پشاور /کوئٹہ : پاکستان کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کی اطلاعات کے بیچ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں چند ایسے گرم مرطوب مقامات پر بھی ہلکی برفباری ہوئی ہے جہاں عموماً موسم سرما میں برفباری نہیں ہوتی یا یہ عمل طویل عرصے بعد دیکھنے کو ملا ہے۔
غیرمتوقع برفباری سے متاثرہ خیبرپختونخوا کے علاقوں میں جنڈولہ (ضلع ٹانک) اور صدہ (ضلع کرم) شامل ہیں جبکہ بلوچستان میں خاران اور نوشکی جیسے اضلاع کے بعض مقامات پر بھی برسوں بعد برفباری ہوئی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اس غیر متوقع برفباری کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔
پاکستان میں محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں اب تک سب سے زیادہ برفباری مالم جبہ (38 انچ) میں ہوئی۔ وادی کالام میں اب تک 30 انچ، چترال میں 16 انچ اور پاڑا چنار میں 15 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں اب تک ساڑھے 11 انچ برف پڑ چکی ہے جس کے بعد مری جانے والے تمام راستے سیاحوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقوں قلات اور کوئٹہ میں بھی بالترتیب 1.6 اور 1.5 انچ برفباری ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ پاکستان کو رواں برس دہائیوں کے بعد اپنے سخت ترین سرد موسم کا سامنا رہے گا اور اس کی بنیادی وجہ ’لانینا‘ نامی موسمیاتی پیٹرن کو قرار دیا گیا تھا۔
پاکستان میں گذشتہ مون سون سیلاب کے حوالے سے بین الایجنسی کوآرڈینیشن گروپ اور شراکت دار اداروں کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق، لانینا کے باعث پاکستان میں معمول سے زیادہ سرد موسم متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی سردی سے وہ گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جو گذشتہ سال سیلاب سے پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقے، جہاں پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے سردیوں کا مقابلہ مزید دشوار ہو سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک کے قریب نیم قبائلی علاقے جنڈولہ میں برفباری کی ابتدا جمعرات کی دوپہر کو ہوئی اور یہ سلسلہ گذشتہ رات کو بھی جاری رہا۔ جنڈولہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن پتو لالہ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ جنڈولہ میں حیران کن طور پر کل دوپہر کو برف گرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ’کبھی اپنی زندگی میں اس علاقے میں برفباری ہوتی نہیں دیکھی تھی اور کل جو کچھ ہوا وہ حسین اتفاق تھا۔‘
پتو لالہ کے مطابق ’جیسے ہی برفباری کا آغاز ہوا تو مقامی لوگوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔‘ یاد رہے کہ جنڈولہ کا علاقہ ٹانک اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع ہے۔
ڈپٹی کمشنر ٹانک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جنڈولہ سب ڈویژن میں برف پڑی ہے، لیکن یہ بہت زیادہ نہیں ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کی اطلاعات کے مطابق ماضی میں اس علاقے میں کبھی برفباری ہوئی؟ ڈپٹی کمشنر ٹانک نے کہا کہ ’مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کی یادداشت میں ایسی کوئی بات نہیں کہ اِس علاقے میں کبھی برف پڑی ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جو وزیرستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔‘
دوسری جانب ضلع کرم میں صدہ اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں بھی برفباری ہوئی ہے۔ صدہ ہسپتال میں موجود ڈاکٹر رحیم نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں آخری برفباری 2016 کے موسم سرما میں ہوئی تھی۔ ’2019 میں بھی تھوڑی سے برف پڑی لیکن کل رات سے یہاں کافی برفباری ہوئی ہے۔‘
یاد رہے کہ سینٹرل کرم میں مجوزہ فوجی آپریشن کے وجہ سے نقل مکانی کرنے والے کچھ متاثرین بھی صدہ میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں جو اس صورتحال کے باعث بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں برفباری ہوئی ہے۔ مقامی صحافی ہجرت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چند سال پہلے خیبر کے بالائی علاقوں میں برفباری ہوئی تھی لیکن اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ لنڈی کوتل شہر میں بھی برفباری ہوئی ہے۔‘
محکمہ موسمیات خیبر پختونخوا کے سربراہ ڈاکٹر محمد فہیم نے بتایا کہ ’لنڈی کوتل میں دہائیوں بعد پہلی بار تھوڑی بہت برفباری سنہ 2022 میں ہوئی تھی۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’لنڈی کوتل میں سنہ 2022 میں جو برف باری ہوئی تھی اس کے بارے میں مقامی بزرگ شہریوں کا کہنا تھا کہ اُن کی یاداشت کے مطابق یہ برف باری لگ بھگ 50 سال کے بعد ہوئی تھی۔‘
محکمہ موسمیات خیبر پختونخوا کے سربراہ ڈاکٹر محمد فہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں پاکستان کے بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ نومبر کے مہینے میں شروع ہو جاتا تھا اور یہ سلسلہ دسمبر میں عروج پر پہنچتا تھا لیکن اب گذشتہ چند برسوں سے نومبر اور دسمبر کے بجائے بالائی علاقوں میں برفباری جنوری کے مہینے میں شروع ہوتی ہے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ سال چترال میں اپریل میں بھی برفباری ہوئی تھی۔
جب ڈاکٹر فہیم سے پوچھا گیا کہ خیبر پختونخوا کے علاقے جنڈولہ میں برف کا پڑنا کتنا غیر معمولی ہے تو انھوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر بعض اوقات ایسا سسٹم تخلیق ہو جاتا ہے جو اولوں کی شکل میں ہوتا ہے لیکن اُن ساخت انتہائی نرم ہوتی ہے اور یہ برفباری جیسی محسوس ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا یہ غیرمتوقع موسمیاتی پیٹرن بنیادی طور پر دنیا بھر میں پیش آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی کڑی ہے۔

