خود کو پڑھا لکھا سمجھنے والے بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ اگر انگریز یہاں نہ آئے ہوتے تو برصغیر آج بھی تہذیب و تمدن کی برکات سے دور جہالت کے اندھیروں میں غوطے لگا رہا ہوتا ۔ پھر جب میں نے فرانسس برنیئر ، نکولو منوچی، باری علیگ صاحب ، میجر باسو ،ڈاکٹر مبارک علی ، ولیم ڈیلرمپل جیسے مصنفین کو پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ میں خود اندھیرے میں غوطے لگا رہا تھا ۔ انگریزوں نے اپنے مالی فائدے اور اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے یہاں کچھ جدید ادارے ضرور قائم کیے مثلاً ریلوے کا نظام قائم کیا ، سکول اور کالج بنائے ، انتظامی اور عدالتی ادارے بنائے لیکن انہوں نے ایک خوشحال ملک کو چوس کر مضمحل کر ڈالا۔ یہاں کے قدیم اور مضبوط اداروں کو تباہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ صنعت اور زراعت کو برباد کیا ۔
جن ممالک میں انگریزوں یا دیگر یورپین آبادکار نہیں گئے ، کیا انہوں نے ترقی نہیں کی ؟ ایران اور ترکی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ، یہ دونوں ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم ریسرچ اور انڈسٹری میں پاکستان سے بہت آگے ہیں۔ چین پر یورپین قوتوں نے کئی حملے کیے ، چینیوں کو افیمی بنانے کی کوشش کی لیکن چین آج ترقی کی شاہراہ پر ان سب سے کہیں آگے ہے۔ چین جاپان کوریا ویتنام جیسے ممالک نے اپنی زبان اپنی ثقافت اور اپنی قدیم دانش پر سمجھوتہ کیے بغیر ترقی کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ یورپی افکار زبانوں لباس اور رہن سہن کو اختیار کیے بغیر بھی ترقی کی جا سکتی ہے ۔
قوموں کی زندگی میں ایسے مراحل آتے ہیں جب وہ زوال پذیر ہوتی ہیں کیونکہ ہر دور کے اپنے تقاضے اور اپنے ادارے ہوتے ہیں ، پرانے اداروں کو تبدیل کرنے اور بہتر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، عہد زوال میں کچھ دانشمند اور انقلابی لوگ سامنے آتے ہیں جو صورت حال کو سنبھالتے ہیں ،مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں اور دوبارہ ترقی کے راستے پر سفر شروع ہو جاتا ہے ۔مہرگڑھ ہڑپہ موہنجوڈارو ٹیکسلا ، کالی بانگن ، دھولا ویرا ، راکھی گڑھی ، لوتھل اجنتا اور ایلورا برصغیر ہی میں تو تھے۔
اتفاق سے جب یورپی اقوام یہاں آئیں تو اس وقت اس خطے میں زوال کا آغاز ہو رہا تھا ، انہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور یہاں قابض ہو گئے۔
قدیم ہندوستان کے تعلیمی ادارے پاٹھ شالے اور گروکل ہوا کرتے تھے ، وہاں صرف ویدوں کے پاٹھ ہی نہیں کرائے جاتے تھے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ذات پات کا نظام قائم تھا ( ذرا مختلف انداز میں ہر جگہ یہ ظالمانہ نظام تھا اور آج بھی ہے ) برہمن بچوں کو سنسکرت اور دھرم کا گیان دیا جاتا تھا ، کھشتری بچوں کو پڑھنے لکھنے کے ساتھ تلوار زنی تیر اندازی اور جنگی حکمت عملی کی تربیت دی جاتی تھی ، ویشوں کے بچوں کو ریاضی کی تعلیم دی جاتی تھی اور تجارت کے اصول سکھائے جاتے تھے ۔
اس بات پر تو سب ماہرین متفق ہیں کہ قدیم ہندوستان ریاضی میں بہت ترقی یافتہ تھا ، صفر یعنی زیرو اور اعشاری نظام یہاں کی ہی دریافت ہے۔ تین سو قبل مسیح لکھی جانے والی کتاب ارتھ شاستر میں نجی زمین کی پیداوار پر ٹیکس 16.67 فیصد تجویز کیا گیا تھا ۔
اسلام کی آمد کے بعد مدارس کا آغاز ہوا جہاں کا بنیادی نصاب اگرچہ وہی ہوتا تھا جو آج کل کا درس نظامی ہے ، لیکن مخصوص مدارس میں تاریخ جغرافیہ فلکیات اور ریاضی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔
برصغیر یا اس دور کا ہندوستان دنیا کا خوشحال ترین ملک تھا۔ اورنگزیب کے دور میں جب انگریزوں نے سورت میں تجارتی کوٹھی قائم کی تو وہاں کے ایک تاجر ملا عبدالغفور کا سرمایہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کل سرمائے سے زیادہ تھا۔ فرانسس برنیئر کے مطابق ہندوستان ایک ایسی خلیج ہے جہاں دنیا بھر سے سونا آ کر جمع ہوجاتا ہے اور باہر نہیں نکلتا۔ اس دور میں یہاں کی کرنسی سونا تھی اور ہندوستان دنیا بھر کو ایکسپورٹ کرتا تھا ، امپورٹ بہت کم تھی لہذا سونا یہاں جمع ہوتا رہتا تھا ۔
اکبر کے دور میں سب سے بڑا کرنسی نوٹ مہر شاہی اشرفی تھی جو 102 تولے کی تھی اور سب سے چھوٹا نوٹ رواجی اشرفی تھی جو آٹھ ماشے کی تھی ، جہانگیر مہر شاہی کو 100 تولے کا کر دیا اور اس کا نام نور شاہی رکھا ، آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ نور جہاں کے نام پر ۔۔ اور سب سے چھوٹی اشرفی رواجی کو تین ماشے کی کر دیا گیا ۔
کلکتہ کی بندرگاہ سے ہر سال پچاس سے ساٹھ بحری جہاز سامان تجارت لے کر نکلا کرتے تھے ۔ بمبئی میں شپ یارڈ تھے جہاں کئی بیرونی ملکوں کے لیے بھی جہاز تیار ہوتے تھے ۔ سورت میں صرافے کی دکانوں پر سونے کی اشرفیوں کے ڈھیر یوں پڑے ہوتے تھے جیسے غلہ منڈی میں اناج کے ڈھیر۔ اور ایسا ہی دلی میں بھی تھا ۔ محمد تغلق کے دور میں دہلی میں کپڑے کا ایک بڑا کارخانہ قائم کیا گیا جہاں دو ہزار کاریگر کام کرتے تھے ۔( آپ نے کتابوں میں دلی کی کرخنداری بولی کے بارے میں پڑھا ہو گا ، یہ در اصل اردو کا ایک خاص لہجہ تھا جو یہ کاریگر حضرت بولا کرتے تھے ، کرخنداری مطلب کارخانہ داری زبان) ۔
ہندوستان خصوصاً بنگال میں دنیا کی نفیس ترین ململ بنتی تھی جس کے بارے میں آج بھی مشہور ہے کہ ایک تھان دیا سلائی کی ڈبیا میں سما جاتا تھا یہ انگوٹھی میں سے گزر سکتا تھا ۔ برطانوی پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کی گئی تھی کہ اگر ہندوستان سے کپڑے کی درآمد پر پابندی عائد نہ کی گئی تو ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ ریشمی اور اونی کپڑے ، دنیا کی نفیس ترین کشمیری شالیں ، ظروف ، زیورات ، آرائش کا سامان ، مسالہ جات ، تلواریں اور آلات حرب دنیا بھر کو برآمد کیے جاتے تھے ۔ مھند تلواروں کا ذکر تو تاریخ اسلام میں بھی آتا ہے ، مھند کے معنی ہیں ہند میں بنی ہوئی یعنی میڈ ان انڈیا۔ دلی میں قطب مینار کے قریب 1500 سال پرانا لوہے کا بنا ہوا ایک مینار ہے جسے قطب صاحب کی لاٹھ کہتے ہیں ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں یہاں لوہے کو کان سے نکالنے صاف کرنے اور فولاد بنانے کے کارخانے موجود تھے۔
معروف سیاح اور مصنف ابن حوقل یہاں کے بازاروں میں مال و اسباب دیکھ کر اور ان کی ارزانی کے بارے میں جان کر حیرت زدہ رہ گیا تھا اور لکھا کہ گوشت گھی شہد میوہ جات تو اس قدر سستے ہیں کہ گویا مفت میں ملتے ہیں ۔
اور پھر دین عیسوی اور روشن خیالی کی برکات پھیلانے ترقی یافتہ مہذب برطانوی یہاں آتے ہیں تو وہ وقت بھی آتا ہے کہ لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ قحط سے مر جاتے ہیں ۔
ساحر لدھیانوی کی نظم قحط بنگال کا آخری شعر ہے
پچاس لاکھ فسردہ گلے سڑے ڈھانچے
نظام زر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں
خموش ہونٹوں سے دم توڑتی نگاہوں سے
بشر بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ۔
فیس بک کمینٹ

