عسکری قیادت کی طرف سے ایک میٹنگ وزیر اعظم ہاؤ س میں رکھوائی گئی۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت اس میٹنگ میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر،اسد قیصر، زلفی بخاری اور میں (مراد سعید) شامل تھا۔ جبکہ عسکری قیادت کی طرف سے جنرل قمر جاوید باجوہ اور DG-ISI فیض حمید شامل تھے۔
جنرل باجوہ نے عمران خان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم کافی مشاورت کے بعد یہ presentation لیکر آ پ کے سامنے لیکر آئے ہیں۔ ہماری رائے میں ملک کو آگے لے جانے کے لیے یہ اقدامات بہت ضروری ہیں۔
اس میٹنگ کا عنوان اگرچہ بلوچستان، کراچی اور پنجاب سے متعلق امور پر وزیراعظم کو بریف کرنا تھا، لیکن اس طویل پریزینٹیشن کا خلاصہ یہ تھا کہ
نیب کو ختم کیا جائے۔
یا نیب کے اسٹرکچر میں تبدیلیاں کرکے اس میں آئی ایس آ ئی کو شامل کیا جائے،
تاکہ اس میں چلنے والے کیسز کو منتقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔
اس پر اسد عمر نے کہ کہا یہ بات تو قابل بحث ہے کہ نیب کو ختم کیا جائے یا نہیں۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح نیب چل رہا ہے، کوئی بھی کیس منتقی انجام تک نہیں پہنچ سکتا۔
جنرل باجوہ گویا ہوئے کہ ابھی تک آپ کو ایک اور چیلینج بھی درپیش ہے، اور وہ ہے فیٹف (FATF) کے حوالے سے قانون سازی، یہ ملکی مفاد کا معاملہ ہے۔ اسی لیے نیب ترامیم ضروری ہیں، تاکہ اپوزیشن کو فیٹف پر قانون سازی کے متعلق اعتماد میں لیا جاسکے۔ ان کو بھی تو بدلے میں کچھ دینا ہوگا، اگر ان سے کوئی سپورٹ لینی ہے۔
اس پر عمران خان مضطرب ہوئے اور بولے:
جنرل صاحب! اگر پاکستان بلیک لسٹ ہوتا ہے تو یہ عمران کا نہیں، سب کا نقصان ہے، کیا ایسے ایشو پر اپوزیشن بارگینگ کرے گی؟ یا ملکی مفاد میں غیر مشروط حمائت کرے گی؟ کیا یہ ملک ان کا نہیں؟ آپکی ایکسٹینشن کے وقت تو اسی اپوزیشن نے بڑھ جڑھ کر ووٹ دیا تھا، بلکہ اس وقت تو باقائدہ مقابلہ بازی ہورہی تھی کہ اس فیصلے کی حمائت میں کون زیادہ بہتر بیان بازی کرے گا، کیا اس وقت بھی کوئی شرط رکھی گئی تھی۔
جنرل باجوہ اس وقت عمران خان کے تیور دیکھ کر وضاحت دینے لگے کہ
میں تو ایکسٹینشن کے حق میں ہی نہیں تھا۔ وہ تو کشمیر اور بھارت کے معاملات ایسے چل رہے تھے کہ مجبوراََ مجھے ایسا فیصلہ کرنا پڑا۔
میں (مراد سعید) نے بات کرنے کی اجازت چاہی اور پریزنٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو تجاویز دی گئی ہیں، ان کے حوالے سے ماضی قریب کے واقعات پر ذرا نظر دوڑاتے ہیں۔نیب ختم کرنے کی بجائے یہ دیکھنا یے کہ کرپشن ثابت ہونے کے باوجود نواز شریف ملک سے باہر چلا گیا۔
ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ جنرل باجوہ نے میز پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
"مراد سعید صاحب!……”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
"میں نے نواز شریف کو باہر نہیں بھیجا”
میں(مراد سعید) نے کہا،
"مجھے بات مکمل کرنے دیں”
جنرل باجوہ دوبارہ چلائے۔۔
"آپ میری بات سنیں، آپ ہر جگہ بار بار یہ بات کررہے ہیں ۔۔۔۔۔”
عمران خان نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا،
"جنرل صاحب اس نے ابھی جملہ بھی مکمل نہیں کیا، اور نہ آپ کا نام لیا ہے..”
وزیر اعظم کی بات نظر انداز کرتے ہوئے باوجوہ صاحب دوبارہ اونچی آواز میں چیخے،
"بار بار میرا نام لیکر کہا جاتا ہے کہ میں نے نواز شریف کو باہر بھیجا”.
میز کی دوسری جانب بیٹھے ہوئے ڈی جی،آئی ایس آئی نے مجھے (مراد سعید کو) خاموش رہنے کا اشارہ کیا.
میں (مراد سعید) نے کہا
"اوکے! چھوڑیں کہ میں کیا کہہ رہا تھا اور اس پریزینٹیشن پر میری کیا رائے تھی۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ نواز شریف کو کس نے باہر بھیجا تھا۔لیکن اپ کا ری ایکشن اور غصہ دیکھ کر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ نواز شریف کو کس نے باہر بھیجا ہوگا۔ میرے ذہن میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ وہ میڈیکل رپورٹس اصلی بھی تھیں یا کہ نہیں۔ کیا وہ عدالتی حکم کہ حکومت نواز شریف کی زندگی کی گارنٹی دے، میڈیا پر بنا ماحول، اور 50 روپے کے اسٹامپ پیپر پر باہر جانے کی اجازت دینا، کیا یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا؟؟”
میٹنگ کا ماحول خراب ہوگیا تھا۔ وزیر اعظم، جو پہلے ہی ان کے دلائل سے مطمئن نہیں تھے، تلخی سے بولے،۔مجھے تو اس میٹنگ کا مقصد نہیں سمجھ آیا۔ مجھے تو کہا گیا تھا کہ اہم ترین معاملات پر کابینہ کے سینیئر ارکان کو بریف کرنا ہے”
یہ کہہ کر وزیر اعظم کمرے سے نکل گئے۔ ان کے اٹھتے ہی جنرل باجوہ بھی تن تناتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے اور ہم سب بھی باہر آگئے۔
باہر فیصل واڈا کھڑا تھا۔
فیصل واڈا ان دنوں وفاقی کابینہ کا حصہ تھا۔ کچھ دن پہلے اس نے ARY کے ایک پروگرام میں میز پر ایک فوجی بوٹ رکھ دیا تھا، جس ہر کافی بحث ہوتی رہی تھی۔
جنرل باجوہ جوکہ پہلے ہی جلالی موڈ میں تھے، فیصل واڈا کو اپنی جانب آتے دیکھ کر اس پر دھاڑنے لگے،
” تم ٹی وی پر بوٹ لاکر کیا ثابت کرنا چاہتے تھے۔”
ہماری آنکھوں کے سامنے فیصل واڈا جنرل باجوہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر اور سر جھکا کر کھڑا رہا۔ جنرل باجوہ اسے سناتے رہے، اور وہ سر جھکائے سنتا رہا۔
آخر اس نے جنرل فیض حمید کی طرف التجا آمیز نظروں سے اشارہ کیا، تو جنرل فیض حمید نے آگے بڑھ کر کہا،
"سر جانے دیں، اسے معاف کردیں.”
ان کی بات سے واڈا جو ابھی تک ہاتھ جوڑے کھڑا تھا، ہمت پکڑی اور کہا۔۔
سر معاف کردیں، آئندہ نہیں ہوگا.”
یہ سارا مکالمہ آ فس کے سٹاف، میٹنگ سے نکلنے والے وفاقی وزراء کے سامنے ہورہا تھا۔
سٹاف کے لوگ ایک دوسرے کو اور ہم وزراء ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ بندہ پہلے تو بھڑک نہ مارے، اور مار ہی دی تو کوئی عزت نفس بھی ہوتی ہے۔ یوں سب کے سامنے، اپنی بے عزتی کرواتے ہوئے سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا۔
میں (مراد سعید) ان سب سے الگ ہوکر وزیر اعظم کے پاس گیا، جو اس وقت اپنے آفس میں اکیلے تھے۔
میں نے ان سے ہوچھا کہ کیا آ پ کو اس میٹنگ کے ایجنڈے کے بارے میں علم تھا۔
عمران خان نے کہا کہ
مجھے صرف یہ کہہ کر وقت مانگا گیا تھا کہ بہت اہم ایشوز پر آپ کو ایک بریفینگ دینی ہے، اور way forward ڈسکس کرنا ہے۔ اب مجھے سمجھ آرہی ہے کہ یہ میٹنگ pre-planned اور خاص ایجنڈے کے تحت طے شدہ میٹنگ تھی۔ جنرل باجوہ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کابینہ کے سینئر وزراء نیب ترامیم کی حمائت کریں گے اور وزیر اعظم کو "وزیر اعلی پنجاب” کی تبدیلی کے لیے مجبور کریں گے۔
فیس بک کمینٹ

