آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: آخر یہ ’ریپ کلچر‘ ہے کیا؟

اڑیں گے پرزے

کچھ اصطلاحات اس قدر جامع ہوتی ہیں کہ ان کی معنویت الفاظ میں نہیں سما سکتی۔ آج کل میڈیا میں ’ریپ کلچر‘ کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے اور دُکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کیا درست استعمال ہو رہی ہے۔ہماری تہذیب، تمدن اور بود و باش میں ’جنسی تشدد‘ گھس آیا ہے۔ گو بات بہت تلخ ہے لیکن بات یہ ہے کہ جس روز ہمیں آزادی ملی، اسی روز انڈیا اور پاکستان میں اس کلچر کی بنیاد رکھ دی گئی۔
آزادی ملنے کی خوشی دونوں ملکوں نے یوں منائی کہ بے شمار عورتوں کا ریپ کیا اور کئی عورتوں نے ریپ سے بچنے کے لیے خودکشی کر لی۔ ہزاروں خواتین کبھی اپنے گھر والوں کو نہ مل پائیں اور سینکڑوں لوٹ آئیں تو باقی عمر نفسیاتی ہسپتالوں میں گزار دی۔
امی جمی ہو گئی، فسادات کی گرد بیٹھ گئی، سب درست ہو گیا، ملک بھی جیسی تیسی ترقی کر گیا لیکن ’ریپ کلچر‘ پروان چڑھتا گیا۔ ہر طاقتور نے جب اپنی طاقت کا جشن منانا چاہا، وہی کہانی دہرائی گئی۔ کسی سے بدلہ لینا تھا تو اس کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی یا کبھی کبھار اس شخص کا بھی ریپ کیا گیا۔
رشتے سے انکار پر، کسی پر دل آ جانے پر، کسی کو ڈرانے کے لیے، کسی کو یوں ہی راہ چلتے دیکھ کر، کسی سے قرض وصول کرنے کے لیے، ماتحتوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے، غرض کسی نہ کسی طرح اپنی دھاک بِٹھانے کے لیے ریپ کیا جاتا رہا۔
ریپ فقط عورتوں کا نہیں ہوتا بلکہ مرد اور بچے بھی اس تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس بات میں قطعاً دو رائے نہیں کہ ریپ کا مجرم صرف مجرم ہی نہیں ذہنی مریض بھی ہوتا ہے، اور ایک ایسا مریض جو کسی صورت رحم کا مستحق نہیں ہوتا۔
گو ہمارے قانون میں اس جرم کی سخت سزا موجود ہے، لیکن آخر کیوں یہ جرم، فقط جرم نہ رہا اور ہماری تہذیب کا حصہ بن گیا؟اس کی بہت بڑی وجہ جنس کا غلط تصور، فاعل مفعول کے تصور، اور اس تصور کو شکست اور کمزوری سے تعبیر کرنے کی مقامی سوچ ہے۔ اس سوچ کے حامل مجرم جو بچوں اور لڑکوں کے ساتھ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں، ان کے ذہن میں اکثر اپنی دھاک بٹھانے کا خیال ہوتا ہے۔
اس ’ریپ کلچر‘ کی ترویج میں بہت سا ہاتھ معاشرے ہی کا ہے۔ ’اٹھا لے جانے‘ اور ’بھگا لے جانے‘ کے تصور کے ساتھ کئی غلط تصورات، کئی گالیاں، کئی بڑھکیں آہستہ آہستہ ایسے جڑ پکڑتی گئیں کہ ہمیں معلوم بھی نہ ہو سکا کہ کب ریپ ہمارا کلچر بن گیا۔
آج جب آپ بازار میں نکلتے ہیں تو ہر وہ شخص جو اپنے پوشیدہ مقامات کھجاتا، سرِ عام، تھوکتا، موتتا اور گھورتا نظر آتا ہے وہ ’ممکنہ ریپسٹ‘ ہے، کیونکہ بدتہذیبی کے یہ مظاہرے اس کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ان بظاہر کم فحش حرکات ہی کو روک دیا جائے تو بہت سے مجرموں کی پہلے قدم ہی پر اصلاح ممکن ہے۔
وزیرِ اعظم صاحب نے ایسے مجرموں کو آختہ کرنے کی جس سزا کا ذکر کیا، اس پر بحث کرنا قانون دانوں کا کام ہے لیکن یہ سامنے ہی کی بات ہے کہ جو برائی آپ کی تہذیب میں سرائیت کر چکی ہے اسے نکالنے کے لیے فقط سزا ہی کافی نہیں۔
بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنھیں اس جرم کے ارتکاب کا موقع نہیں ملا لیکن اگر موقع ملے تو وہ بالکل نہیں چوکیں گے۔ ماضی میں ایک پنچایت کے فیصلے پر جن لوگوں نے یہ قبیح فعل کیا، کیا ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ تھا؟
جن لوگوں کے نزدیک عورتوں کے لباس، مخلوط تعلیم اور وقت بے وقت گھر سے نکلنے سے یہ جرم فروغ پا رہا ہے وہ بچوں اور مردوں کے ساتھ ہونے والے اس جرم کی بابت کیا کہیں گے؟ مردوں کے ریپ میں مقدمات درج ہی نہیں ہوتے۔
اس جرم میں مجرم کے لیے سب سے بڑی آڑ ہی یہ ہے کہ جرم کا شکار شخص خواہ عورت ہو یا مرد، نام نہاد معاشرتی اصولوں کے تحت خود ہی چور بن کے رہ جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہی ’ریپ کلچر‘ ہے کیونکہ پورا معاشرہ مل کر اس جرم کی راہ ہموار کرتا ہے۔
مجھے بخوبی یاد ہے کہ ہمارے ایک بزرگ ادیب مسکرا مسکرا کے ایک لطیفہ دہراتے تھے جس کی آخری سطر تھی ’ساڈا بابا اتے پاؤ۔‘ یہ رویہ، یہ لطیفے، جنسی تشدد کا اعلان کرتی گالیاں، ریپ کے شکار لوگوں کے لیے ’عصمت دری‘، ’آبرو ریزی‘ جیسے الفاظ استعمال کرنا، اگر ان ہی باتوں کو درست کر لیا جائے تو یہ کلچر ختم ہو سکتا ہے۔
نیز میری مصلحین قوم سے دست بستہ درخواست ہے کہ ریپ جرم ہے جو فقط ہیکڑی جمانے کے لیے، کیا جاتا ہے، اس میں لذت کا عنصر مفقود ہے۔ اسے ایک جرم کے طور پر دیکھیں۔ جرم کرنے والا قصور وار ہوتا ہے اور جرم کے شکار کو کسی بھی صورت میں شرمسار نہیں کیا جا سکتا۔
ہمیں معاشرے کی بنیاد درست کرنے کی ضرورت ہے۔ کام بہت مشکل ہے لیکن کہیں سے تو شروع کیا جا سکتا ہے؟ بد زبانی اور غیر حساس گفتگو ہی کم کر دیجیے، بہت ممکن ہے کہ آپ اپنے اندر کے ’ممکنہ جنسی مریض‘ کو ہی مارنے میں کامیاب ہو جائیں۔
پھانسی پر لٹکانے اور آختہ کرنے کے مرحلے تو تب آئیں گے جب اس جرم کو بہادری اور مردانگی کی علامت سمجھنے کے بجائے ایک غلیظ اور نیچ جرم سمجھا جائے گا اور اس کی ایف آئی آر درج ہو گی۔
چور ہماری اپنی بغل میں ہے۔ غور کیجیے کہ اس کلچر میں کس کس نے کتنا حصہ ڈالا، فقط اپنے اپنے حصے کا گند سمیٹ لیجیے۔ زیادہ نہ کیجیے، صرف اتنا سوچ لیجیے کہ آپ جتنی بار کسی کو ماں یا بہن کی گالی دیتے ہیں، نادانستہ طور پر ’ریپ کلچر‘ کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker