ریاستِ پاکستان اس وقت ایک ایسے مخمصے میں گھری ہوئی ہے جہاں آئین کی روح اور عمل کی حقیقت ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔ بظاہر پارلیمانی نظام موجود ہے، مگر پس پردہ ڈکٹیشن کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہی دوہرا پن جمہوری حکومت کو کھل کر عوامی فلاح کے کام کرنے سے روکتا ہے۔ فیصلوں کی طاقت کہیں اور ہو اور ذمہ داری کسی اور پر ڈال دی جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ریاست کی گاڑی رک رک کر چلتی ہے اور عوام اس کے پہیوں تلے پس جاتے ہیں۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بے جا کٹوتیاں محض معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی ضرب ہیں۔ جس ملازم نے ریاست کے لیے اپنی جوانی، مہارت اور صحت کھپا دی ہو، اس کے بڑھاپے میں تحفظ چھین لینا دراصل اعتماد کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔ کسان بلک رہے ہیں؛ ان کی محنت کی قیمت نہیں ملتی، بیج مہنگے، کھاد مہنگی، پانی غیر یقینی اور منڈی بے رحم۔ یوں غذائی خودکفالت کا خواب کسان کی آنکھوں کے سامنے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔
بے روزگاری نے نوجوانوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ تعلیم یافتہ ہاتھ خالی ہوں تو ذہن بے چین اور دل مایوس ہو جاتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن اور پیشہ ورانہ تعلیم سے امیدیں تھیں کہ یہ روزگار کے دروازے کھولیں گی، مگر نصاب اور مارکیٹ کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، مگر ہنر اور مواقع نہیں۔ یوں نوجوان توانائی ریاست کے لیے سرمایہ بننے کے بجائے بوجھ بنتی محسوس ہوتی ہے—اور یہ احساس کسی بھی قوم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کو غیر معمولی اختیارات دے کر احتساب کے بغیر طاقت سونپی جائے تو بلیک میلنگ اور رشوت کی راہیں خود بخود کھلتی ہیں۔ طاقت کا توازن بگڑ جائے تو قانون خوف کی شکل اختیار کر لیتا ہے، انصاف کی نہیں۔ عدلیہ انصاف دینے میں تاخیری حربوں سے مظلوموں کو مجبورِ محض بنا چکی ہے۔ انصاف میں تاخیر، دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہوتی ہے۔ جب شہری کو برسوں دروازوں پر دستک دینی پڑے تو ریاست سے اس کا رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔
آبادی کا بم دھماکے کے قریب ہے، مگر منصوبہ بندی کہیں نظر نہیں آتی۔ تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار—چاروں محاذوں پر ہم آبادی کے دباؤ کے آگے پسپا دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ اور پنجاب کے سوا کہیں ہلچل دکھائی نہیں دیتی؛ جمود نے سیاست اور معاشرت دونوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ میڈیا ایک فرد یا ایک بیانیے کا نامہ بن کر رہ گیا ہے، جہاں تنوعِ رائے کم اور شور زیادہ ہے۔ جب میڈیا سوال کرنا چھوڑ دے تو اقتدار بے خوف ہو جاتا ہے۔
اس پوری تصویر میں ریاست کی شکل ایک ایسے نظام کی سی ہے جس میں آئین موجود ہے مگر روح غائب، ادارے ہیں مگر ہم آہنگی نہیں، وسائل ہیں مگر ترجیحات نہیں، عوام ہیں مگر شراکت نہیں۔ انارکی کی فضا میں قانون کمزور اور طاقتور مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ ریاست کا وقار بندوق یا بیانیے سے نہیں، انصاف، شفافیت اور مواقع کی مساوی تقسیم سے بنتا ہے۔
اگر ہمیں اس مخمصے سے نکلنا ہے تو سب سے پہلے فیصلہ سازی کو آئینی دائرے میں لانا ہوگا۔ منتخب نمائندوں کو اختیار بھی اور جواب دہی بھی دی جائے۔ اداروں کے بیچ توازن قائم ہو، اختیارات کے ساتھ سخت احتساب آئے۔ معیشت میں کسان، مزدور اور ملازم کو مرکزیت دی جائے؛ نوجوانوں کے لیے ہنر اور روزگار کا راستہ کھولا جائے؛ تعلیم کو مارکیٹ اور سماج سے جوڑا جائے؛ اور میڈیا کو سوال کرنے کی آزادی واپس دی جائے۔
ریاستیں نعروں سے نہیں بنتیں، اصولوں سے بنتی ہیں۔ پاکستان کے موجودہ خدوخال اسی وقت بدلیں گے جب ہم طاقت کی سیاست سے نکل کر قانون کی حکمرانی، اور مفادِ خاص سے نکل کر مفادِ عام کی طرف آئیں گے۔ ورنہ یہ جمود ہمیں آہستہ آہستہ ایک ایسے موڑ پر لے جائے گا جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
فیس بک کمینٹ

