پھر شور سلاسل میں سرور ازلی ہے
پھر پیش نظر سنت سجاد ولی ہے
اک برق بلا کوند گئی سارے چمن پر
تم خوش کہ مری شاخ نشیمن ہی جلی ہے
غارت گری اہل ستم بھی کوئی دیکھے
گلشن میں کوئی پھول نہ غنچہ نہ کلی ہے
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاؤ ں سے ٹلی ہے
دو حق و صداقت کی شہادت سر مقتل
اٹھو کہ یہی وقت کا فرمان جلی ہے
ہم رہروئے دشت بلا روز ازل سے
اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے
ان دل نشیں اور دل کو گرما دینے والے انقلابی اشعار کے خالق تھے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان ۔ کل رات محمد اسلم ملک صاحب کا ایک مضمون نظر نواز ہوا جس سے یاد آیا کہ 26 ستمبر ان کی برسی کا دن ہے
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
نوابزادہ صاحب جنہیں ہم نواب صاحب کہتے تھے( کیونکہ ہمارے دوست سردار عرفان اللہ خان کھوسہ جن کے توسط سے ہمیں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا انہیں نواب صاحب کہتے تھے) اور مجھے یاد ہے کہ نواب صاحب انہیں بچپن کے پیار کے نام شانو سے بھی پکارتے تھے ۔ دراصل نواب صاحب عرفان اللہ خان کے والد سردار عطا محمد خان مرحوم و مغفور کے جگری دوست تھے ، دونوں ایک سیشن میں اکٹھے اسمبلی کے ممبر بھی رہے، لہذا نواب صاحب جب بھی ڈیرہ غازی خان آتے تو عرفان اللہ خان کے گھر پر ہی ٹھہرتے تھے ۔ ۔۔۔ تو عرفان اللہ کے دوست ہونے کی حیثیت سے ہم بھی ان کے میزبان ہوتے ، ہمارے علاوہ ، یعقوب خان گوپانگ ایڈووکیٹ ، ڈاکٹر مظہر علی جسکانی ، ندیم اکبر خان کھتران، پرنسپل ایڈمنسٹریٹر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ، بشیر احمد خان ایڈیشنل چیف انجینئر میپکو ملتان جو ان دنوں ایس ڈی او تھے ۔ ( ان دونوں کو مرحومین لکھتے ہوئے ہاتھ لرزتے ہیں ) ۔ رات کے کھانے کے بعد محفل جمتی تو اس میں شیخ زعیم سجاد ، سید انور نیازی اور بعض اوقات ڈان کے ندیم سعید اور طارق سعید برمانی بھی ہوتے۔ نواب صاحب کی گفتگو کیا تھی ایک رواں شانت ندی تھی جو سماعتوں بصارتوں اور بصیرتوں کو سیراب کرتی چلی جاتی۔ ایک رات میں نے ان سے پاکستان کی تاریخ کے بارے میں بہت سے حساس سوالات پوچھے ؛ صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت اور اسمبلی کا خاتمہ ، کشمیر میں میجر جنرل اکبر خان کی زیر قیادت قبائل کی مہم ، قلات میں فوجی مداخلت ، غلام محمد ، مولوی تمیز الدین ، جسٹس منیر اور محترمہ فاطمہ جناح کا الیکشن ۔۔ وہ اس تمام تاریخ کے عینی شاہد تھے اور انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے واضح جوابات دیے جنہیں میں یہاں خوف فساد خلق سے درج نہیں کر سکتا ۔۔ لیکن وہ ایک حقیقی جمہوریت پسند بلکہ جمہوریت پرست تھے اور غیر جمہوری اقدام کرنے والی شخصیت کوئی بھی ہو وہ کسی کو معاف نہیں کرتے تھے ۔ اس رات ان کی ایک بات مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے کہا تھا جمہوریت کے ساتھ کوئی اضافت لگ جائے تو وہ جمہوریت نہیں رہتی اسی لیے میں حقیقی جمہوریت بھی نہیں کہتا ۔
ان دنوں میری دو کتابیں کیلاش کتھا اور میرا سندھو سائیں آ چکی تھیں ، میں نے پیش کیں ،جستہ جستہ ورق گردانی کی ،بہت خوشی کا اظہار کیا اور میری حوصلہ افزائی کی ، کتابیں اپنے دیرینہ ساتھی عنایت خان چانڈیہ کو دیں ،، اے تساں سنبھالو متاں بھل ونجوں،،
ایک بار خان گڑھ میں ان کی میزبانی سے مستفید ہوئے ۔
سب سے زیادہ یادگار ملاقاتیں محترمہ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دور کی ہیں جب نواب صاحب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے ، ان کا درجہ وفاقی وزیر کا تھا اور وہ 9 منسٹرز ایونیو شہر اقتدار میں رہائش پذیر تھے ۔ ہم ناشتے اور ڈنر میں ان کے ساتھ شریک ہوتے ، لنچ کے وقت میں وہ گھر پر نہیں ہوتے تھے ۔ ڈائننگ ٹیبل پر خاصی رونق ہوتی چار لوگ تو ہم تھے عرفان اللہ خان ، بشیر احمد ، یعقوب خان اور میں ، پھر ان کے عزیز نوابزادہ تنویر خان تھے اور دو تین نوجوان تھے ان کے نواسے اور پوتے ، ان کے سکریٹری جمشید صاحب اور کچھ اور مہمان بھی ہوتے ،کوئی دستر خوان پر موجود نہ ہوتا تو اسے بلوایا جاتا ، ذاتی ملازم احمد نواز کو حکم ہوتا ،، اجاں ستا پئے ونج اوکوں اٹھا کے آ ،، پھر ان کی سب پر نظر ہوتی کہ کسی نے کوئی ڈش مس تو نہیں کر دی ، ناشتے میں آڑو کا مربہ انہیں بہت مرغوب تھا ، ان کی آواز آتی ،، احمد نواز ڈاکٹر صاحب دے اگوں مربہ رکھ ،، ۔ ایک رات دسترخوان پر مچھلی تھی مسکرا کر بولے ،، دریائے سندھ دی مچھی اے ، دیرے وچوں آئی اے رزاق کھلول بھیجی اے،، روزانہ عصر کے بعد منسٹرز ایونیو کے نزدیک جو مارگلہ ٹریل ہے اس پر واک کرتے بغیر کسی پروٹوکول کے ، صرف احمد نواز ان کے ساتھ ہوتا اور جوانوں سے زیادہ تیز چلتے تھے ۔ہم ان دنوں ہمالیہ میں ٹریکنگ کے لیے گلگت جانے والے تھے لہذا مارگلہ میں واکنگ پریکٹس کر رہے تھے ۔
نواب صاحب کا حقے سے چولی دامن کا ساتھ تھا ، ایک مخصوص حقہ تو وہ ہوائی جہاز میں بھی ساتھ لے جاتے۔
ہم راجہ بازار شاپنگ کے لیے جاتے ٹریکنگ سوٹ اور شوز وغیرہ خریدنے ، تو اصرار کر کے اپنی سرکاری لیکسس کار میں بھیجتے اور خود عام گاڑی میں دفتر چلے جاتے ۔ اور جب لیکسس ہمیں اسلام آباد ایئرپورٹ چھوڑنے گئی تو ظاہر ہے اس نے وی آئی پی لاؤ نج کے گیٹ پر ہی رکنا تھا۔ واپسی پر عرفان اللہ خان اور یعقوب اسلام آباد میں رک گئے ، بشیر خان اور میں نے واپسی کے لیے پیر ودھائی سے بس پکڑنی تھی ، ہمیں لیکسس میں ہی بھیجا گیا ، ہمیں اتارتے وقت ڈرائیور پھٹ پڑا ،، اے تے جی ڈیلیگیثس لئی ہوندی اے ، ویکھو بابا جی ایدا کی حشر کر رئے نیں،،۔
ایک روز ہم لاؤ نج میں بیٹھے تھے ، وہاں اخبارات رکھے تھے ۔ میں نے ایک خبر کی طرف نواب صاحب کی توجہ دلائی۔ ہوا یوں تھا کہ ان دنوں مقبوضہ کشمیر میں الفاران نامی ایک غیر معروف گروہ نے کچھ یورپین سیاحوں کو اغوا کیا ہوا تھا ، خبر یہ تھی کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیشکش کی تھی کہ وہ کشمیر جا کر ان کی رہائی میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ نواب صاحب نے خبر دیکھی تو ناگواری کے ساتھ بولے ،، چھوٹا منہ وڈی گال،، پھر سر جھٹک کر کہا ’’ وڈے پیو دا چھوٹا پتر ‘‘ ۔ بعد میں ثابت ہوا کہ بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کی ہی کاروائی تھی۔
آخر میں ایک مزے کی بات کہ نواب صاحب کی جماعت پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کو تانگہ پارٹی کہا جاتا تھا ، میں نے عرفان اللہ خان سے مسکراتے ہوئے کہا عرفان اللہ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ پارٹی نواب صاحب سے شروع ہوتی ہے اور انہی پر ختم ہوتی ہے ، میں نے تو تانگے کی سواریاں نہیں دیکھیں ۔ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا ،، ہیں نا چار سواریاں ؛ ارشد چودھری ، حکیم محمود ، رزاق کھلول اور میں ،،۔

