گزشتہ چند برسوں سے عالمی ماحول میں تیزی سے تبدیلیاں آئیں ہیں اور اس نے جنوبی ایشیا میں بھی نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات اور عسکری تعاون کو دیکھتے ہوئے سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ دونوں ممالک پاکستان کے خلاف کسی مشترکہ فوجی کارروائی میں شامل ہو سکتے ہیں؟ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایک براہِ راست مشترکہ حملہ کم امکانات رکھتا ہے، مگر بعض پہلو ایسے ہیں جو پاکستان کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل کا عسکری تعاون نیا نہیں۔ نوے کی دہائی سے بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا ایک بڑا خریدار رہا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی، اینٹی میزائل سسٹمز، جدید سنسرز، سائبر سیکیورٹی ٹولز اور کمانڈ کنٹرول سسٹمز بھارت کو اسرائیل سے ملے ہیں۔ اسرائیل کو بھارت میں ایک بڑا اسلحہ بازار نظر آتا ہے اور بھارت کو اسرائیل کی ٹیکنالوجی اپنے خطے میں برتری قائم رکھنے کے لیے موزوں لگتی ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ تعلق مزید گہرا ہوا ہے اور دونوں ممالک نے انٹیلیجنس شیئرنگ، سائبر وارفیئر اور خصوصی فوجی تربیت جیسے شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ماہرین بھارتی اسپیشل فورسز کو تربیت فراہم کرتے ہیں جبکہ بھارتی سائبر یونٹس کو اسرئیلی ہتھیار ساز ادارے جدید ہیکنگ اور ڈیٹا پروٹیکشن ٹولز مہیا کرتے ہیں۔
اسرائیل کا براہِ راست پاکستان کے خلاف فوجی شمولیت اختیار کرنا عملی طور پر مشکل ہے کیونکہ جغرافیائی فاصلے، لاجسٹک رکاوٹیں اور بین الاقوامی ردِعمل اس کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
تاہم اسرائیل بالواسطہ کئی طریقوں سے بھارت کی مدد کر سکتا ہے جن میں انٹیلیجنس شیئرنگ، سائبر معاونت، ہتھیار اور ٹیکنالوجی کی فراہمی، تربیت اور سفارتی حمایت شامل ہیں۔ انٹیلیجنس شیئرنگ کے ذریعے پاکستان کے حساس اداروں، اہداف یا افراد کے بارے میں معلومات فراہم کر کے بھارتی آپریشن کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ سائبر معاونت سے پاکستان کے حساس اداروں یا مواصلاتی نظام کو نشانہ بنا کر دشمن کی آپریشنل صلاحیت متاثر کی جا سکتی ہے۔ ہتھیار اور ٹیکنالوجی کی فراہمی، جیسے ڈرونز، لیزر گائیڈڈ میزائل، ایئر ڈیفنس جامِرز اور جدید سینسرز، بھارت کو فضائی اور آپریشنل برتری دلانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسی طرح اسرائیلی ماہرین بھارتی افواج کو حملے کی حکمتِ عملی، نشانہ سازی اور شہری جنگ (urban warfare) کے طریقوں پر تربیت دے سکتے ہیں۔ سفارتی سطح پر اسرائیل کچھ مغربی یا لابی طاقتوں کے ذریعے بھارت کے موقف کو عالمی سطح پر مضبوط کر سکتا ہے، جو سیاسی طور پر بھارت کے اقدامات کو نرم کر دے۔
براہِ راست مشترکہ فوجی آپریشن کی راہ میں کئی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اسرائیل کو جنوبی ایشیا میں کھلے عام فوجی آپریشن کے لیے ہزاروں کلومیٹر طے کر کے زوردار لاجسٹک چین قائم کرنا پڑے گا، جو عملی طور پر مشکل اور مہنگا ہے۔ اگر اسرائیل کھلے عام پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرے تو مسلم دنیا اور کئی عالمی طاقتوں کا شدید ردعمل روزِ روشن کی طرح سامنے آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیا میں جوہری توازن ایک انتہائی حساس عنصر ہے؛ بھارت اور پاکستان دونوں جوہری قوتیں ہیں اور کسی بڑی براہِ راست جارحیت سے جوہری بھڑکنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جو عالمی سطح پر ناقابلِ قبول ہوگا اور بڑی طاقتوں کو مجبور کر دے گا کہ وہ سخت مداخلت کریں۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر براہِ راست زمینی شمولیت سب سے کم متوقع راستہ ہے، مگر بالواسطہ تعاون کے ذریعے بھارت کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ انٹیلیجنس لیک، سائبر حملے اور ہائی ٹیک ہتھیاروں کی وجہ سے فضائی یا الیکٹرانک برتری حاصل کرنے کے امکانات ہیں۔ اگر حساس اداروں، فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول یا ملکی انفراسٹرکچر کو سائبر حملوں سے متاثر کیا گیا تو جنگی ماحول میں بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی اور ایویونکس کی فراہمی بھارت کو زیادہ درست نشانہ سازی اور کم انسانی لاگت والے آپریشن کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جو روایتی جنگی منظرناموں سے ہٹ کر نیا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر اسرائیل کی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی مخصوص ہدف کی بروقت شناخت ممکن ہو جائے تو کارروائیوں کی شدت اور تاثیر دونوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی سیاست کا کردار اس پورے منظرنامے میں اہم ہے۔ بھارت اور اسرائیل دونوں کے امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اگر بڑی طاقتیں خاموش رہیں یا کسی طرح کی بالواسطہ حمایت کریں تو پاکستان پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب چین، ترکی اور بعض عرب ممالک پاکستان کے لیے بیلنس پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں؛ ان ممالک کے ساتھ سفارتی اور دفاعی روابط مضبوط رکھنے سے پاکستان کو بین الاقوامی سیاسی تحفظ بھی مل سکتا ہے۔
ان احتمالات کے پیشِ نظر پاکستان کو متعدد محاذوں پر بیک وقت تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ سفارتی سطح پر عالمی فورمز میں مؤثر انداز میں اپنا موقف واضح کرنا اور اسرائیل-بھارت تعاون کی نوعیت کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ قومی سطح پر سائبر سیکیورٹی کو اولین ترجیح دینا اور حساس اداروں کی حفاظت کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فوجی تیاری برقرار رکھنے کے ساتھ ایئر ڈیفنس سسٹمز اور جدید ہتھیاروں کی استعداد کو بہتر کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔ اندرونی سطح پر عوامی یکجہتی اور مستحکم داخلی ماحول دشمن کی وہ کوششیں بے اثر کر دے گا جو اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔
نتیجتاً بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ضرور ہیں۔ اگرچہ براہِ راست مشترکہ فوجی کارروائی کے امکانات کم ہیں، مگر انٹیلیجنس، سائبر اور ہتھیاری تعاون بھارت کی جنگی صلاحیت میں خاطرخواہ اضافہ کر سکتا ہے۔ پاکستان کو اس خطرے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ سفارتی، عسکری اور داخلی سطح پر بروقت اور مربوط اقدامات کر کے صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
فیس بک کمینٹ

