فلوریڈا :امریکی سیکرٹ سروس نے ریاست فلوریڈا میں میں امریکی صدر ٹرمپ کی ذاتی رہائش گاہ مار اے لاگو میں غیر قانونی طور پر داخلے کی کوشش کرنے والے شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص شاٹ گن اور ایک فیول کین اٹھائے ہوئے تھا۔
پام بیچ کاؤنٹی کے شیرف رِک بریڈشا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 2 سیکرٹ سروس اہلکاروں اور ایک ڈپٹی شیرف نے مشتبہ شخص کو روکا اور اسے ہتھیار اور فیول کین زمین پر رکھنے کا حکم دیا۔
شیرف کے مطابق اس شخص نے پیٹرول کا کین تو نیچے رکھ دیا تاہم شاٹ گن کو فائرنگ کی پوزیشن میں اٹھا لیا، جس پر اہلکاروں نے فائرنگ کر دی، فائرنگ کے نتیجے میں مشتبہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ کسی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ اس وقت واشنگٹن میں موجود تھے اور واقعے کے وقت ریزورٹ میں نہیں تھے۔
حکام نے واقعے کے محرکات کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کیں، ایف بی آئی نے تحقیقات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے یہ بات بتائی کہ مار-اے-لاگو میں گولی لگنے سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 21 سالہ آسٹن ٹی مارٹن کے طور پر ہوئی ہے، جو کیمرون، نارتھ کیرولائنا کے رہائشی تھے۔
حکام کے مطابق جب وہ مار-اے-لاگو میں داخل ہوئے تو ان کے پاس ایک شاٹ گن اور گیس کین موجود تھا۔ وہ اس وقت اندر داخل ہوئے جب ایک مہمان باہر نکل رہا تھے۔
سی بی ایس کے مطابق مارٹن کے خاندان نے انھیں صرف ایک دن پہلے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔
حکام یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا انھوں نے نارتھ کیرولائنا سے فلوریڈا تک کے سفر کے دوران کہیں راستے میں یہ بندوق خریدی تھی۔
سیکرٹ سروس کے مطابق ایک شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو کے محفوظ حصے میں داخل ہوا۔یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات 01:30 بجے پیش آیا۔
میڈیا کے مطابق اس جگہ پر سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ بیرونی حصے میں پام بیچ شیرف کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں جبکہ اندرونی حصے کی نگرانی سیکرٹ سروس کرتی ہے۔ آنے والے افراد کی تلاشی لی جاتی ہے اور گاڑیوں و بیگوں کو کتوں اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے چیک کیا جاتا ہے۔
اگرچہ واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، لیکن سخت سکیورٹی ہی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ حملہ آور کو رہائش گاہ کے اندر مزید آگے بڑھنے سے جلد روک دیا گیا۔
یہاں تک کہ جب ٹرمپ اور ان کی ذاتی سکیورٹی ٹیم موجود نہیں ہوتی، تب بھی سکیورٹی برقرار رہتی ہے۔ مار-اے-لاگو میں اکثر نمایاں ریپبلکن شخصیات اور دولت مند کاروباری رہنما آتے ہیں۔
اب بھی مشتبہ شخص اور اس کے ممکنہ محرکات کے بارے میں کئی سوالات جواب طلب ہیں۔
تاہم یہ واقعہ یقیناً امریکہ میں سیاسی تشدد کے خدشات کو بڑھا دے گا، جیسا کہ ٹرمپ پر دو قاتلانہ حملوں کی کوشش اور دائیں بازو کے سیاسی کارکن چارلی کرک پر فائرنگ کے واقعات سے ہوا تھا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

