"بلھا کی جاناں میں کون؟” ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ یہ کلام شاعر کے روحانی سفر کی مشکلات کو بیان کرتا ہے۔ شاعر پر اس سفر کے دوران بہت سے راز منکشف ہوتے ہیں، مثلاً یہ کہ وہ شاید وہ نہیں جو نظر آتا ہے۔ بلھے شاہ سید تھے اور سادات ظاہر ہے کہ عرب سے آئے تھے، لیکن بلھے شاہ سید ہونے کے باوجود پنجابی تھے۔ نظم میں وہ اپنی اس شناخت کو رد کرتے ہیں کہ میں نہ عرب سے ہوں اور نہ پنجاب سے۔ پھر وہ مذہب کے بارے میں الجھن کا شکار نظر آتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ نہ مسلمان ہیں اور نہ کافر۔ یہاں تک کہ وہ انسان اور خدا کے الگ الگ تشخص کے بارے میں بھی شک میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی ہر کنفیوژن کے بعد خود سے یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ "بلھے شاہ!! آخر میں ہوں کون؟”۔ وہ اپنی کھوج کرنے میں یا اپنا سراغ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔
آج بلھے شاہ کی نظم پڑھ کر میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسان کی زندگی ایک تلاش کا نام ہے، یہ ایسی انجانی تلاش ہے جس میں انسان کو کبھی کبھی یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ آخر وہ کس شے کا متلاشی ہے اور اگر پتا بھی ہو تو وہ شے کبھی نہیں ڈھونڈ پاتا جس کی اسے تلاش ہوتی ہے۔ اس موقع پر مجھے اپنا ہی ایک شعر یاد آ گیا:
سراغ اپنا نہیں ملتا یہاں پر
انوکھا آگہی کا سلسلہ ہے
یہ کائنات اتنی وسیع ہے اور اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ اس کا ادراک کرنا شاید کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے ہم سب نے اپنے اپنے شعبے چن لیے ہیں تاکہ اسی علم پر خود کو مرکوز رکھیں جس میں ہمیں دلچسپی ہے۔ ہم اپنی سہولت کے لیے کائنات کی وسعت سے منہ موڑ کر خود اپنی ہی کائنات بنا لیتے ہیں۔ ہماری یہ کائنات بھی بےحد وسیع ہوتی ہے اگرچہ یہ ہمارے تخیل سے جنم لیتی ہے۔
انسانی تخیل حیران کن ہوتا ہے۔ یہ دنیا کو اپنے زاویے سے دیکھتا ہے۔ یہ لوگوں کو جج کرتا ہے، ان کے بارے میں فیصلے کرتا ہے اور ان کے لیے سزا بھی تجویز کر دیتا ہے۔ یہ جس کو چاہتا ہے، اپنا خدا بنا لیتا ہے اور جو اسے نہ بھائے اسے شیطان تصور کر لیتا ہے۔
کبھی کبھی ہم محبت میں بھی اپنے تخیل کی ایجاد کردہ خودفریبیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم بہت ہی عام سے شخص میں وہ خوبیاں تلاش کر لیتے ہیں جو اس میں پائی ہی نہیں جاتیں۔ ہم محبوب کے بت میں ان اوصاف کے نگینے جڑ دیتے ہیں جو ہم اس میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ اوصاف ہوتے ہیں جو ہم اپنے پسندیدہ شخص میں دیکھنے کے لیے زندگی بھر ایک خواب کا سفر کرتے ہیں۔ پھر زندگی کے ایک موڑ پر ہمیں وہ شخص نظر آ جاتا ہے۔ ہم خوشی سے بھر جاتے ہیں۔ جیسے ہماری تلاش مکمل ہو گئی ہو اور ہمیں ہمارا مقصد مل گیا ہو۔
کبھی کبھی وہ شخص ہمیں انکار اور ہجر کا دکھ دے دیتا ہے۔ ہم پھر بھی اپنے تصور میں اسے وہی محبوب مانے رہتے ہیں جس کی ہمیں تلاش تھی۔ ہمارا دل (پرفریب ذہن) ہمیں کہتا ہے کہ وہ محبوب ہی کیا جس کی محبت میں ہمیں دکھ نہ ملے۔ ہم دکھ سہتے رہتے ہیں۔ ہمیں دکھ میں بھی سکون ملتا ہے۔ ہمیں رتجگوں میں بھی آرام ملتا ہے۔ ہمیں کبھی ختم نہ ہونے والا انتظار بھی لطف دیتا ہے۔ اس تمام تر خودفریبی کے بعد کبھی کبھی وہ دلخراش لمحہ بھی آ جاتا ہے، جب محبوب کا بت اچانک ہی پاش پاش ہو جاتا ہے۔ ہمارا خواب ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم پہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ شخص بت نہیں بلکہ برے اطوار سے بھرا ہوا ایک عام انسان ہے۔ وہ اتنا عام ہے کہ اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ کسی لیے کتنا خاص ہے۔ پھر ہمیں بلھے شاہ یاد آتے ہیں کہ شاید ہماری ساری زندگی ہی فریب ہے، جس میں ہم دوسروں کا ہی نہیں بلکہ اپنا سراغ لگانے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ ہم لوگوں میں بسی کائنات کا سراغ نہ لگا پائیں تو شدید مایوس ہو جاتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ آگہی شاید دوسروں کے بجائے خود اپنی تلاش کا نام ہے۔ یہی وہ تلاش ہے جو بلھے شاہ کی فیلڈ ہے، کیونکہ وہ بیرونی کائنات کے بجائے ہمیں اسی پر توجہ مرکوز کیے نظر آتے ہیں۔ شاید بلھے شاہ کی یہ تلاش ہی وہ زندگی ہے، جس میں منزل تو ہمیں کبھی نہیں ملتی لیکن رستہ ہمیشہ ہمارا ہمسفر رہتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

