کلکتہ کا ذکر ہو تو عمر کے اس حصے میں 1984ء کے برس کے حوالے سے اس شہر سے وابستہ خوش گوار یادیں ہرگز ذہن میں نہیں آتیں۔ 19فروری 2001ء کی دوپہر تین سے زیادہ گھنٹوں تک پھیلی خجل خواری ہی یاد آتی ہے جب کلکتہ کے تقریباََ مرکزمیں واقع پارک اور سدر (Sudder) نام کی سڑک اور سٹریٹ پر قائم ہوٹلوں میں سے کوئی ایک بھی پاکستان سے آئے صحافی کو اپنے ہاں قیام کے لئے کمرہ دینے کو تیار نہ ہوا۔
کلکتہ شہر کو اپنی ذلت کا ذمہ دار ٹھہرانا مگر زیادتی ہوگی۔ دلی سے وہاں جانے سے قبل مجھے انٹرنیٹ کے ذریعے کسی ہوٹل سے رابطہ قائم کرنے کے بعد رہائش کا بندوبست کرلینا چاہیے تھا۔ یہ بھول گیا کہ اب مجھ میں 1984ء جیسی توانائی موجود نہیں رہی۔ محض یاد رکھا کہ اس برس بھی بغیر کسی تیاری کے اچانک کلکتہ پہنچ گیا تھا اور ریلوے سٹیشن سے باہر نکلتے ہی جو رکشے والا ملا اس نے مناسب داموں پر رہائش کے لئے شہر کے مرکز میں واقع ایک کمرہ دلوایا تھا۔
ایڈونچر کا پنگالینے کو حوصلہ اس لئے بھی ہوا کیونکہ 2001ء کا آغاز ہوتے ہی ملکی اور غیر ملکی سفارتکاروں کا ایک بااثر حلقہ سرگوشیوں میں یہ ’’خبر‘‘ سنانا شروع ہوگیا کہ امریکہ صاحب بہادر بھارت اور پاکستان کی حکومتوں پر مسئلہ کشمیر کا معقول حل ڈھونڈنے کے لئے دبائو بڑھارہا ہے۔ اس مسئلے کا فریقین کو تسلی دینے والاسمجھوتہ ڈھونڈنے کے دوران دونوں ممالک سے توقع یہ بھی باندھی جارہی تھی کہ وہ اپنی باہمی تجارت مزید بڑھائیں۔ سوویت یونین افغانستان میں شکست کھاکر مختلف ممالک میں بٹ چکا تھا۔ وسطی ایشیاء کے ترکمانستان، آذربائیجان اور ازبکستان جیسے ممالک کمیونسٹ کیمپ کی گرفت سے آزاد ہوئے تو قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے سبب سرمایہ دارانہ نظام سے وابستہ ہونا چاہ رہے تھے۔ افغانستان میں مستحکم حکومت قائم نہیں ہو پائی تھی۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مگر یقین تھا کہ اگر پاکستان وہندوستان باہمی اختلافات کا حل ڈھونڈ کر افغانستان پر بھی توجہ دیں تو وہاں استحکام قائم ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں امن واستحکام کے بعد وسطی ایشیاء سے تیل،گیس اور دیگر اشیاء پاکستان اور بھارت کی منڈیوں میں آئیں تو ترکمانستان سے بمبئی اور کلکتہ تک پھیلا ایک عظیم تر معاشی زون قائم ہوجائے گا۔ جس زون کے خواب دیکھے اور دکھائے جارہے تھے اس کا قیام مگر پاکستان اور بھارت کے مابین دیرپاامن کے قیام کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
آپس کی بات یہ بھی ہے کہ دنیا کا مقدر طے کرنے والے نام نہاد فیصلہ سازوں کے خوابوں کا ذکر مجھ تک پہنچا تو میرا جھکی ذہن انہیں قبول کرنے کو آمادہ نہ ہوا۔ جان کی امان مانگتے ہوئے فریاد کرتا رہا کہ افغان ’’جہاد‘‘ کی وجہ سے نیل کے ساحل سے کاشغر تک بے تحاشہ مسلم نوجوان احیائے اسلام کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ وسطی ایشیاء کمیونسٹ روس سے ’’آزاد‘‘ کروانے کے بعد وہاں کے ممالک کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے بجائے ’’جہادی‘‘ انہیں ’’سچے مسلمان‘‘ بنانا چاہ رہے ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے وسطی ایشیائسے بھارت کے ساحلوں تک ایک عظیم تر معاشی زون بنانے کی گنجائش نظر نہیں آرہی۔ 2001ء کے ستمبر میں ہوئے 9/11نے میرے خدشات درست ثابت کردئے۔
اپنی ستائش کے بعد جہالت کا اعتراف کرتے ہوئے بیان یہ کرنا ہے کہ 1984ء کی خوش گوار یادوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے ایک بھاری سوٹ کیس میں سامان ڈالا اور لیپ ٹاپ کندھے پر ڈالے دلی ریلوے سٹیشن سے چند ہی گھنٹے بعد کلکتہ جانے والی ایک سبک رفتار ٹرین کی اچھی کلاس کا ٹکٹ خریدکر اس میں بیٹھ گیا۔ کلکتہ سے ارادہ ممبئی جانے کا تھا جہاں مقیم ایک مہربان دوست نے امید دلائی تھی کہ وہ ہندوانتہا پسند جماعت شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے سے میرا انٹرویو کرواسکتا ہے۔
تقریباََ 16گھنٹے کے نسبتاََ آرام دہ سفر کے بعد میں صبح 11بجے کے قریب کلکتہ ریلوے سٹیشن سے باہر آیا۔ وہاں آٹو رکشہ کے بجائے ٹیکسیؤں کی قطار زیادہ لمبی تھی۔ ایک بزرگ ڈرائیور سے گفتگو کی۔ بتادیا کہ میرے پاس کسی ہوٹل کی بکنگ نہیں ہے۔ کسی صاف ستھرے ہوٹل لے جائے جہاں مناسب کرائے کے ساتھ میں چار یا پانچ دن گزارسکوں۔ وہ مجھے شہر کے مرکز میں واقع پارک روڈ لے گیا۔ سیاحوں کے قیام کے لئے وہاں ہوٹلوں کی لمبی قطار نظر آئی۔ میں مناسب دِکھتے ایک ہوٹل میں داخل ہوا تو وہاں کے عملے نے انگریزی بولتے ہوئے پرتپاک الفاظ سے خیر مقدم کیا۔کمرہ دکھایا۔ کرائے کے نرخ بتائے تو تھوڑے بھائوتائو کے بعد میرا قیام طے ہوگیا۔ اندراج کے لئے مگر جب اس کے روبرو پاسپورٹ رکھا تو اسے دیکھتے ہی کمرہ دینے سے انکار کردیا گیا۔ وجہ یہ بتائی کہ مقامی پولیس نے پاکستانی پاسپورٹ کے حامل کسی بھی شخص کو کمرہ دینے پر پابندی لگارکھی ہے۔ میں اپنا پاسپورٹ ہاتھ میں لہراتے اسے سمجھاتا رہاکہ اس پر حکومتِ ہند نے باقاعدہ ویزا لگارکھا ہے۔ اس ویزے پر یہ بھی لکھا ہے کہ میں صحافی ہوں اور مجھے بھارت کے کسی بھی شہر پہنچ کر پولیس کو اپنی موجودگی سے آگاہ کرنا ضروری نہیں۔ ہوٹل کا عملہ مگر ٹس سے مس نہ ہوا اور آئندہ ڈھائی گھنٹوں تک شہر کے مرکز میں واقع تقریباََ ہرہوٹل میں ایسی تکرار جاری رہی۔
ٹیکسی ڈرائیور شفیق اور دیانتدار تھا۔ میں نے اس سے طے کرلیا کہ مجھے کمرہ ملنے تک میرے ساتھ ہی رہے گا اور جو رقم اس نے یہ فرض نبھانے کو مانگی وہ مناسب تھی۔ پارک روڈ پر واقع تقریباََ ہر ہوٹل سے انکار کے بعد میں نے ٹیکسی والے کے سامنے بین الاقوامی طورپر مشہور چند ہوٹلوں کے نام لئے۔ ان میں ’’حیات ریجنسی‘‘ بھی شامل تھا۔ ٹیکسی والے نے کہا کہ ایسا ہوٹل شہر کے مرکز سے دور ایک پوش علاقے بالی گنج میں موجود ہے۔ میں نے وہاں جانے کی ٹھان لی۔ بالی گنج کے جدید اور فیشن ایبل علاقے میں داخل ہونے تک لیکن میرا ذہن ’’احتجاجی اور پھڈے باز‘‘ ہوچکا تھا۔
ہوٹل کے مرکزی دروازے پر اترا تو سامان اتارے بغیر صرف پاسپورٹ اور لیپ ٹاپ لے کر باہر نکلا اور ٹیکسی والے کو پارکنگ میں انتظار کا کہا۔
ہوٹل میں داخل ہوتے ہی میں نے منیجر کا کمرہ تلاش کیا۔ اس میں داخل ہوا تو ساڑھی میں ملبوس ایک خاتون بیٹھی تھیں۔ انہوں نے ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد کی طرح مسکراتے ہوئے مجھے ہیلو کہا اور بیٹھنے کے لئے کرسی کی جانب اشارہ کیا۔ میں نے جواباََ چہرے پر مسکراہٹ کی ایک جھلک کے بغیر جیب سے پاسپورٹ نکالا اور اسے خاتون کے روبرو رکھ دیا۔ صاف الفاظ میں بتادیا کہ پارک ہوٹل کے کئی ہوٹلوں نے مجھے اس پاسپورٹ کی وجہ سے اپنے ہاں کمرہ دینے سے انکار کیا ہے۔ میں صرف ایک رات کے لئے اس کے ہوٹل میں رہنا چاہوں گااور صبح اٹھتے ہی بمبئی روانہ ہوجائوں گا۔ وہ میرا پاسپورٹ لے کر مقامی انتظامیہ سے رابطہ کرے اور اگر مجھے رات گزارنے کی اجازت نہیں دینی تو لکھ کر انکار کیا جائے۔ زبانی انکار کی صورت میں اس ہوٹل کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ جائوں گا۔
خاتون سمجھی کہ پاکستان سے واقعتا کوئی دیوانہ دہشت گرد اس کے کمرے میں گھس آیا ہے۔ مجھے کمرے میں چھوڑ کر باہر نکل گئی۔ میں سمجھا پولیس بلوانے گئی ہوگی۔ وہ مگر میرے پاسپورٹ کی فوٹو کاپیاں مختلف لوگوں کو بھجوانے کے بعد ریسیپشن سے فون پر ان سے باتیں کرتی نظر آئی۔ میں کرسی پر چپک کے بیٹھا رہا۔ تقریباََ آدھے گھنٹے بعد وہ کمرے میں لوٹی اور اطلاع دی کہ پولیس کا ایک افسر تھوڑی دیر میں آئے گا۔ میں اس وقت تک اس کے کمرے میں بیٹھ کر جوس ،چائے یا کافی پی لوں۔ میں نے پانی پر اکتفا کیا۔ پولیس افسر کے آنے تک اس نے مجھے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ کی اجازت مل بھی گئی تو اس کے ہوٹل میں رہائش کے لئے جو کمرہ موجود ہے اس کا کرایہ 120ڈالر جی ہاں 120امریکی ڈالر سے کم نہیں ہوسکتا۔ میرے پاس ہاں کے سوا کوئی جواب دینے کی ہمت ہی باقی نہیں رہی تھی۔
بالآخر وردی میں ملبوس ایک ایس پی ٹائپ افسر آیا۔ اس نے میرے پاسپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ امریکہ اور برطانیہ ہی نہیں جاپان اور کوریا وغیرہ کے ویزے بھی اس پرلگے ہوئے تھے۔ سب سے زیادہ ویزے مگر بھارت کے تھے اور میرے پاسپورٹ میں مشکل سے ایک دو صفحے خالی بچے تھے۔ مجھ سے تفصیلی گفتگو کے بعد وہ کمرے سے باہر نکل کر موبائل پر شاید اپنے افسروں سے بات کرنا شروع ہوگیا۔تقریباََ 20منٹ کے تکلیف دہ انتظار کے بعد اس نے خاتون منیجر کو میرے قیام کی اجازت دی۔ اس کے روانہ ہوتے ہی خاتون منیجر ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد کی طرح اپنے ہوٹل کی خوبیان بیان کرنا شروع ہوگئی۔ میں اکتاہٹ سے اپنے ٹیکسی والے کو بلانے کے ارادے سے کمرے سے باہر نکل آیا۔ خاتون سے درخواست کی کہ میرا اندراج کروادے۔ اتنی دیر میں سامان منگوالیتا ہوں۔ اس کی مسکراہٹ مجھے ٹھنڈا کرنے کے کام نہ آسکی۔ کاغذی کارروائی مکمل کرلینے کے بعد میں رات گزارنے کمرے میں چلا گیا۔ ساری رات خود کی ملامت میں مصروف رہا اور ان لوگوں پر غصہ آتا رہا جو واشنگٹن کے تھنک ٹینکوں میں بیٹھے وسطی ایشیاء سے بھارت کے ساحلوں تک ایک وسیع وعریض معاشی زون بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔
( بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت )

