دنیا کے دانش وروں نے یونیورسل یا آفاقی اخلاقیات بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں یہ اخلاقیات زیادہ تر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دکھائی دیتی ہیں۔ مثلاً جنگی جرائم کا معیار تمام اقوامِ عالم کے لیے یکساں ہے، چاہے وہ کوئی نام نہاد تہذیب یافتہ ملک ہو یا افغانستان جیسا پسماندہ ملک۔ شعبۂ طب میں بھی آفاقی طبی اخلاقیات تشکیل دی گئی ہیں جن کے مطابق دنیا بھر کے مریضوں کو ایک جیسے طبی حقوق حاصل ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اخلاقیات کے معیار ہر قوم کے جغرافیائی، سماجی، معاشی اور سیاسی حالات کے مطابق ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
روزمرہ زندگی میں اخلاقی طور پر ہمیں لوگوں کو جَج نہیں کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی ہم سے ادب سے بات کرے تو ہم اس کے بارے میں یہ رائے ضرور قائم کر لیتے ہیں کہ وہ اچھے گھر سے تعلق رکھتا ہے یا اس کی تربیت بہت اچھی ہوئی ہے۔ اور کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ یعنی گھروں کی اخلاقیات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ دیہات کے لوگوں کی اخلاقیات کو شہری آبادی سے کمتر سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ’’سوک سینس‘‘ یا ’’شہری سمجھ بوجھ‘‘ جیسی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود ملک کے تمام باشندوں کو شہری یا سویلین کہا جاتا ہے، چاہے ان کا تعلق دیہی علاقوں سے ہی کیوں نہ ہو۔
باریک بینی سے جائزہ لینے پر شہریوں کی اخلاقیات چاہے مختلف ہی کیوں نہ ہوں، وہ بحیثیتِ مجموعی ایک قوم کے طور پر اپنا ایک اخلاقی تشخص قائم کر دیتے ہیں، جسے دیکھ کر دنیا کے لوگ ان کے بارے میں اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ مثلاً کوئی پاکستانی دنیا کے کسی بھی حصے میں کیوں نہ ہو، اپنی اخلاقیات سے پہچان لیا جاتا ہے کہ اگر اس شخص نے فلاں حرکت کی ہے تو ضرور یہ پاکستانی ہوگا۔کچھ ملکوں میں فوجی طبقہ خود کو سویلین طبقے سے بالاتر سمجھتا ہے اور اس حد تک بداخلاق ہوتا ہے کہ اپنے شہریوں کو ’’بلڈی سویلین‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ خیر، یہ بات دوسری طرف چلی گئی۔
اخلاقیات کی تغیر پذیری مختلف شہروں اور ملکوں کا سفر کرنے والے یا اپنی زندگی کئی شہروں میں گزارنے والے بخوبی سمجھتے ہیں۔ مثلاً وہ سرکاری افسر جن کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں، ہر نئے شہر کے لوگوں کی اخلاقیات مختلف پاتے ہیں۔ یہ ایک سبجیکٹو یا ذاتی مشاہدہ ہوتا ہے، کیونکہ لاہور کے شہری کے لیے ڈیرہ غازی خان کی اخلاقیات کو قبول کرنا اور ان سے موافقت اختیار کرنا اُس شخص سے مختلف تجربہ ہوتا ہے جو خود ڈیرہ غازی خان کے قرب و جوار سے تعلق رکھتا ہو۔
ہمیں ذہنی طور پر پریشان کرنے کے لیے اخلاقیات کا بُرا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ہم بعض اوقات اچھے اخلاق سے بھی مضطرب ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ہم پاکستانی کسی یورپی ملک میں جائیں تو انگریزوں کے حسنِ سلوک سے بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔ اسے ہم کلچرل شاک یا معاشرتی صدمہ بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح کچھ عرصہ بیرونِ ملک گزار کر جب ہم اپنے وطن لوٹتے ہیں تو ہمیں بے ہنگم ٹریفک، شور اور بے ترتیبی بہت بری لگتی ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد دنیا ’’گلوبل ویلیج‘‘ بن رہی ہے، ہم سب ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور اصولی طور پر ہماری اخلاقیات ایک جیسی ہو جانی چاہئیں۔ لیکن شاید ایسا نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہم تخیلاتی طور پر تو ایک دوسرے کے قریب ہیں، لیکن جسمانی طور پر ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ شاید ہم اپنی اخلاقیات کا بہترین اظہار اپنے حقیقی، طبعی تعلقات کے ذریعے ہی کرتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اخلاقیات کا دارومدار ہماری نیتوں پر ہوتا ہے۔ اچھی اخلاقیات وہ ہیں جن کے استعمال سے ہم دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتے، چاہے یہ نقصان طبعی ہو یا نفسیاتی۔ اگر ہمارے کسی عمل سے لوگوں کو نقصان پہنچ رہا ہے تو یقیناً ہم بداخلاقی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے سیاسی افق پر ہمیں کچھ ایسی کارروائیاں نظر آ رہی ہیں جو اس ملک کے عوام کے لیے مستقبل میں نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ یہ میری بطورِ ایک سویلین ذاتی رائے ہے۔ فوجی رائے یقینا مجھ سے مختلف ہوگی۔
فیس بک کمینٹ

