کوئٹہ : پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا۔
بارشوں کی وجہ سے ضلع نصیر آباد میں کم از کم تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے جبکہ سرحدی شہر چمن میں گھروں کو نقصان پہنچا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے باعث ضلع نصیر آباد کے ہیڈ کوارٹر ڈیرہ مراد جمالی میں ایک مکان کی چھت گر گئی۔
ایس ایچ او پولیس ڈیرہ مراد جمالی غلام علی کنرانی نے بتایا کہ چھت گرنے سے محنت مزدوری کرنے والے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے جن میں والدہ اور دو کمسن بچے شامل ہیں جبکہ گھر کے سربراہ سمیت خاندان کے تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ زخمی افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
بارشیں مکران ڈویژن رخشاں ڈویژن، قلات ڈویژن، کوئٹہ ڈویژن، لورالائی ڈویژن اور نصیرآباد ڈویژن کے مختلف علاقوں میں ہوئیں۔
بارشوں کے باعث افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے نواحی علاقوں میں متعدد گھروں کو نقصان پہنچا۔
بارشوں کے ساتھ ساتھ ضلع چمن میں کوژک اور ضلع زیارت کے علاوہ، توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی، کنچوغی، کان مہترزئی اور خانوزئی کے علاقوں میں موسم کی پہلی برفباری ہوئی۔
کوئٹہ چمن اور کوئٹہ ژوب شاہراہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی اور پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار برف کو ہٹانے میں مصروف رہے۔ اس مقصد کے لیے شاہراہ پر نمک چھڑکنے کے علاوہ مشینری کو استعمال کیا جاتا رہا۔
توبہ اچکزئی اور بعض دیگر علاقوں میں برفباری سے لوگوں کی آمدورفت کے راستے بند ہو گئے ہیں ۔
طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے سے بلوچستان کے متعدد علاقے خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں جہاں بارشوں سے خشک سالی کے اثرات کم ہونے میں مدد ملے گی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق یکم جنوری کو بھی بارش اور برفباری متوقع ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )

