واشنگٹن : امریکہ نے پاکستان اور ایران سمیت 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ کا عمل روک دیا ہے۔
بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’امریکی محکمہ خارجہ ان 75 ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کے امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ روک رہا ہے، جن کے شہری ناقابلِ قبول حد تک امریکی عوام کی ویلفیئر کے لیے کیے گئے اقدامات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘
امریکی محکمہ خارجہ نے ان تمام 75 ممالک کے ناموں کی فہرست نہیں جاری کی تھی۔ تاہم امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ فوکس نیوز کی جانب سے ان ممالک کے نام رپورٹ کیے گئے ہیں اور ان میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔
ان ممالک کے نام جاننے کے لیے جب امریکی محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو اس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے روحان احمد کو بتایا کہ ’ہم فوکس نیوز کی خبر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔‘
اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا تھا کہ ’یہ پابندی اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکہ یہ یقینی نہ بنا لے کہ نئے آنے والے تارکینِ وطن امریکی عوام کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس اقدام سے درجنوں ممالک، جن میں صومالیہ، ہیٹی، ایران اور اریٹیریا بھی شامل ہیں، متاثر ہوں گے، جن سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اکثر امریکہ پہنچتے ہی ’سرکاری امداد کے محتاج بن جاتے ہیں۔‘
’ہم یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ امریکی عوام کی سخاوت کا اب مزید غلط استعمال نہ ہو سکے۔‘
دوسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک میں قانونی اور غیرقانونی دونوں قسم کی امیگریشن کو محدود کر رہے ہیں اور ان کی انتظامیہ برازیل، ایران، روس اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ویزا پراسیسنگ روک چکی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے 75 ممالک کے ناموں کی فہرست تو نہیں جاری کی گئی تاہم اس نئے حکمنامے پر عملدرآمد 21 جنوری سے شروع ہوگا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے قونصل افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ امیگریشن کے خواہشمند افراد کی درخواستیں روک دیں۔ تاہم اس نئی پابندی کا اثر نان امیگریشن، عارضی سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر نہیں پڑے گا۔
فیس بک کمینٹ

