حکومت اور اپوزیشن کا سیاسی طور پر متحارب اور ایک پیج پر نہ ہونا تو جمہوری نظام کی تلخ حقیقت ہے مگر حکومت کا خود ہی کسی مسئلہ پر متفق نہ ہونا قابل افسوس اور توجہ طلب ہے خصوصاً اس وقت جب ملک عالمی وباءکی لپیٹ میں آچکا ان حالات میں بھی نہ صرف وزیراعظم عمران خان نے متعدد مرتبہ بیان تبدیل کئے بلکہ وزراءنے تو کمال ہی کردیا کہ ایک ہی دن میں ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت کے وزراءنے ایک ہی ایشو پر مختلف رائے کا اظہار کیا،انہیں شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ وزیراعظم جب کسی مسئلہ پر بات کرتا ہے تو وہ رائے نہیں ہوتی بلکہ پالیسی بیان ہوسکتا ہے لیکن یہاں کہہ مکرنی کا ایسا دور ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔
جبکہ دوسری طرف ایسے بیانات سے عوام میں عدم اعتماد اور برداشت کم ہورہی ہے اور تو اور تحریک انصاف کے اپنے عہدیدار اور کارکن بھی اب تو جواب دینے سے کترانے لگے ہیں اب وزیراعظم عمران خان کو ہی لے لیں جنہوں نے وباءکے آغاز میں بھرپور پالیسی بیان دیا تھا کہ لاک ڈاﺅن نہیں کریں گے حالانکہ اس وقت دنیا لاک ڈاﺅن پالیسی کی طرف جاچکی تھی اور انہیں بھی کرنا پڑا اب وزیراعظم کی بات یا بیان کا کیا بھرم رہ گیا کہ اپنے ہی بیان کے خلاف سب کچھ ہوگیا پھر گویا ہوا یہ کہ لاک ڈاﺅن اشرافیہ نے کرایا اب بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ جناب والا ! مسند اقتدار پر تو آپ تشریف فرما ہیں تو پھر یہ اشرافیہ کون ہے ؟ اسی طرح وزراءکا عالم یہ ہے کہ عوام کو تسلی دینے کے بجائے انہیں اتنا خوفزدہ کررہے ہیں کہ رہی سہی قوت مدافعت بھی جاتی رہے ۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی فرماتے ہیں کہ لاک ڈاﺅن سے ملک ہمیشہ کیلئے بند نہیں کرسکتے کیونکہ کرونا وائرس سے زیادہ اموات تو ٹریفک حادثات میں ہوجاتی ہیں،وزیر موصوف اموات سے زیادہ 119ارب کے نقصان پر رنجیدہ ہیں اور بار بار دہرارہے ہیں کہ آبادی کے تناسب سے اموات بہت معمولی ہیں جبکہ ساتھ ہی بتارہے ہیں کہ رواں مہینے میں متاثرین کی تعداد میں خطرناک حدتک اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ دوسری طرف روزگار کی مواقع میں کمی اور ایک کروڑ 80لاکھ لوگ بے روزگار اور 10لاکھ چھوٹے ادارے بند ہوسکتے ہیں7کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے یعنی ہر چار میں سے ایک پاکستانی کے گھر میں خوراک کی کمی ہوگی ۔
یہ معلومات یقیناَ خوف زدہ کردینے والے حقائق پر مبنی ہیں کیونکہ اس کا راوی منصوبہ بندی کا وفاقی وزیر ہے مگر اس وزیر نے ان تمام مشکلات کا کوئی ایک بھی حل نہیں بتایا اور نہ ہی حوصلہ دیا کہ حکومت ان حقائق کو سامنے رکھ کر کوئی مثبت اقدامات اٹھارہی ہے اب اگر حوصلہ نہیں دیا تو اس کا اثر معاشرے پر ضرور ہوگا جو منفی ہوگا دوسری طرف مخدوم شاہ محمود قریشی نے کرونا سے نبرد آزماڈاکٹر ز اور طبی عملہ کو قابل فخر قرار دیا ہے اور دعا کی ہے کہ دنیا جلد اس عالمی وبا سے نکل جائے گی انہوں نے بتایا کہ کرونانے ملکی معیشت پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں توقع تھی کہ اس دوران بھارتی رویہ میں کوئی مثبت تبدیلی آتی لیکن لگتا ہے کہ بھارت کو احساس نہیں کہ دنیا کرونا وائرس سے گز ر رہی ہے لیکن وہ کشمیریوں پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
ادھر خوراک کے عالمی ادارے نے غذائی قلت کے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اور باور کرایا ہے کہ اگر فوری طو رپر اس پر قابو نہ پایا گیا تو خوراک کی پیداوار اور تقسیم کا میکنزم واضح نہ کیا گیا تو دنیا کی ایک بڑی آبادی وائرس سے تو نہیں مگر بھوک سے مر سکتی ہے اور 60سے زیادہ ممالک میں قحط کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہوگی کہ عالمی بنک نے بھی پاکستان اور پنجاب حکومت کو گندم کی خریداری کے اہداف پورے کرنے پر زور دیا ہے لیکن ادھر ملک بھر میں سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والے علاقے جنوبی پنجاب میں موسمی حالات اور بارشوں کی وجہ سے گندم کی کٹائی اور گہائی متاثر ہورہی ہے جو پیداواری ہدف کے حصول میں مشکل اور اس کے مصنوعی بحران کی بنیاد بن سکتا ہے اس بات کی نشاندہی پہلے بھی کردی تھی کہ پرائیویٹ سیکٹر حکومتی امدادی قیمت سے زیادہ پر خریداری کررہا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے اور اس میں مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بالکل خاموش ہیں ، خاموش تو یہ ادارے گزشتہ کئی مہینوں سے ٹڈی دل کی افزائش پر بھی ہیں جس کے بارے میں تمام متعلقہ ادارے آگاہ تھے کہ اس افزائش فصل کے موسم کے بعد ٹڈی دل حملہ کرے گا اس بارے عالمی ادارے بھی خبردار کرچکے تھے قومی اور صوبائی اداروں کو بھی معلوم تھا کہ لیکن ماضی کی طرح مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی ہے اور اب راجن پور کے متعدد علاقوں میں ٹڈی دل حملہ آور ہوچکا ہے جس کا پھیلاﺅ اندرون سندھ ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے دوسرے اضلاع میں ہوگا یعنی آم کے باغات سمیت سبزیوں ، کپاس اور دوسری فصلوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اب اس پر بھی قدرت سے مدد کی اپیل ہوسکتی ہے کیونکہ حکومت تو اس حوالے سے ابھی واضح نہیں ہے۔وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو تو خبر بھی نہیں ہوگی کیونکہ وہ ایسے دنوں میں بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور بزدار حکومت کی گردان پر توجہ دھرے بیٹھے ہیں اور دوسرا دھیان پنجاب بھر میں بنائی جانے والی 123تحصیل کونسلوں پر ہے کہ وہ اپنے علاقے میں کتنی تحصیلوں میں اپنے لوگوں کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں اور وہ بجٹ جو اسسٹنٹ کمشنر کی سطح کے تحصیل کونسل ایڈمنسٹریٹر نے تیار کرنا ہے اس کے فنڈ کس کس کو دینے ہیں اطلاعات ہیں کہ ایڈمنسٹریٹرز کوہدایات جاری کی گئی ہیں کہ سالانہ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے پروگرام کی سکیموں میں اراکین اسمبلی کی اسیکمیں بھی شامل کریں اور تمام تحصیل کونسلز اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے تمام اقسام کی فیسوں ، خدمات ، ڈیتھ وبرتھ سرٹیفکیٹس ، پروفیشنل ٹیکس ، تمام اقسام کے کاروبار ، چھوٹی شاپس کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی ہدایت کی ہے تمام شعبہ جات کے این او سی فیسوں میں اضافہ کیا جائے گا اور دوسری طرف عالم یہ ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ملتان مویشی منڈی کی تعمیر کیلئے جاری فنڈز فوراً لاہور واپس منگوالئے ہیں یعنی باقی کام تو پہلے ہی بند پڑے ہیں اب مویشی منڈی کی تعمیر کو بھی ملتانی بھول جائیں اور کسی دوسرے وسیم اکرم تھری کا انتظار کریں ۔
فیس بک کمینٹ

