کچھ دن پہلے سے، دو دن اوپر یا نیچے کی بات ہے۔ کہ بندہ ملا کھُد بد کے ہمراہ ویلا بیٹھا سنگین قسم کے علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات پر گفتگو کر رہا تھا۔ہمارے ایجنڈے پر سر فہرست ادھار دینے والوں کے گھٹیا اور غیر اخلاقی مطالبات اور دوسرے نمبر پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی فحاشی تھی۔ملا کھد بد کے چہرے پر وہی کرب اور سوگ طاری تھا جو کہ عموماً سرکاری ٹی وی پر کسی قومی سانحے کی خبر سنانے والے پر بوجہ مجبوری میں طاری ہوتا ہے ۔ وہ رقت آمیز لہجے میں کہہ رہے تھے۔بھائی کیا زمانہ آ گیا ہے۔ بدتمیزی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے انسانیت تو جیسے رخصت ہو گئی ہے۔عالم یہ ہے کہ لوگ ادھار دے کر اسے "واپس” بھی مانگنا شروع ہو گئے ہیں۔ ملا کو آبدیدہ دیکھ کرمیں نے صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پہلے توایک ٹھنڈی آہ بھری۔ پھران کی تائید میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔سچ کہا ملا جی! پہلے زمانوں میں لوگ "نیکی کر دریا میں ڈال” پر یقین رکھتے تھے۔ دینے والا مڑ کر دیکھتا تک نہ تھا کہ نوٹوں کا رنگ کیسا ہے؟ تعداد کتنی ہے ؟۔وہ لوگ ادھار دے کر ایسے بھول جاتے تھے جیسے کوئی پرانا شوہر بیوی کی سالگرہ بھولتا ہے ۔
اس پر ملا کھد بد نے اپنی برمحل ڈاڑھی کو سہلایا اور دکھی دل سے بولے بالکل یار خوف خدا کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔ لوگ ادھار بعد میں دیتے ہیں پہلے واپسی کی ڈیٹ مانگتے ہیں شاید انہیں مرنا یاد نہیں۔ابھی ہم اسی قسم کی "مذہبی ٹچ” والی گفتگو کر رہے تھے۔۔۔ کہ اچانک کہیں سے ملا ہُد ہُد اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیت حاضر مجلس ہوئے ۔ آتے ساتھ ہی نہ کوئی سلام نہ دعا، ہانپتے کانپتے ہوئے بولے۔ غضب ہو گیا یارو۔جنگ لگ گئی جنگ ۔ یہ خبر سنتے ہی کھد بد نے تشویش بھری نگاہوں سے ملا کی طرف دیکھا ۔ پھر ان کا طبعی معائینہ کرتے ہوئے بڑی ہمدردی سے بولے۔ ملا جی آپ تو بچ گئے ناں؟۔ بھابھی نے زیادہ تو نہیں مارا ؟۔یہ سنتے ہی ملا ہُد ہُد پہلے بھنا پھر تلملا کر بولے۔ تُف ہے تمہاری سوچ پر ۔ اس نیک بخت نے تمہارے سامنے ایک بار۔ وہ بھی بڑے پیار سے۔ مجھ پر ہاتھ کیا اٹھا لیا۔ تم نے تو میری چھیڑ ہی بنا لی ہے۔ ۔ بڑے آئے باتیں کرنے والے!ذرا اپنے حالات بھی دیکھو، مانگنے پر بھابھی تمہیں دوسری بار سالن کا چھوٹا چمچہ تک نہیں دیتیں اور یہاں مجھ سے چونچیں لڑا رہے ہو ۔پھر سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولے۔میں ہی وہ جری آدمی ہوں کہ جس نے اپنی بیوی کو فل کنٹرول میں کر رکھا ہے۔
ہد ہد کے منہ سےفل کنٹرول کا سنتے ہی میرا اور ملا کا اجتماعی ہاسہ نکل گیا۔ہمیں ہنستے دیکھ کر ملا ہُد ہُد منہ بسورتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے۔ پھر جیسے ہی وہ نظروں سے اوجھل ہوئے۔ ملا کھد بد نے بڑی مشکوک نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے ۔معلوم ہوتا ہے کسی گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھا دی ہے ؟ آخر ہمارے خانہ اندریں کے یہ خفیہ رازکون افشا کر رہا ہے؟
ابھی ملا کھد بداس بارےمیں( قیاس آرائیوں کے) فکری گھوڑے دوڑا رہے تھے کہ ملا ہُد ہُد، جو ابھی ابھی روٹھ کر گئے تھے۔ خفگی کی ایکسپائری ڈیٹ ختم ہوتے ہی، بن بلائے مہمان کی طرح لوٹ آئے ۔ملا کا حلیہ بھی قدرت کا اک ایسا عجوبہ تھا کہ اسے دیکھتے ہوئے متانت اور سنجیدگی آپس میں مشورہ کیے بغیر ہی خودکشی کر لیں۔ ان کی مختصر سی ڈاڑھی ہوا نہ بھی چلے تو بھی کچھ یوں لرزتی تھی کہ جیسے تیز آندھی میں پیپل کا اکلوتا پتا اپنی زندگی کی آخری جنگ لڑ رہا ہو۔ آتے ساتھ ہی کسی ماہر خطیب کی طرح ہاتھ ہلا جُلا اور نچا کر بولے۔ میرے نادان بھائیو تم ابھی تک ادھار والی آسامیوں کو ڈسکس کر رہے ہو ادھر پڑوس میں جہنم کے دروازے کھل گئے ہیں۔ کچھ معلوم بھی ہے کہ ایران اور امریکہ میں جنگ چھڑ گئی ہے۔ہُدہُد کی بات سنتے ہی ملا کھُد بد کندھے اچکاتے ہوئے بولا سانوں کی؟۔( اس میں ہمارا کیا لینا دینا)۔ ہم کون سا ٹینکر بھر بھر کے تیل بیچتے ہیں؟یہ سن کر ملا ہُد ہُد نے ایک سرد آہ بھری، پھر کھد بد کی طرف دیکھتے ہوئے افسوس بھرے لہجے میں کہنے لگےنادان بھائی۔تم تیل بیچنے کی بات کر رہے ہو؟ابھی تو تم دیکھنا کہ اس جنگ کی آڑ میں "اگلے” تمہارا تیل کیسے نکالتے ہیں ۔پھر خلا میں گھورتے ہوئے بولے ایران کا تیل نکلے نہ نکلے وہ پیٹرول مہنگا کر کے ہمارا "تیل” تو ایسا نکالا جائے گا کہ ہم جیسے غریب تو سرسروں کا تیل بھی سر میں ڈالنے جوگے نہیں رہیں گے۔
ملا ہُد ہُد کی تیل نکالنے والی بات سن کر ملا کھد بد نے ایک طویل اور جگر سوز آہ بھری۔پھر گردن موڑکرمحلے کی اکلوتی دکان بنام حاجی کریانہ اینڈ۔۔ ڈنڈا۔۔ او سوری ۔۔جنرل سٹور کی طرف ایسی غضبناک نظروں سے دیکھا۔ جیسے تھانیدار کسی غریب اور بےبس آدمی کی طرف دیکھتا ہے(کہ یہی ان کے بس میں تھا)۔ پھر دوبارہ سے اک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولے۔ ہُد ہُدبھائی ! تم تو دور کی کوڑی لائے ہو۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جنگ چاہے قطبِ شمالی کے برفانی بیابانوں میں چھڑے یا سری لنکا کے جنگلوں میں ہاتھیوں کے درمیان سینگ پھنس جائیں۔ اس کا پہلا بیلسٹک میزائل کسی فوجی چھاؤنی پر گرے نہ گرے۔مگر اس کا روحانی نشانہ اتنا پکا ہوتا ہےکہ وہ سیدھا ہمارے محلے کے حاجی کریانہ اینڈ۔۔ ڈنڈا۔۔ او سوری ۔۔جنرل سٹور پر ضرور گرتا ہے۔ادھر حاجی صاحب بھی اس قدر جذ باتی واقع ہوئے ہیں کہ ابھی ایران اور امریکہ کے درمیان پہلا سخت جملہ بھی ادا نہیں ہوتا کہ حاجی صاحب جھٹ سے دال اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ یہ سن کر ملا ہُد ہُد اپنی مختصر مگر جامع داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔ پیارے بھائی!۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ حاجی صاحب کا تو ایمان ہے کہ”خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر۔۔۔ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے”مگر ہائے افسوس کہ ان کا درد جگر صرف ریٹ لسٹ پر ہی نمودار ہوتا ہے عوام کو سہولت دینے پہ نہیں ۔ہاں دنیا کے کسی بھی کونے میں گولی چلے۔ اس کے بارود کی بو سے حاجی صاحب کے سٹور میں پڑے صابن اور سرف ایسے مہنگے ہو جاتے ہیں جیسے فوجیوں نے انہی کے صابن سے منہ ہاتھ دھونے ہیں ۔اتنا کہنے کے بعد ملا نے اپنی مختصر مگر جامع داڑھی پر دوبارہ ہاتھ پھیرا۔ پھر اپنا تربوز نما سر ہلاتے ہوئے بولے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کل کلاں کو اگر مریخ پر بھی کوئی خلائی جھڑپ ہوئی۔ تو حاجی صاحب یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مٹی کے تیل پر "خلائی ٹیکس” لگا دیں گے۔ اور بڑی معصومیت سے دلیل دیتے ہوئے کہیں گے کہ کیا کریں مجبوری ہے کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعدملا ہُد ہُد نے آخری دفعہ اپنی مختصر مگر جامع ڈاڑھی سمیٹی اور با آواز بلند کہنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ چاہے تہران میں ہو یا واشنگٹن میں۔ ایٹم بم ہمیشہ غریب آدمی کے کچن اور جیب میں ہی پھٹتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

