سال 2009 میں ہماری ایک کتاب ’’ اردو زبان و ادب بدلتے رجحانات ‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آئی تھی ۔۔ اب تو خیر ہمارے پاس تحقیق کے لیے بہت سے ذرائع سامنے آ چکے ہیں لیکن ان دنوں بس ایک انٹرنیٹ ہی تلاش کا بڑا ذریعہ تھا ۔۔ ہم نے اس کتاب میں ایک مضمون شامل کیا تھا جس کا عنوان تھا ۔۔ ’’ ماں ۔۔ دنیا کا سب سے خوبصورت لفظ ‘‘ ۔۔ ہمیں اپنا وہ مضمون دو تین روز سے یاد آ رہا ہے ۔۔ اور صرف یہ مضمون ہی نہیں اور بھی بہت سی سوچیں ہیں بہت سے خیالات ہیں جو ہم نے اس سے پہلے بھی بارہا سوچے لیکن انہیں ضبط تحریر میں لانے کا حوصلہ نہ ہوا ۔ آدھے گیلے بستر پرخود لیٹ کر ہمیں آسودگی دینے اور رات بھر جاگنے والی ماں کے اسی ایک عمل کا ہم عمر بھر قرض نہیں چکا سکتے ۔۔ اور ماں کی محبت کوئی کاروبار تو ہے نہیں جس کا قرض چکایا جا سکے ۔
سولہ نومبر کو ڈاکٹر اختر علی سید اور برادرم علی نقوی کی والدہ کی وفات پر سب کی مائیں یاد آ گئیں ۔۔ کہ مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔۔وہ ہمیں روشنی دیتی ہیں ۔۔ اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہیں ۔ سچ اور جھوٹ کا فرق سمجھاتی ہیں ۔ ہمیں اُڑنا سکھاتی ہیں اور جب پرندے پرواز کر جاتے ہیں تو پھر مائیں تنہا رہ جاتی ہیں ۔دروازے کی جانب نظریں جمائے منتظر رہتی ہیں کہ کب بچے گھروں کو لوٹتے ہیں ۔ ہم نے عمر بھر رات کی نوکری کی ۔۔ رات کے جس پہر بھی گھر لوٹتے ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ ماں جاگ رہی ہو گی اور ہم سیدھے ان کے کمرے جا کر سلام کرتے تو ان کا بس ایک ہی جواب ہوتا تھا ’’ آگیا ایں ؟ بس میں تیرا ای انتظار کر رئی سی ‘‘ ( آگئے ہو ؟ بس میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی ) اور اس کے بعد وہ سکون سے سو جاتی تھیں ۔۔
ایک ماہ پہلے تک وہ دن بھر دعا کو آوازیں دیتی تھیں ۔۔ دعا رانڑی کھیڈاں پانڑی ان کا مخصوص جملہ ہوتا تھا ۔۔ دعا دن بھر ان کے لیے ہمہ تن گوش رہتی تھی ۔۔ تین روز ہونے کو آئے ماں نے کسی کو آواز نہیں دی ۔۔ تین روز ہونے کو آئے انہیں بمشکل بٹھا کر کچھ کھلایا جاتا ہے تاکہ وہ دوا لینے کے قابل ہو جائیں ۔۔ ۔ ماں کو ہم نے ایک سے زیادہ مرتبہ موضوع بنایا ۔ سب سے پہلے قمر رضا شہزاد کی والدہ کی رخصتی پر مضمون لکھا ۔۔ پھر اپنی ماں کی اشکوں بھری کہانی لکھی جسے حبیب الرحمان بٹالوی صاحب نے اپنی کتاب کا سرنامہ بنا کر ہمیں کچھ اور اشکوں بھری کہانیاں لکھنے کی ترغیب دی ۔۔اور ہم نے اپنی دادی اماں کے دکھ بھی سپرد قلم کر دیے ۔۔ پھر ایک مضمون ہم نے شاکر حسین شاکر کی والدہ کی وفات پر رخصت کیا تھا کہ وہ بھی تو میری ماں تھیں ۔۔
علی نقوی اور ڈاکٹر اختر علی سید کی والدہ کے جنازے میں انہیں پرسہ دینے کے لیے ہمارے پاس کوئی لفظ ہی نہیں تھے ۔۔ اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا کسی کی ماں کی رخصتی پر بھلا اسے کیسے پرسہ دیا جاتا ہے ۔ علی نقوی اور اختر بھائی کے ساتھ دکھ کی سانجھ یہ بھی تھی کہ ہماری مائیں کم و بیش ایک ہی کیفیت کا شکار رہیں ۔۔ ایسی کیفیت کہ جہاں ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں ۔۔ وہ ان کے لیے دوا تجویز کرتے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ امی کا علاج اب صرف خواب آور گولیاں ہیں ۔۔ کہ انہیں صرف آرام اور سکون کی ضرورت ہے ۔۔
آج یہ مضمون لکھنے بیٹھا تو وہ سب مائیں یاد آ گئیں جو اپنے حصے کے دکھ جھیلنے کے لیے ہی اس دھرتی پر آئی تھیں اور دکھ جھیل کر چلی گئیں ۔۔ ان میں ایک ماں میری دادی اماں تھیں جنہوں نے پہلے میرے تایا میجر ضیاء الدین اوپل اور پھر میرے والد ذکاء الدین اوپل کی موت کا صدمہ دیکھا ۔۔ اور جب ہم پڑھنا سیکھ گئے تو روزنامہ مشرق کے بچوں کے صفحات کا ایک پلندہ ہمارے حوالے کر دیا کہ ہم ان میں سے کہانیاں پڑھیں ۔۔ یہ صفحات انہوں نے جانے کب سےہمارے لیے سنبھال رکھے تھے ۔۔ اور شاید بچپن کے اسی تحفے نے ہمیں عمر بھر کے لیے اخبار اور کہانی کے ساتھ جوڑ دیا ۔۔
ہماری نانی اماں بھی بہت دکھ جھیل کر اس جہان سے رخصت ہوئیں ۔۔ انہوں نے بہت اچھا وقت بھی دیکھا تھا ہمارے نانا کا ہوٹل کا کام تھا ۔ انہوں نے پہلے ملتان کی گلی پتراں والی میں ہوٹل بنایا ۔ اسی پتراں والی گلی کے وارڈ نمبر چھے سے میری ماں کی ڈولی صدر بازار کے اس گھر میں آئی جو میرے داد شیخ عبدالکریم اوپل کے حوالے سے کریم منزل کہلاتا تھا ۔۔ نانی اماں کی باقی زندگی مسلسل ہجرت کی کہانی ہے ۔۔
نانا چوہدری تاج الدین امرتسری ملتان سے لاہور ، پھر رحیم یار خان اور پھر عمر کے آخری حصے میں ملتان واپس آ گئے ۔۔ ان کی کچھ زرعی اراضی بھی تھی ۔۔ہم اپنے بچپن میں امی کے ہمراہ بورے والا کے چک 118/EB میں اپنی نانی اماں کو ملنے کے لیے جاتے تھے ۔۔ اس گاؤں میں ارائیوں کی اکثریت تھی ۔۔ نانی اماں ہمیں دیکھتے ہی آسمان کی طرف دیکھتیں اور کہتیں ’’ سویر دا کاں بولی جا رہیا سی تے میں سوچ رئی سی اج تے میری دھی آ جاوے ۔۔ واہ میریا مالکا اج تے نیڑے ہو کے سنڑ لئی ویرنہ ( ورنہ ) میں تے بہت ای اداس سی ( صبح سے کوا بولے چلا جا رہا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ آج تو میری بیٹی ہی آ جائے ۔۔ واہ میرے مالک آج تو بہت نزدیک ہو کر سنی ہے ورنہ میں تو بہت ہی اداس تھی ) ۔۔ نانی اماں ایک محنت کش خاتون تھیں ۔۔ کپاس کی چنائی کے موسم میں وہ ہمیں بھی ساتھ لے جاتیں ۔ اور یہی نہیں کماد کی فصل سے وہ گنوں کی ’’ پِنڈ ‘‘ اپنے سر پر اٹھا کر لاتیں ۔۔ اور کبھی ملتان بھی ہمیں ملنے کے لیے آتیں تو گنے ، گڑ ، شکر ، اور جانے کون کون سی سوغاتیں وہ ہمارے لیے لے کر آتی تھیں ۔۔ہماری نانی اماں بھی ہم سب کو بہت سی خوشیاں دے کر اپنے ساتھ بہت سے دکھ لے گئیں ۔۔ وہ ملتان میں تھیں ان دنوں اور نانا جان کا انتقال ہو چکا تھا ۔۔ ہمارے دونوں ماموں حیات تھے ۔۔ چھوٹے ماموں نے کہا ماں کو میں نے اپنے پاس رکھنا ہے ۔۔ ماں کو ویسے بھی چھوٹے بیٹے سے زیادہ محبت ہوتی ہے ۔۔ سو وہ ان کے پاس آ گئیں ۔۔ ماموں سورج کنڈ روڈ پر ایک بیکری میں کام کرتے تھے ۔۔ نانی اماں کو بھی انہوں نے اپنے ساتھ ہی رکھ لیا ۔۔ اسی دوران وہ بیمار ہوئیں اور ان کا انتقال ہو گیا ۔۔ ماموں کے چند دوست اس جنازے میں شریک ہوئے ۔۔ اونچے نیچے راستے عصر کا وقت ۔۔ نانی اماں کو کندھا دینے کے لیے ہم چند لوگ ہی موجود تھے ۔۔ قریب ہی ایک قبرستان میں انہیں گیس لیمپ کی روشنی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔۔ بہت رعب و دبدبے والی نانی اماں دکھوں سے آزاد ہو گئیں ۔۔ اور آج مجھ سمیت کسی کو بھی معلوم نہیں کہ نانی اماں کہاں آرام فرما رہی ہیں ۔۔ اور اگر معلوم بھی ہوتا تو اس سے بھلا کسی کو کیا فرق پڑتا ۔مائیں کہاں پیدا ہوتی ہیں یہ تو انہیں معلوم ہوتا ہے لیکن انہوں نے کس شہر اور کس مٹی میں آسودہ ہونا ہے یہ انہیں معلوم ہی نہیں ۔۔ یہ صرف ہماری ماؤں کی نہیں ہر عورت کی کہانی ہے ۔۔ماں دنیا کا سب سے خوبصورت لفظ ضرور ہے لیکن یہ سب زیادہ دکھ جھیلنے والی ہستی بھی تو ہے ۔۔۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میری ماں زندگی میں آسودگی کے لمحات ہی کتنے گزارے ؟ ۔۔یہی کوئی ساڑھے پانچ سال کا عرصہ بنتا ہے جب وہ بیوہ ہوئیں اور انہوں نے میرے درزی والد کی مشین خود سنبھال لی ۔۔ باقی ساری عمر ہماری پرورش میں گزر گئی ۔۔
علی نقوی آپ کی ماں کو یاد کرنے بیٹھا تو سب کی مائیں یاد آ گئیں ۔۔ مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں سو دکھ بھی ہمارا سانجھا ہے ۔۔ میری ماں کے لیے دعا کرنا کہ وہ مجھے نہیں تو اپنی دعا رانڑی کو ہی آواز دے دیں ۔۔
فیس بک کمینٹ

