطا اللہ مینگل کی برسی کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا جس میں محمود خان اچکزئی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما بھی شریک تھے۔
انھوں نے بتایا پچھلے دنوں لک پاس پر دھرنے کے وقت بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا اور ان سے پولیس کے سکیورٹی گارڈ واپس لے لیے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جلسے کے لیے پولیس اور واک تھرو گیٹ دیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود یہ حملہ ہوا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

