اگرچہ ہم نے یکم مئی کو ہی دوستوں کو بتا دیا تھا کہ ہم اس مرتبہ اپنے جنم دن پر کوئی تقریب نہیں کررہے ( ویسے بھی جنم دن کی تقریبات سے ہم مدت ہوئی کنارہ کشی اختیار کر چکے ) لیکن اس کے باوجود احباب نے گزشتہ دو روز کے دوران ہمیں جس محبت سے نوازا اس کے لیے اظہار تشکر ایک معمولی سا لفظ ہے ۔۔ جنم دن پر تحائف اور مبارک باد کے پیغامات عمومی طور پر طاقت ور اور بااثر شخصیات کے لیے ہوتے ہیں ۔ان کے جنم دن پر ان کے پاس حاضریاں لگوائی جاتی ہیں اور زمانے کا یہ چلن آج سے نہیں ہمیشہ سے ہے ۔ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ؟ نہ بھی آتے تو بھلا کاروبارِ دنیا میں کونسا خلل آ جانا تھا ؟ یہ وہ سوال ہے جو ایسے موقع پر ہمارے ذہن میں ضرور آتا ہے ۔
جنم دن کی بہت ساری مبارکبادیں اور درازی عمر کی ڈھیروں دعائیں وصول کرنے کے بعد یہ سوال بھی ذہن میں ضرور ابھرتا ہے کہ جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں وہاں کسی کو درازی عمر کی دعا دینا ”دعا “کے زمرے میں بھی آتا ہے یا نہیں۔ ہم نے یہ جیون جس حال اور جس رنگ میں گزارا وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ ہمارے دوستوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ہم تو عید کی مبارک باد وصول کرنے سے بھی ہمیشہ کتراتے ہیں، جنم دن کی مبارک باد تو بہت دور کی بات ہے۔ ہم نے کہیں یہ سوال اٹھایا تھا کہ جسے ہم زندگی سمجھتے ہیں وہ زندگی بھی ہے یا نہیں؟
تم جسے زندگی سمجھتے ہو
یہ بھی اچھا بھلا جنازہ ہے
اور اگر یہ واقعی زندگی ہے تو کس کی ہے؟ کہیں ایسا تونہیں کہ ہم جسے اپنی زندگی سمجھتے ہیں وہ زندگی ہی کسی اور کی ہو اور ہم اسے صرف بسر کرنے پر مامور ہوں؟ جنم دن کے موقع پر یہ اور ایسے بہت سے سوالات دوبارہ بہت سے سوالیہ نشانات کے ساتھ سامنے آگئے۔
لیکن ہم اس دنیا میں اب آہی چکے تو اب اپنے حصے کا کام کر کےہی جائیں گے اور وہ کام کسی نےاور نے ہمارے ذمے نہیں لگایا ہم نے اس مشکل کام کا اپنے لیے خود انتخاب کیا ہے اورکام صرف اتنا سا ہے کہ اس دنیا کو خوبصورت بنایا جائے یا کم از کم ان خوبصورتیوں کو تو ختم نہ کیا جائے جو قدرت نے اس دنیا میں پیدا کی ہیں ۔
دوستوں کی محبتیں اپنی جگہ، ان کے خلوص سے بھی ہمیں انکار نہیں ، لیکن اپنی ذات سے یہ سوال تو کرنا چاہیے کہ ہم نے آخر ایسی کون سی زندگی گزاری کہ جس پر مبارکباد ضروری تھی۔ ہم نے دس برس قبل جیون کے 52 سال مکمل ہونے پر ’’ ہم سب ‘‘ میں لکھا تھا کہ گزشتہ 52 سال ہمیں تاش کے بکھرے ہوئے 52 پتوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں اوران 52 پتوں میں ایک پتہ حکم کا ہے جس نے ہمارے سارے جیون کو رائیگاں کر دیا۔ اب غلامی کے 62 سال گزارنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہم نے یہ زندگی کا سارا سفر طفل تسلیوں میں ہی گزاردیا۔ زندگی کی معنویت اور رشتوں کا بھرم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا چلا گیا۔
ہاں یہ مبارکباد کا لمحہ تو ہے اوراس لیے بھی ہے کہ ہم نے زندہ نہ ہونے کے باوجود زندہ رہنے کا ڈھونگ رچایا۔ ہم مرنے کے باوجود دفنائے نہ جا سکے۔ ہم سچ بولنے کے باوجود جھوٹے کہلائے اور اس کے باوجود خود کو سچا سمجھتے رہے۔
مبارک باد تو بہت ضروری ہے اوراس لیے ضروری ہے کہ جس معاشرے میں روزانہ بہت سے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں اس معاشرے میں ہم جیسے بزدل بہت بہادری یا ڈھٹائی کے ساتھ زندہ ہیں۔
جی ہاں، ہمیں مبارکباد دیجئے کہ ہم غلام ہو کربھی خود کو آقا سمجھتے ہیں اور وہ جو ہمارے آقا ہیں وہ تمام تر کوشش کے باوجود ہمیں اپنی غلامی میں نہیں رکھ سکے۔
محبت کبھی ایک جذبہ ہوتا تھا لیکن وقت کی روانی نے اس کی سچائی کو بھی دھندلا دیا۔ اب محبت بھی ثبوت مانگتی ہے۔ لفظوں کی محتاج ہوگئی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ جذبے کسی اظہار کے بغیر دل سے دل تک کا سفر کرتے تھے۔ مبارکباد دیجئے کہ محبت کا یہ جادو بھی ختم ہو گیا۔ جیسے قانون کو قانون کے محافظوں اور آئین کو آئین ساز اداروں نے مذاق بنایا اسی طرح محبت کو بھی محبت کرنے والوں نے ہی برباد کر دیا۔ کس نے ہمیں چاہا اور کسے ہم نے چاہا؟ یہ کہانی بے معنی ہوچکی ہے۔ لیکن محبت ہی وہ بنیادی جذبہ ہے جو اب بھی جینے کا حوصلہ دیتا ہے اور اذیت کے چند اور سال جینے کی خواہش بیدارکرتا ہے۔ خواہ کسی کو ہماری یا ہمیں کسی کی محبت کا یقین نہ بھی ہو لیکن محبت تو محبت ہی ہوتی ہے ۔
’مبارک باد ‘ دیجئے کہ سب کچھ گنوا کر بھی ہم نے ان بکھرے ہوئے 62 برسوں کے دوران محبت کے جذبے کو سنبھال کر رکھا۔ اوراس لیے سنبھال کر رکھا کہ ہم خود نہیں بکھرنا چاہتے تھے۔ زندگی کتنی ہی اذیت ناک اور رائیگاں کیوں نہ ہو یہ پھربھی بہت خوبصورت ہوتی ہے اور اس لیے خوبصورت ہوتی ہے کہ اس کے پہلو میں کہیں موت بھی موجود ہوتی ہے۔ موت زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔ اور موت نے بچپن سے ہی ہمارا دامن مضبوطی سے تھام رکھا ہے ۔ہمیں زندگی نے تو بارہا مارا لیکن موت نے ہمیں مرنے نہیں دیا۔ ایک ایسے ماحول میں کہ جب سب کچھ دکھاوا بن چکا ہے اورایک ایسے ماحول میں کہ جب ماں سے محبت بھی کسی ایک دن کی محتاج ہو گئی ہے اور مدرز ڈے کے موقع پر اپنی ماں کی توہین کرنے والے بھی اس کے ساتھ تصویریں بنواکر فیس بک کی زینت بنا تے ہیں۔ ہمیں یہ کہنے دیجئے کہ بے شمار مبارکبادوں اور درازی عمر کی دعاﺅں میں اگر دکھاوا بھی موجودہے ۔ اگر یہ سب کچھ فیشن بھی بن چکا ہے تو ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ مبارک باد دینے والوں میں اگر کوئی ایک شخص بھی ایسا ہے جس نے خلوص اور محبت کے ساتھ ہمیں مبارک باد دی ہے تو اس کے طفیل ہم ان سینکڑوں دعاﺅں اورمبارک بادوں کو قبول کرتے ہیں اوراس یقین کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ یہ سب دعائیں اور مبارکبادیں محبت کا پھیلاﺅ ہیں اور ہم صرف محبت پر یقین رکھتے ہیں۔
آخری بات یہ کہ آپ کی جانب سے اس مرتبہ جو محبتیں ملیں جس طرح آپ نے جنم دن کی مبارک باد کے ساتھ ہمیں والدہ کا پرسہ دیا اس پر ہماری آنکھیں بھیگ گئی ہیں اور ہم دعا گو ہیں کہ آپ سب کو ہمیشہ خوشیاں ملیں ۔ آ پ سلامت رہیں اور جو دعائیں آ پ نے ہمیں دی ہیں وہ سب دعائیں آ پ کے لیے بھی اتنی ہی قبول ہوں جتنی آ پ ہمارے بارے میں خواہش رکھتے ہیں ۔ یوں تو ہم نے ایسے بہت سے دوستوں کی کمی محسوس کی جو اس موقع پر ہمیں ہر سال مبارک باد دیتے تھے اور آج وہ ہمارے درمیان نہیں ۔۔ لیکن اس برس کا تازہ زخم نوجوان صحافی اظہار عباسی کی جدائی کا ہے ۔۔ اظہار عباسی صرف ہمارے لیے ہی نہیں اس خطے کے ہر صحافی کے لیے اس کی سالگرہ پر کئی برسوں سے کوئی تحریر فیس بک کی دیوار پر آویزاں کرتے تھے ۔۔ اٹھارہ اپریل کو وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے ۔۔ یہ خوبصورت نوجوان ہمارے جنم دن پر بھی ایک خوبصورت تحریر لکھتا تھا جس میں ہمارے حالات زندگی کا احوال بھی ہوتا تھا اور ہمارے لیے بہت سی دعائیں بھی ۔ وہ صرف ہمارے بارے میں ہی نہیں ملتان میں صحافت سے وابستہ تمام شخصیات کے لیے اسی قسم کے تہنیت نامے تحریر کرتا تھا ۔ سات مئی کو ہمیں صرف ایک ہی کمی محسوس ہوئی اور وہ یہ تھی کہ ہمیں جنم دن پر اس مرتبہ اظہار عباسی نے مبارکباد نہیں دی ۔۔ اظہار عباسی آپ چلے گئے لیکن ہم آ پ کو اپنے درمیان ہی محسوس کرتے ہیں ہم نے آ پ کو خود سے جدا نہیں ہونے دیا ۔ دعا ہے کہ آ پ کے درجات بلند ہوں ۔ ہم آ پ کوہمیشہ اپنے درمیان مسکراتا ہوا محسوس کریں گے ۔ آ پ کے جنم دن کے موقع پر بھی آپ کی رخصتی کے دن بھی اور اپنے جنم دن کے موقع پر بھی ۔۔

