عادل فرازکالملکھاری

عہداکبری میں علماء کا کردار (1) ۔۔ عادل فراز ، ( لکھنؤ )

مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبرکے عہد کو مغلیہ سلطنت کی ترقی اور استقامت کا عہد تسلیم کیا جاتاہے۔اکبر کا شمار دنیا کے عظیم فاتحین میں ہوتاہےجس کا عرصۂ اقتدار پورے ہندوستان پر محیط تھا ۔اکبر کے علاوہ دیگر مغلیہ سلاطین پورے ہندوستان پر حکومت کا خواب پورا نہیں کرسکے ۔اکبر نے اپنی سیاسی سوجھ بوجھ ،مذہبی رواداری ،سماجی بھید بھاؤ سے بیزاری ،اور فوجی استقلال کی بنیاد پر مغلیہ شہزادوں کے پورے ہندوستان پر حکومت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا تھا۔اکبر کی مذہبی رواداری اور سماجی نظریے نے مغلیہ حکومت کی بنیادوں کو تو مضبوط کیا لیکن اس پائیدار سلطنت کو مثالی ریاست نہیں بننے دیا ۔اس کی کئی اہم وجوہات ہیں جن پر تاریخی حقائق کی روشنی میں بحث کی جائے گی ۔



1 ۔ اکبر عہد میں اقلیت در اقلیت فرقہ کی جان و مال اور عزت و ناموس محفوظ نہیں تھی ۔اس فرقے کو دیگر مذاہب اور مسالک کی طرح مذہبی آزادی بھی حاصل نہیں تھی ۔
2 ۔ اکبرنے مذہبی رواداری کے اصولوں پر عمل کرنے کے بجائے مذہبی اصولوں اور نظریات کو ہی تبدیل کرنے کی روش اختیار کی بلکہ اس پر شدت کے ساتھ عمل بھی کیا ۔اسلامی آئین اور قرآنی تعلیمات کے تمسخر کومذہبی رواداری پر محمول کیا گیا۔
3 ۔دربار اکبری میں نورتنوں کو سیاسی و مذہبی بالادستی حاصل تھی مگر انہوں نے اس بالادستی کو قائم رکھنے کے لئے اکبر کی مذہب میں دست درازیوں پر بھی مصلحت آمیز سکوت اختیار کیا ۔یہی نورتن اکبر کے سیاہ و سفید کو شرعی و سماجی جواز فراہم کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔
4 ۔ اکبر اپنی ناخواندگی اور بے بضاعتی کے باجود مذہب میں سیادت اور قیادت کا متمنی تھا۔اس خواب کو شرمندۂ تعیبر کرنے کے لئے اس نے درباری علماء کو مہروں کی طرح استعمال کیا۔افسوسناک صورتحال یہ رہی کہ علماءاپنے سیاسی استحصال پر ذاتی مفاد کی خاطر رضامند رہے۔
5 ۔اکبر تاریخ میں اپنی ابدی زندگی کے لئے نئے مذہب اور نئے نظریات کو جنم دینے کا خواہش مند تھا ۔اس خواہش نے دین الہی کو جنم دیا اوربادشاہ کو اسلامی مسلمات کے انکار پر اکسایا۔



اگر ہم ان پانچ نکات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اکبر کے عہد کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ اکبر کا عہد داخلی سطح پر ناکامی کا شکار تھا ۔تاریخ کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ اکبر کی مضبوط سلطنت کے پیچھے بیرم خان جیسے بہادر فوجی کی وفاداری اور استقامت تھی مگر اکبر نے متعصب افراد کے ورغلانے کی بنیاد پر بیرم خان کو ہی معزول کردیا اور اس کے قتل کی ذمہ دار ی بھی اکبر پر ہی عائد ہوتی ہے بلکہ یوں کہاجائے تو شاید غلط نہ ہو کہ حج بیت اللہ کے لئے جاتے ہوئے راستے میں اکبر کے اشارے پر ہی بیرم خان کو قتل کریا گیا۔1569 ء میں ہی اکبر نے رافضی ہونے کے جرم میں میرزا مقیم اصفہانی اور میریعقوب کشمیری کو فتح پور میں قتل کرادیا ۔(1)شیخ مبارک ،ابوالفضل ،شیخ فیضی اور مرزا عبدالرحیم خان خاناں کی دربار سے وابستگی کے بعد اکبر کے دل میں شیعوں کے لئے نرمی پیدا ہوئی ۔اس سے پہلے اکبر کا اتالیق میر عبدالطیف قزوینی بھی عوام کے درمیان شیعی عقیدہ کے لئے مشہور تھا مگر عام طورپر لوگ اسے صوفی المسلک سمجھتے تھے ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ اکبر کے دربار میں صوفیوں اور شیعوں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے اسے اقلیتوں کے قتل عام سے کسی حد تک محفوظ رکھا ۔چونکہ یہ تمام علماء تقیہ میں تھے اور دربار اکبری سے منسلک تھے اور انکی رائے پر بادشاہ کی رائے کو اجماع کے(2) ذریعہ فوقیت حاصل تھی لہذا بعض حکومتی معاملات میں چاہتے ہوئے بھی یہ علماء اکبر کی غلط رائے کو بدلوانے اور باطل ٹہرانے کا حق نہیں رکھتے تھے جس کا خمیازہ مذہب اور حکومت دونوں کو بھگتنا پڑا۔



اکبرمذہب میں بیحد رواداری کا قائل تھا ۔یہی وجہ ہے کہ اس نے عبادت خانے کی تعمیر کے بعد جہاں مسلمانوں کے تمام مسالک کو بحث و مباحثے کی دعوت دی تاکہ وہ ان مباحثوں کی روشنی میں حقیقت تک رسائی حاصل کرسکے مگر یہ مذہبی مباحثے فرقہ وارانہ جھگڑوں سے آگے نہ بڑھ سکے ۔نتیجہ یہ ہواکہ اکبر مذہب اور مذہبی لوگوں سے بددل ہوگیا ۔بالآخر اس نے عبادت خانے کے دروازوں کو سبھی مذہب کے ماننے والوں کے لئے کھول دیا ۔بودھشٹ،یہودی ،عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے اس عبادت خانے میں آکر مذہب اسلام کا مضحکہ کرنے لگے اور اکبر خاموش تماشائی بنا رہا۔اس عبادت خانے میں مذہبی افراد کم ،ملحد اور بےدین افراد کا ہجوم دن بہ دن بڑھتا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکبر بھی نظریۂ الحاد کے گرادب میں جا پھنسا اور جو عبادت خانہ مذہبی جھگڑوں کو سلجھانے کے لئے عالم وجود میں آیا تھا اکبر کی بے دینی کی وجہ قرار پایا۔



ملّا عبدالقادر بدیوانی لکھتے ہیں:
’’کچھ تو اکبر کی طبیعت اور کچھ حالات کا تقاضا ،بہر حال نتیجہ یہی نکلابادشاہ نے بہت جلد سارے مسلمہ اعتقادات سے منکر ہوکر الحاد اور بے دینی کی راہ اختیار کرلی ‘‘۔(3)
اکبر کی بے دینی اور ملحدانہ طبیعت کے پیچھے درباری علماء کی غیر مصلحت پسندانہ روش تھی ۔ہمارے بعض سادہ لوح مفکرین اکبر کے نورتنوں کی تعریف میں بغیر سوچے سمجھے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ اکبر کے تمام تر غیر مصلحت پسندانہ اقدامات،اسکی ملحدانہ طبیعت اور بے دینی کے ذمہ دار یہی نورتن تھے ۔شیخ مبارک ،ابوالفضل ،فیضی جیسے علماء نے اکبر کی متزلزل طبیعت کے ثبات کے لئے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکبر اسلام مخالف اعمال پر فخر کرنے لگا اور دین اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے رسومات اور آئین کو حکومتی سطح پر رائج کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔پہلی بار کسی مسلمان سلطنت میں حکومتی سرپرستی میں آتش کدے کا قیام عمل میں آیا اور اسلامی مسلمات کو غیر عقلی قرار دیکر ان کا سرعام مضحکہ کیا گیا۔(4)علماء نےاکبر کی مذہبی سیادت کا اعلان کرکے مذہبی معاملات میں بھی اکبر کی رائے کو فوقیت دیدی اور تمام علماء نے ایک محضر نامہ پر دستخط کرکے بادشاہ کے اجتہاد کا اعلان کردیا ۔ان علماء کے مصلحت پسندانہ سکوت اور اکبر کی مذہب میں مداخلت پرچشم پوشی کی بنیاد پر ناخواندہ بادشاہ امامت جمعہ کے لئے بھی تگ و دو میں مصروف نظر آیا اور علماء کو منبرومحراب سے معزول کرکے انہیں گوشہ نشین بنانے کی منصوبہ بندی کرتا رہا ۔اگر علماء اکبر کے اجتہاد کا اعلان نہ کرتے تو اکبر کے دل میں کبھی مذہب میں مداخلت اور سیادت کا خواب پیدا نہ ہوتا ۔اس اعلان کا نقصان یہ ہواکہ اکبر میں دین الہی کے نفاذ کی جرأت پیدا ہوئی اور اس نے تمام علماء کی موجودگی میں دین الہی کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کیا ۔اس باطل دین پر ایمان لانے والوں میں راجہ بیربل اور شیخ ابوالفضل نے سبقت کی تھی گویا اکبر کو دنیا کی طرح دین میں بھی حاکم تصور کرلیا گیا تھا۔



حوالے:
(1) منتخب التواریخ جلد دوم ملّا عبدالقادر بدایونی ص 90
(2) مغلیہ سلطنت کا عروج و زوال آرپی ترپاٹھی ص 298
(3) منتخب التواریخ جلد دوم ملّا عبدالقادر بدایونی ص 201تا202
(4) منتخب التواریخ جلد دوم ملّا عبدالقادر بدایونی ص 250 تا 274

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker