انتخابات کے نتیجے میں شہر کے در و دیوار کا جو حال ہوا ہے اس سے تو آ پ بھی بخوبی واقف ہوں گے ۔۔ اشتہارات کے اوپر نئے اشتہارات چسپاں کیے جا رہے ہیں کہیں امیدواروں کے اشتہارات میں سے کوئی فلمی اشتہار جھانکتا دکھائی دیتا ہے اور کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا جیسے مردانہ کمزوری کے علاج کا اشتہار بھی کسی امیدوار نے ہی لگوایا ہے ۔ وہ دیواریں جن پر ’یہاں پیشاب کرنا منع ہے ‘ لکھا ہوتا تھا آ ج کل اشتہارات سے اٹی ہوئی ہیں ۔۔ جہاں محلے کی صلوٰات کمیٹی نے’ نماز دین کا ستون ہے ‘ لکھا ہوا تھا وہاں بھی کوئی امیدوار اپنا اشتہار اس انداز سے لگا گیا کہ مذکورہ جملہ امیدوار کا بیان محسوس ہوتا ہے ۔گزشتہ روز ہم نے شہر کی چند دیواروں پر لکھے ہوئے اشتہارات نوٹ کیے اور مختلف اشتہارات کو جوڑ کر جو تحریر تیار ہوئی اُس نے ہمیں بہت لطف دیا۔ دراصل اشتہارات ایک دوسرے پر اس بری طرح سے چسپاں کیے گئے تھے کہ مفہوم کچھ سے کچھ ہو گیا۔ آ پ بھی لطف لیجئے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل بھی بھٹو زندہ تھا آ ج بھی زیڈال استعمال کریں ہم برسرِ اقتدار آ کر ملک کو جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ منشور فراہم کریں گے ہمارا دعویٰ ہے کہ اگر آ پ نے وحشی پتر کو ووٹ دیا تو اس ملک میں تمام تر زنانہ و مردانہ امراض کا خاتمہ ہو جائے گا۔ نہ کوئی جاگیردار رہے گا اور نہ کوئی واشنگ مشین ۔ بابو فیروزدین انصاری کے مطب میں پرانے بگڑے ہوئے سیاستدانوں اور علامہ کاظمی کا علاج کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
نواز شریف کتنا ہی سنگ دل کیوں نہ ہو بے نظیر آ پ کے قدموں میں ( بے نظیر بھٹو شہید کے ہم بھی بہت مداح ہیں ، یہ کالم جب لکھا گیا وہ حیات تھیں ، اسے اسی تناظر میں پڑھا جائے )۔۔اسلامی جمہوری نجومی آ ئین کی بالادستی اور کالے علم کا ماہر مزدور کی کم از کم تنخواہ 10 روپے میں تین تصاویر دی جائیں گی ۔۔16 نومبر قرعہ اندازی کی آ خری تاریخ پہلے آ ئیے پہلے ووٹ پائیے ۔۔سنڈیوں اور جاگیرداروں کے خاتمے کے لیے آ زمودہ ، جعل سازوں اور عوامی جمہوری اتحاد سے ہوشیار ۔۔ المشتہر ریاض حسین قریشی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیخ رشید کا علاج کیجئے پرانی سے پرانی سیاسی بیماریوں کے شرطیہ علاج کے لیے کرے گا راج ملک معراج۔ قائد اہل سنت شاہ احمد نورانی ریکس میں جمعہ 23 ستمبر سے دل دا جانی بے نظیر قلفہ عرف حسینہ 420 نیا پرنٹ اور نئے آ ئین سسٹم کے ساتھ صرف بالغوں کے لیے ۔ محبت میں ناکامی جماعت اسلامی تین دن میں سوٹ تیار طالب علموں ، کسانوں ، مزدوروں ، غریبوں اور خواتین کے لیے پردے کا خاص اہتمام پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پگ میرے ویر دی ہمراہ 19 نومبر کو گرما گرم سائیڈ پروگرام انتخابی نشان پگڑی سنبھال جٹا ، تمنا کیسی کیوں نہ ہو ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے اے کہوٹہ بیوٹی پارلر ہم تیری طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو توڑ دیں گے تم نے ڈھاکہ دیا ہم نے لکس انٹرنیشنل سوپ لیا ۔ بالوں اور سیاسی نظام کی خوبصورت آ رائش کے لیے مسلم لیگ ہیئر کٹنگ سیلون آ پ کا مخلص چراغ دین انتخابی نشان ٹیبل ۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
مطبوعہ ( روزنامہ قومی آواز ۔۔ 12 نومبر 1988 )
فیس بک کمینٹ

