صنعا : یمن میں بحری جہاز پیمن میں ایک بحری جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد اس میں موجود کپتان سمیت 24 پاکستانی عملہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ تاہم پاکستانی سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کسی پاکستانی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ جہاز ایرانی بندرگاہ بندرعباس سے یمن کے لیے ایل این جی لے کر روانہ ہوا تھا اور یہ یمنی حکومت کے زیر انتظام علاقے میں موجود نہیں ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی عملے نے 10 روز قبل ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا کہ یمنی پورٹ پر جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ عملے نے وزارت میری ٹائم اور ڈی جی پورٹس سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ جہاز پر حوثی باغی موجود ہیں جو انہیں جہاز چھوڑنے کی اجازت نہیں دے رہے۔
ویڈیو میں عملے کا کہنا تھا کہ اگر جہاز کو جبوتی لے جانے کی اجازت دی جائے تو وہ محفوظ مقام تک پہنچ سکتے ہیں۔ عملے کی یہ اپیل اب بھی برقرار ہے اور وہ پاکستانی حکومت سے فوری عملی اقدامات کی امید کر رہے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے ایل پی جی ٹینکر کے 27 رکنی عملے کو رہا کر دیا ہے۔
وزیر داخلہ کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حوثی کنٹرول میں یمن کی راس العیسی بندرگاہ پر ایل پی جی ٹینکر، جس میں 27 رکنی عملہ موجود تھا، پر 17 ستمبر کو اسرائیل نے ڈورن حملہ کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایل پی جی ٹینکر میں کیپٹن مختار اکبر سمیت 24 پاکستانی، دو سری لنکن اور ایک نیپالی بطور عملہ موجود تھے۔

