اختصارئےڈاکٹر عباس برمانیلکھاری

ہم افکار علوی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی

جناب گلزار کے سیریل ”غالب“ میں غالب کی زبانی ایک جملہ کہلوایا گیا تھا کہ جو شعر گلی میں فقیر اور کوٹھے پر طوائف گائے وہ کبھی نہیں مرتا۔ اور ایسا ہی ہے قبولیت عامہ کی سند تمام اسناد پر بھاری ہے ۔ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کو دیکھیں کوئی موسیقی کی تعلیم نہیں سروں اور راگوں کی تربیت نہیں لیکن عوامی پسندیدگی حاصل ہوئی تو استاد ہو گئے۔ پچھلے دنوں ایک نظم آئی مرشد کے عنوان سے، آپ لاکھ کہیں کہ اس کا ایک پورا بند بلکہ اس سے بھی زیادہ لیہ میں مقیم شاعر اور کہانی کار ناصر ملک کی نظم سے اڑایا گیا ہے، اس میں مرشد کی بے جا تکرار کی گئی ہے، کئی سطریں بے معنی ہیں، انگریزی لفظ پلیز اور دو سرائیکی لائنیں چالاکی سے گھسیڑی گئی ہیں ، لیکن آپ اب افکار علوی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ اس کے پاس عوامی پسندیدگی کی سند موجود ہے۔
یہ ساری تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ میرے سفرناموں پہ ہزارہ یونیورسٹی میں ہونے والے تھیسس میں ریسرچر کے نگران نے اسے ڈاکٹر عباس برمانی سے لفظ ڈاکٹر اڑانے کی ہدایت کی ، بات قابل فہم ہے، نگران مقالہ پی ایچ ڈی کے نام کے ساتھ بھی ڈاکٹر لکھا ہو اور ایک گریجویٹ کے نام کے ساتھ بھی ڈاکٹر لکھا ہو تو وہ بھلا کیسے برداشت کرتے۔ لیکن جناب ڈاکٹر صاحب آپ ایک آدھ پی ایچ ڈی مزید کر لیں بلکہ آکسفورڈ یا ہارورڈ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کر لیں، دنیا کے اربوں لوگ ہمیں ہی ڈاکٹر کہیں گے اور گستاخی معاف اصلی ڈاکٹر ہمیں ہی سمجھیں گے۔۔۔ عجب دنیا ہے … ہے نا !

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker