اسلام آباد : خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عورت مارچ کے لیے جمع ہونے والے افراد کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے ہمراہ پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔
عورت مارچ کے منتظمین نے اتوار کے روز دن ایک بجے اسلام آباد کے علاقے ایف-سکس مرکز سے مارچ کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
تاہم عورت مارچ اسلام آباد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری مختلف پیغامات کے مطابق پولیس نے عورت مارچ کے منتظمین اور مارچ میں شرکت کے لیے آنے والے کچھ شرکا کو گرفتار کر لیا ہے۔
عورت مارچ کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مارچ کے شرکا اور منتظمین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جو پرامن طریقے سے اپنے احتجاج کے حق کا استعمال کر رہے تھے۔‘
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جو افراد اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے تھانے گئے تھے انھیں بھی حراست میں لے لیا گیا جو ’انتہائی ناانصافی ہے اور ناقابل قبول ہے۔‘
عورت مارچ کی جانب سے ریلی کے شرکا کی حفاظت اور مزید گرفتاریوں سے بچنے کے لیے شرکا کو اپنے اپنے گھروں کو واپس جانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
عورت مارچ کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے زیر حراست ساتھیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہے ہیں اور تمام دستیاب ذرائع سے اس ناانصافی کو چیلنج کریں گے۔‘
عورت مارچ کے این او سی کا تنازع
عورت مارچ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ریلی کے لیے این او سی حاصل کرنے کے لیے ایک ماہ پہلے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر نے اسے خارج نہیں کیا تھا۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ عورت مارچ کے منتظمین نے کوئی این او سی نہیں لیا تھا۔
ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کا کہنا ہے کہ عورت مارچ کی مرکزی قیادت اور متعدد حمایتی اسلام آباد کے جی سیون تھانے میں موجود ہیں۔
علی رضا کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے، جن کے خلاف سیکشن 188 کے تحت کاروائی ہوگی۔
مقامی پولیس کے مطابق فرزانہ باری سمیت 10 خواتین کو سیکشن 144کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہے کہ تھانے میں آ کر احتجاج کرنے والوں کو کارِ سرکار میں مداخلت کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔
علی رضا کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کا احترام کرتے ہوئے حیا مارچ اور شہیر سیالوی نے بھی اپنے احتجاج موخر کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے گذشتہ رات ان کو شوکاز نوٹس بھی دیے تھے۔
اس حوالے سے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر سے عورت مارچ کی آرگنائزر فرزانہ باری کو بھیجا گیا ایک مراسلہ بھی سامنے آیا ہے۔
سات مارچ کو بھیجے گئے اس مراسلے میں کہا گیا تھا اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی بھی طرح کے غیر قانونی اجتماع، ریلیوں اور احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امن کی صورتحال کے پیشِ نظر، بنا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی منظوری کے ریلی نہ نکالی جائے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے عورت مارچ کے منتظمین اور شرکا کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوئے کہا ہے کہ ’خواتین کا عالمی دن منانا تمام پاکستانی خواتین کا جائز حق ہے اور حکام کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔‘
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ ’امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر ایسے جابرانہ اقدامات انتہائی افسوسناک ہیں۔‘
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ ’پرامن مارچ کرنے کی خواہشمند خواتین کو گرفتار کرنا۔ حکام اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ اور کس چیز سے ڈرتے ہیں؟ چند سو خواتین سے؟‘
صحافی ابصا کومل ایکس پر لکھتی ہیں ’ایک ایسی ریاست جو اپنے ہی وفاقی دارالحکومت میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کے پرامن احتجاج کو برداشت نہیں کر سکتی اسے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں کسی کو لیکچر دینے کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔‘
ایک طرف جہاں سوشل میڈیا پر حکومت کی جانب سے عورت مارچ کے شرکا کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں کچھ صارفین سے اسے غیر قانونی اقدام قرار دے رہے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

