رات کا وقت تھا میں کچھا بنیان پہنے پلنگ پر ابھی لیٹا ہی تھا کہ اچانک ہمسایوں کے گھر سے ایک خوفناک آواز ابھری۔جسے سن کر میں سمجھا کہ شاید ان کے ہاں کوئی فوتگی ہو گئی ہے لیکن غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو جناب عرض الدین صاحب کی آواز ہے۔ جو کہ اپنی شکل سے بھی زیادہ بھدی آواز میں گانا گا رہے تھے۔ جس کے بول تھے ۔جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا ۔۔ ہم نے تو جب کلیاں مانگیں، کانٹوں کا ہی ہار ملا۔ ابھی آپ کانٹوں کے ہار پر پہنچے ہی تھے کہ اچانک فضا میں ٹھاہ کی آواز گونجی ۔اگلے ہی لمحے حضرت صاحب کی فلک شگاف چیخ سنائی دی ۔۔ ہائے امی جی ۔ یہ سنتے ہی میں فوراً سے پہلے ہی سمجھ گیا کہ آج پھر عرض الدین کی عذر داری مسترد ہو گئی ہے۔ اس کے بعد تواتر سے حضرت صاحب کی غوغا ہائے نالہ و شیون کے ساتھ ساتھ ٹھاہ پھاہ کی آوازیں بھی آنا شروع ہو گئیں۔ آخر کار ۔۔۔روتے روتے گم ہو گئی آواز اک سودائی کی۔
اگلی صبح کی بات ہے کہ میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ میری نظر جناب عرض الدین پر جا پڑی ۔
منظر کچھ یوں تھا کہ آپ کے سر پر (تیل اور ہلدی میں لتھڑی ہوئی) دیسی پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ گال سہلاتے ، چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ہوٹل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہیں اس طرف جاتے دیکھ کر میری تو باچھیں کھل گئیں۔ اور کھلتی بھی کیوں نہ ۔۔ مفت میں چائے کے ساتھ بسکٹ کی درک جو لگ رہی تھی۔ چنانچہ میں بڑے ہی محتاط انداز میں ان کے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہو گیا۔
ہوٹل پہنچ کر عرض الدین صاحب ناشتے کا آرڈر دے کر جیسے ہی فارغ ہوئے۔ عین اسی وقت میں کسی بلائے ناگہانی کی طرح ان کے سر پر جا نازل ہوا اور بغیر کسی سلام و دعا کے ماتھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اچھا تو رات کو اسی لیے ٹھاہ پھاہ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں ؟ میری بات سنتے ہی پہلے تو عرض الدین صاحب زیر لب کچھ بڑبڑائے۔( گمان غالب ہے کہ وہ مجھے ناقابل اشاعت قسم کی صلواتوں سے نواز رہے ہوں گے) پھر زبردستی دانت نکالتے ہوئے بولے زیادہ انکوائری کی ضرورت نہیں میں چائے منگوا دیتا ہوں اس پر میں نے کہا اگر ساتھ بسکٹ بھی ہوں تو سوچا جا سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ بسکٹ کھلے نہیں بلکہ پیکٹ والے ہوں۔ تو وہ دانت پیستے ہوئے کہنے لگے کیوں اس میں کیا قباحت ہے ؟ میں اطمینان سے بولا وہ اس لیے کہ کھلے بسکٹ تم صرف تین ہی منگواتے ہو ان میں سے بھی ایک خود کھا جاؤ گے اس کے برعکس پیکٹ والے بسکٹ زیادہ ہوتے ہیں عرض الدین صاحب نے قہر بھری نظروں سے مجھے دیکھا پھر آرڈر دے دیا۔
ابھی میں نے چائے میں پہلا ہی بسکٹ ڈبویا تھا کہ عرض الدین بات گھمانے کی غرض سے کہنے لگے یار کیا بتاؤں کل کا دن ہی خراب گزرا۔ کونسلر صاحب اس شرط پر جلسے میں لے گئے تھے کہ واں جتنے زیادہ نعرہ مارو گے اتنے ہی زیادہ پیسے ملیں گے یقین کرو نعرے مار مار کے میرا حشر نشر ہو گیا لیکن جلسہ ختم ہوتے ہی کونسلر صاحب گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو گئے ناچار جلسہ گاہ سے پیدل ہی گھر آ رہا تھا کہ راستے میں شیخ صاحب مل گئے۔ گاڑی روکتے ہوئے بولے مجھے معلوم ہے کہ یہاں سے گھر جانے کے لیے ٹیکسی تو کیا تمہارے پاس رکشے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ایسا کرو کہ میرے ساتھ بیٹھ جاؤ۔ بدلے میں تم میری گاڑی صاف کر دینا تو بھیا ہم نے دو منٹ کے جھولے لئے اور اس نے دو گھنٹے تک گاڑی کی صفائی کروائی ۔
عرض الدین کی عرض سن کر میں نے دوسرا بسکٹ چائے میں ڈبویا پھر گیلے بسکٹ کو منہ میں ڈال کر اوپر سے چائے کا ایک لمبا سڑوکا مارتے ہوئے بولا وہ تو سب ٹھیک ہے پر مجھے یہ جاننا ہے کہ رات آپ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے یا ؟ میرا سوال سنتے ہی پہلے تو وہ غضب ناک ہوئے پھر ڈھیلے پڑتے ہوئے کہنے لگے رنگے ہاتھوں تو نہیں البتہ ” اللہ دتہ منجی والا” کا میسج پکڑا گیا تھا اس پر میں بولا پچھلی دفعہ تو خیرالدین بوٹ پالش والے کا میسج تھا نا؟ تو وہ بڑی افسردگی سے کہنے لگے تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ میں بولا منجی والا نام کیسے رکھا؟ بولے کچھ دن پہلے ہماری منجی کا پاوا ٹوٹ گیا تھا وہ نیا ڈلوانا تھا۔یہیں سے آئیڈیا ملا۔۔اتنا کہہ کر عرض الدین صاحب نے سسکی بھری پھر سر پر بندھی دیسی پٹی ( جس میں ہلدی اور تیل کی آمیزش باہر تک جھلک رہی تھی) پر ہاتھ لگا کر کراہتے ہوئے بولے۔ مانا کہ بچے سے غلطی ہو گئی ہے ۔۔مگرایسے بےدردی سے بھلا کون مارتا ہے؟ اس کے بعد باقاعدہ فریاد کرتے ہوئے کہنے لگے۔ مارنا پیٹنا بس بھی کر دو بچے کی جان لو گی کیا؟. اس کے بعد آپ نے ایک ہاتھ کان پر رکھا اور بڑے ہی دکھی لہجے میں اپنا پسندیدہ گانا گانے لگے۔جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا ۔۔ ہم نے تو جب کلیاں مانگیں، کانٹوں کا ہار ملا ۔پھر جیسے ہی آپ گانے کے آخری بول کانٹوں کے ہار تک پہنچے ۔۔ بڑی خوف زدہ نظروں چاروں طرف دیکھتے ہوئے کھسیانی سی آواز میں بولے۔کل گانے کے ٹھیک اسی بول پر پہلا ٹھاہ ہوا تھا۔
عرض الدین کی رام کھتا سننے کے دوران میں نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا۔ پیکٹ سے ایک اور بسکٹ نکالا اور ان سے گہری ہمدردی کا ناٹک کرتے ہوئے بولا پیارے بھائی سن! اگلی بار موبائل میں جب کوئی نام سیو کرنا تو ‘اللہ دتہ منجی والا’ یا ‘ خیر الدین بوٹ پالش’ ٹائپ کا مردانہ نام مت لکھنا ۔ کیونکہ بار بار کے تجربات سے بھابھی اب اتنی بھولی نہیں رہیں۔ اس لئے اب کی بار کسی نسوانی نام مثلاً شیداں تندور والی ۔ماسی خیراں دم بلکہ اک دم والی۔میداں بندے کھانی وغیرہ جیسے نام رکھ کے ٹرائی کرنا۔کم از کم سر تڑوانے سے تو بچ جاؤ گے۔ میری تجویز سن کر عرض الدین صاحب غضب ناک ہوتے ہوئے بولے چھوٹی موٹی پھینٹی کی تو چلو خیر ہے مگر باقاعدہ سر کھولنے اجازت ہرگز نہیں دوں گا۔ پھر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے آپ نے چائے کی پیالی اتنے زور سے میز پر پٹخی کہ مجھے لگا اگلا ‘ٹھاہ’ اب میرے سر پر ہونے والا ہے۔(کیونکہ میں نے مفت کی چائے جو پی تھی) چنانچہ میں نے بسکٹ کا بچہ ہوا پیکٹ جیب میں ڈالا اور وہاں سے تقریباً بھاگتا ہوا نو دو گیارہ ہو گیا۔
فیس بک کمینٹ

