بی بی سیّعاصمہ شیرازیکالملکھاری

عاصمہ شیرازی کا کالم : یہ پی ٹی ایم کیا ہے؟

ہوائیں مخالف اور تیز ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟ آندھی کی رفتار کے ساتھ بھاگنے سے بہتر ہے کہ اُس کے گزر جانے کا انتظار کر لیا جائے اور سیلاب روکنے کے لیے بارشوں سے پہلے بند باندھنا ضروری ہے ورنہ سب بہہ جاتا ہے اور ہاتھ ریت بھی نہیں آتی۔ المیہ یہی ہے کہ ہم آندھیوں سے لڑتے ہیں اور طوفانوں پر بند باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوات آپریشن کو بہت قریب سے دیکھنے اور کور کرنے کا موقع ملا۔ یہاں تک کہ جنوری دو ہزار آٹھ میں جب ملا فضل اللہ عرف ملا ریڈیو کی ریاست مخالف مہم اور کارروائیاں عروج پر تھیں، سوات جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم اُن دنوں جنرل مشرف کی طرف سے ٹیلی ویژن پر نمودار ہونے پر مکمل پابندی کا شکار تھے لہٰذا اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پشاور پہنچے اور خیبر پختونخواہ کے جیّد صحافیوں سے سوات پر آگاہی حاصل کی۔


سوات کے صحافیوں سے گفتگو کے دوران یہ بھید کھلا کہ کس طرح ملا ایف ایم کی تقاریر کو درگزر کیا جاتا رہا اور کس طرح ملا فضل اللہ جس کا اصل ٹارگٹ سوات کی خواتین تھیں، ایک بڑی تعداد کو اپنے حلقہ اثر میں لے آنے میں کامیاب ہوا۔ یہ یاد رہے کہ ملا فضل اللہ کے خطبات کا محور سماجی انصاف تھا جو بعد میں شریعہ قانون کے نفاذ کے مطالبے میں بدل گیا۔ ریاست کو پتہ چلا تو سوات ہاتھ سے نکل چکا تھا اور ہر روز ’طالبان اسلام آباد سے سو کلو میٹر دور‘ کی خبریں آنے لگیں اور پھر آپریشن ’راہ حق‘ کرنا پڑا۔ انگریزی فلموں کے کردار کی طرح ملا ریڈیو ایک نئے سیکوئل کی تلاش میں فرار ہوا تاہم پاکستانی فوج کے کامیاب آپریشن کے بعد سوات میں ریاستی عملداری بحال ہو گئی۔ سوات آپریشن کی کامیابی میں اہم کردار ترقی پسند سیاسی جماعتوں کا بھی تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی اور پی پی پی جس کی اعلیٰ ترین قیادت یعنی بےنظیر بھٹو بھی دہشت گردی کا شکار ہوئیں، پولیس اور شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی فوج کے شانہ نشانہ قربانیاں دیں اور یوں نہ صرف قربانیاں رنگ لائیں بلکہ چند ماہ میں ہی مالاکنڈ کے بے گھر متاثرین اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔ اب آئیے فاٹا کی جانب۔ یہاں پھوٹنے والی نئی پشتون تحفظ تحریک بظاہر آئی ڈی پیز کے حقوق کے لیے شروع ہوئی مگر آہستہ آہستہ اس کا حلقہ وسیع ہو گیا۔ وجوہات واضح ہیں۔ فاٹا کے انضمام سے پہلے اور آپریشن ضرب عضب کے دوران جو سیاسی خلا وہاں تھا اسے پورا نہیں کیا گیا۔ خیبر پختونخواہ میں انتخابات 2013 کے بعد پی ٹی آئی مقبول ترین جماعت تھی۔ ان علاقوں میں بھی پی ٹی آئی مقبول تھی مگر ایک طرف گذشتہ پانچ سالوں میں بدلتے جغرافیائی حالات اور ضروریات، اکثریتی نوجوان آبادی اور ان کا پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں معیار زندگی کا تقابلی موازنہ احساس محرومی بڑھاتا رہا تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ مستقل تنازعات نے یہاں ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے کم از کم پی ٹی آئی نے مدنظر نہیں رکھا۔ کپتان کو پنجاب نے نکلنے ہی نہیں دیا اور پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی کچھ امن وامان اور اپنی پرفارمنس یا کچھ اور وجوہات کے باعث خیبر پختونخوا سے غائب ہو گئیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کو کبھی مذہبی اور کبھی لسانی انتہا پسندی کا سامنا کرنا پڑا مگر ریاست کہاں تھی اور کیوں بروقت اس اٹھتے طوفان کو بھانپ نہ سکی؟ اب بھی وقت ہے کہ ریاست پشتون تحفظ تحریک کے ساتھ، جس کے کچھ مقاصد واضح اور کچھ غیر واضح ہیں، ماں کی طرح بات کرے اور یہ بھی سیکھ لے کہ مائنس کی سیاست صرف خلا پیدا کرتی ہے اور خلا فاصلے۔۔۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker