پاکستان انقلابی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں وڈیو کانفرنس پر منعقدہ ہنگامی اجلاس کے دوران پارٹی کے مرکزی رہنماء پروفیسر طفیل ڈھانہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی ٹائیگر فورس عوامی خدمت کے لیئے نہیں بلکہ ملک بھر میں تیزی سے مقبول ہوتی ہوئی مزدروں، کسانوں اور بے روزگار نوجوانوں پر مشتمل پاکستان انقلابی پارٹی سے بلدیاتی انتخابات میں مقابلہ کرنے کے لیئے بنائی گئی ہے۔ کورونا وبا محض ایک بہانہ ہے جبکہ اصل ٹارگٹ بلدیاتی انتخابات ہیں۔ ان کا کہنا تھا جب سے 24 جنوری 2020 کو پاکستان انقلابی پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سیاست پارلیمنٹ کلب کا حِصہ بننا نہیں بلکہ بلدیات کی سطح پر عوامی سیاست کرنا ہے، تب سے ہی حکمران ٹولے کے ہوش اُڑ گئے ہیں۔ حکمران طبقات جانتے ہیں کہ پاکستان انقلابی پارٹی نے این ایس ایف پاکستان سے جنم لیا ہے اور اس سیاسی جماعت نے خلاء سے جنم نہیں لیا بلکہ اس کا قیام پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ نامی پری پارٹی فارمیشن کے تحت دہائیوں کی جدوجہد سے ہوا ہے۔
پاڑہ چِنار سے پاکستان انقلابی پارٹی کے مرکزی رہنماء مجاہد حسین طوُری نے کہا کہ اِس سرکاری سازِش کا جواب عوامی طاقت سے دیں گے۔ اُن کا کہنا تھا اب عوام کو مزید بےوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ عوام اِس شوُگر مل مافیا، لینڈ مافیا، سیمنٹ مافیا اور پاور پراجیکٹس مافیا کو اچھی طرح جان چکا ہے اور عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ گذشتہ کئی دہایئوں سے یہ مقتدر طبقہ جو پارٹی بدل بدل کر ہر حکومت کی لوٹ کھسوٹ میں شامل رہا ہے پہلے ہی صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اپنے سرمائے کے زور پر عوام کو خارج رہنے پر مجبور کر چکا ہے اور یہی وجہ ہے عوام اِس پارلیمنٹ کو ایک سوشل کلب سے ز یادہ کُچھ بھی نہیں سمجھتے۔ لہٰذہ اب عوام کے پاس اس کے سِوا کوئی چارہ ہی نہیں کہ بلدیات کی سطح پر سیاسی اختیارات کو آئینی طریقے سے اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ سرکاری ٹائیگر فورس عوامی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
پاکستان انقلابی پارٹی کے جنوبی پنجاب کے رہنماء ناصر تھہیم کا کہنا تھا کہ کنٹینر پر یہی ٹولہ دھاندلی دھاندلی کا واویلہ کرتا رہا اور حکومت ملنے کے بعد سرکاری فنڈ سے وباء کے نام پر ٹائیگر فورس بنا چکا ہے۔ کیا ملک کے تمام سرکاری ادارے اِس وبا سے نمٹنے میں ناکام ہو گئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو سرکار گھر جائے اور تمام سرکاری ادارے جِن کا کام ہی ایسے حالات میں عوامی کو ریلیف دینا ہے بند کر دیئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اِن کا نام ٹائیگر’فورس‘ کیوں رکھا ہے؟ کہیں حکومت آنے والے دنوں میں کوئی مسلح جتھہ تو بنانے نہیں جارہی کیونکہ فورسز تو مسلح ہی ہوتی ہیں۔
پاکستان انقلابی پارٹی کے رہنماء افتخار بلوچ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں ایک فیڈرل سیکیورٹی فورس بنائی تھی۔ جِس کا بظاہر مقصد تو سول انتظامیہ کی معاونت کرنا تھا مگر رفتہ رفتہ لاء اینڈ آرڈر کے نام پر بھٹو کی ذاتی فورس بن گئی۔ حکومت اِس امر کی یقین دہانی کیسے کروائے گی کہ ٹائیگر فورس کُچھ عرصے کے بعد فیڈرل سیکیورٹی فورس نہیں بن جائے گی کیونکہ عمران خان کے ’نئے پاکستان‘ کی لوٹ کھسوٹ کی ساری پالیسیاں تو پرانے پاکستان والی ہی ہیں۔ وہی 22 خاندان، وہی بیوروکریسی، وہی ریٹائرڈ افسران، وہی سرمایہ دار، وہی بنیاد پرستوں کی حمائت، وہی سامراج نوازی تو حکمرانوں کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ نئے پاکستان کی پرانی فیڈرل سیکیورٹی فورس نہیں ہوگی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عادل محمود نے کہا کہ پاکستان انقلابی پارٹی مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور بے روزگار جوانوں کے لیئے ایک واضح معاشی، سیاسی اور سماجی پروگرام رکھتی ہے۔ یہ سیاسی اپاہج جو سکندر مرزا، ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے سیاسی وارث ہیں، یہ کبھی بھی عوامی سیلاب کا راستہ نہیں روک سکتے۔ یہ ٹائیگر فورس بنائیں یا جماعت اسلامی کی طرح تھنڈر اسکواڈ، پاکستان انقلابی پارٹی عوامی جمہوری انقلاب برپا کرنے کے لیئے بنی ہے اور ہم عوامی طاقت سے انقلاب کی منزل کو حاصل کر کے ہی رہیں گے۔ ہمیں سول اور عسکری مارشل لاء اور سامراجی سازشیں ختم نہیں کر سکیں تو کورونا وباء کی آڑ میں جنم لینے والی یہ ٹائیگر فورس بھی ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔
فیس بک کمینٹ

