Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جون 4, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی
  • ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی
  • لبنان میں اسرائیل کے عزائم کیا ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • لبنان کے تاریخی قلعے پر اسرائیلی قبضہ : فرانس نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا
  • فرانس میں چیمپیئنز لیگ کے جشن کے بعد ہنگامے، 400 سے زیادہ افراد گرفتار
  • امن معاہدہ تو تیار ، صرف سرنامے پر ’اختلاف‘ ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»ڈاکٹر علمدار حسین بخاری کی یادیں : احمد فاروق مشہدی ،ایک شریف آدمی ( پانچواں حصہ )
ادب

ڈاکٹر علمدار حسین بخاری کی یادیں : احمد فاروق مشہدی ،ایک شریف آدمی ( پانچواں حصہ )

ایڈیٹرجولائی 4, 202112 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
ahmad farooq mashadi
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email
( گزشتہ سے پیوستہ )
بات دل کے معاملات کی ہورہی تھی ہماری جماعت میں فاروق کو اس وادی عشق میں سابقوں و الوں میں سے ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اس کو اظہار کی ہمت تو نہ ہوئی لیکن اس نے یہ بات کچھ زیادہ ہی دل کو لگا لی تھی اس حوالے سے یہ بات کم از کم میرے لئے بہت حیران کن تھی کہ وہ باقاعدہ آنسوؤں کے ساتھ رو بھی سکتا ہے، ایک روز یونیورسٹی میں عجب واقعہ ہوا ایک لیکچر کے درمیان ہی میں شاہ جی اچانک اٹھے اور کچھ لہراتے لڑکھڑاتے ہوئے کمرہء جماعت باہر چلے گئے چند منٹ تک واپس نہیں آئے تو ہمیں فکر لاحق ہوئی یاسین جو اگلی نشستوں پر بیٹھنے کا عادی تھا اس نے اٹھ کر باہر جھانکا اور پھر ” اوئے مشہدی ۔۔۔!” کہہ کر باہر کی طرف بھاگا کلاس میں کھلبلی مچ گئی اور ہم سب باہر آگئے ادھر منظر یہ تھا کہ شاہ جی ایک تختے کی طرح سامنے والے پلاٹ کی گھاس پر پڑے ہوئے تھے اور سائنس کے ایک شعبے کی تین چار لڑکیاں ان کا سر اٹھا کر انہیں کوئی کولڈ ڈرنک پلانے کی کوشش کررہی تھیں یہ ذمہ داری سب سے پہلے بھاگ کر جانے والے یاسین شاہد نے سنبھال لی (جس پر شاہ جی نے اسے کبھی معاف نہیں کیا) خیر تھوڑی دیر میں موصوف کافی سنبھل گئے
مذکورہ بالا واقعے کی عمومی توضیح (interpretation) یہ کی گئی کہ "کسی کی عدم توجہی کے باعث ” فاروق مشہدی اس حالت کو پہنچا ہے اس پر "فریق دیگر” کی افتخار آمیز پریشانی کو کم ہی لوگوں نے محسوس کیا۔ مریض کو موٹر سائیکل پر لاد کر میں ڈاکٹر کے پاس لے گیا ڈاکٹر نے جب مکمل معائنہ کرنے کے بعد یہ تسلی دی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں شاید کھانا وقت پر نہ کھانے کے باعث کمزوری ہوگئی تھی بس اچھی خوراک کھائیں اور خوش رہیں لیکن فاروق کو ڈاکٹر کی یہ تشخیص ہر گز پسند نہیں آئی اور باہر نکل کر غصے سے بڑبڑایا "یہ ڈاکٹر ہے؟ شکل ہی سے نالائق دکھتا ہے” لیکن خود موصوف کی عاشقانہ نالائقی اگلے روز سامنے آنے والی تھی۔
اگلے دن ہم نے فاروق کو ہاسٹل میں آرام کرنے کا مشورہ دیا جسے اس نے بظاہر مان لیا۔۔ صبح کلاس شروع ہونے سے پہلے سبھی لڑکیوں نے فاروق کا حال پوچھا تو ہاسٹل کے ساتھیوں نے مبہم سے بیانات جاری کئے شاید پہلے دو پیریئڈ گزرے ہوں گے کہ "باعث مرض” ہمارے پاس آئیں اور کچھ جھجھکتے ہوئے فاروق کا حال دریافت کیا ہم نے محتاط لیکن ذومعنی انداز میں موصوف کی حالت زار اور اس کی وجوہ کی طرف کافی بلیغ اشارے کرنے میں اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کردیں جس کا اثر موصوفہ کے رخساروں کی سرخی اور جھکتی آنکھیں کی لاج میں صاف دکھائی دے رہا تھا لیکن عین اسی لمحے فاروق صاحب اپنی مخصوص لڑکھڑاتی چال میں آتے دکھائی دیئے ہم کہ ان کی حالت زار کی نقشہ کشی میں مصروف تھے بھونچکے رہ گئے اور ہمارا مونہہ کھلے کا کھلے رہ گیا اور اگلے ہی لمحے موصوفہ ہمیں کچھ اس طرح ملامتی سی نظروں سے دیکھتے ہوئے ایک طرف کو چل دیں جیسے کہہ رہی ہوں "احمقو میں تمہارے سارے ڈرامے کو سمجھ گئی ہوں”
فاروق قریب آیا تو یاسین نے اپنے کھردرے لہجے میں بے ساختہ کہا ” اوئے مشہدی تیرا بیڑہ غرق۔۔۔!” فاروق بدحواس حیرت سے بولا ککیا ۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا مطلب ۔۔۔؟”
"مطلب یہ شاہ جی کہ بیڑا غرق ہوگیا ۔۔۔ یار آپ کو چین نہیں آیا ہاسٹل میں بس منہ اٹھا کر آگئے ۔۔۔ بڑی مشکل سے ہم نے میدان ہموار کیا تھا اور ادھر سے جناب طلوع ہو گئے ساری محنت پر پانی پھیردیا۔” میں جھنجھلاہٹ سے پھٹ پڑا۔ وہ موصوفہ کو ہم سے گفتگو کرتے اور پھر خود اس سے کوئی بات کئے بغیر جاتے ہوئے دیکھ چکا تھا اس لئے پچھتاوے کی ایک واضح لہر سی اس کے چہرے پر آکر رہ گئی اور وہ ڈھئی ہوئی آواز میں بولا
"وہ ۔۔۔ میں وہاں پڑے پڑے بور ہو گیا تھا یار۔۔۔ اور پھر میں نے سوچا کچھ کلاسیں ہی پڑھ لوں !”
"تو آو پھر کلاسیں ہی پڑھتے ہیں ۔۔۔ باقی کام تو ہو لئے ۔۔۔ قبلہ شاہ صاحب کی کلاس کا وقت ہے بیٹھ کر خودی کو بلند کرتے ہیں۔۔۔” میں نے اکتا کر کہا ۔
فاروق کے اس عشق کے بارے میں راو تسنیم کی الگ رائے تھی اس نے ایک روز فاروق کو رقت کی حالت میں دیکھ کر کہا تھا (وہ اپنے ایسے اقوال ہم سب کے بارے میں اکثر جاری کیا کرتا تھا) "تم اسے اتنا بھی مجنوں نہ سمجھو دیکھڑاں یو گنجو ایک روز ایسے موڑ کاٹے گا کہ تھارے پھرشتے بھی سر پیٹ لیویں گے”
ہم سمجھے یہ راو کے جذبہ رقابت کا شاخسانہ ہے لیکن نئی کلاس کے آتے ہی اس کی یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہونے لگی پریویئس کلاس میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ اور ہماری کلاس کے مقابلے میں کم و بیش تین گنا تھی فاروق ہماری کلاس میں اول پوزیشن آرہا تھا اس لئے فطری طور پر جونئر لڑکیوں نے نوٹس اور رہنمائی کے لئے اس کی طرف زیادہ رجوع کیا اب شعبہ میں اس کی نشست و برخاست لڑکیوں کے ساتھ بڑھ گئی معاملہ کینٹین تک پہنچا اور پھر کچھ ہی عرصے میں بوجوہ بھیڑ چھٹتی گئی اور شاہ جی ایک سید زادی کو پرائیویٹ کوچنگ دینے لگے وہ بڑے انہماک سے کتابیں اور نوٹس کھولے کبھی گراؤنڈ کے کسی کونے میں اور کبھی کینٹین کے ایک گوشے اپنی نئی طالبہ کو رہنمائی فراہم کرتے نظر آتے۔ سیشن کے ختم ہوتے ہوتے اس کی طالب علم رضوانہ گیلانی نے زندگی کا ایک اہم فیصلہ کرنے میں فاروق شاہ کی فیصلہ کن مدد کی فاروق نے جب ہمیں اس فیصلے سے آگاہ کیا تو ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی ۔۔۔ یوں راہ محبت میں ہماری کلاس کا سب سے خوش نصیب مسافر قرار پایا اگرچہ محبت کی اس کہانی کی جزئیات کا ہمیں کم ہی پتہ چلا کیوں کہ وہ فاروق طبعاً بے حد شرمیلا شخص تھا اور "فاش گویم” کا بالکل قائل نہیں تھا اس سلسلے میں راو تسنیم کے اکسانے والے طعنوں تشنوں پر وہ شرمیلی سی ہنسی ہنس کر چپ ہو رہتا تھا اس لئے اب شاہ جی کی حسن پرستی اور عشق پیشگی پر کوئی مزید تبصرہ بھی حیا کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
فاروق مشہدی کو ملتان یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی طرف سے غیر ملکی وظیفہ ملا تو مسئلہ یہ پیش آیا کہ وہ کس یونیورسٹی اور کس مضمون میں داخلہ لے کیونکہ اس سے پہلے اردو ہی کے ایک طالب علم اسلم ادیب بریڈ فورڈ یونیورسٹی برطانیہ میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے اور انہیں بعض تیکنیکی مسائل کے باعث علم التعلیم (Education) میں داخلہ لینا پڑا تھا انہی کی سمجھداری پر بھروسہ کرتے ہوئے فاروق نے بھی بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے ایجوکیشن کے شعبہ ہی میں داخلہ لے لیا اگرچہ دو ایک سال بعد میں شعبہء اردو ہی کے ایک اور زیادہ سمجھدار طالب علم سلیم اللہ حیدرانی نے اسی سکالرشپ پر سکول آف افریکن اینڈ ساوتھ ایشین اینڈ سٹڈیز (SOAS) لندن سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کی ۔
فاروق دراصل ادب کا طالب علم تھا لیکن یہ وہ مرحلہ تھا جب وہ پیشہ ورانہ ترجیحات کے باعث ادبی دنیا سے دور ہوگیا اگرچہ اس کا دل ہمیشہ ادھر ہی کھنچتا رہا وہ گاہے گاہے شعر بھی کہتا رہا ۔۔۔
یہ فاروق کی من موہن شخصیت کا اعجاز تھا کہ اس کو گوروں کے دیس کو روانہ کرنے کے لئے دوستوں کا ایک حلقہ اور ہمارے اکثر اساتذہ ملتان ایئر پورٹ پرآ موجود ہوئے وہاں باہر کھڑے لوگ اپنے اپنے انداز میں اسے مشوروں اور نصیحتوں سے نواز رہے تھے جنھیں وہ بہترین طالب علمانہ توجہ کے ساتھ سنتا رہا میں ایک طرف چپ کھڑا تھا اس بات کو اس نے نوٹ کیا اور اس نے جاتے جاتے میری طرف پلٹ کر ایک شرارتی ہنسی ہنس کر کہا "بخاری صاحب تساں کوئی نصیحت نیں کیتی ؟”
میں نے اس سے الوداعی معانقہ کرتے ہوئے اس کے کان میں کہا "شاہ جی ویندے تاں جیں ویں پئے او بندے بنڑ کے اواہے۔۔۔!”
اس نے گھور کر مجھے دیکھا، میں ہنس پڑا ۔۔۔ اس کےچہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی لیکن عمر بھر میرے اس جملے کو وہ بھولا نہیں۔۔۔ بعد میں جب بھی ہم نے ان لمحات کو یاد کیا اسے اس درویش کا یہ جملہ ضرور یاد آیا وہ یہ جملہ یاد کرکے ہنس پڑتا اور کہتا "!نگلینڈ میں بھی تمہارا یہ جملہ مجھے کئی بار یاد آیا”۔
فاروق باہمی انسانی تعلق کے حوالے سے بہت حساس تھا اسے دوستوں کی چھوٹی چھوٹی باتیں یاد رہتی تھیں ہماری جب بھی نشست ہوتی وہ مشترکہ دوستوں کی دلچسپ باتیں زیادہ دلچسپ انداز میں دہرایا کرتا اور ہر ملاقات میں اس کا پیرایہ جدا ہوتا اس لئے تکرار کی بوریت کبھی نہ ہوتی۔
فاروق شاعری تو کرتا ہی تھا وہ نثر بھی بہت دلکش لکھتا تھا یونیورسٹی میں داخلے سے کئی برس پہلے اس کے مضامین مختلف اخبارات و رسائل میں چھپنے لگے تھے وہ مختار مسعود اورمنظورالہی کے اسلوب کو بہت پسند کرتا تھا خود اس کے اپنے اسلوب پر ان کا بہت اثر محسوس ہوتا تھا یہاں مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے اخباری کالم اس کی دیکھا دیکھی شروع کیے اگرچہ میرے دو تین مضامین شاید 1974/75 میں ایک قومی اخبار میں چھپ چکے تھے لیکن طالب علموں کے صفحہ پر طالب علمانہ زندگی کے بارے میں لکھنے کے بارے میں ایک جھجھک سی تھی ۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ فاروق ہی کی حوصلہ افزائی پر میں نے پہلا کالم (1977) لکھا تو فاروق اور میں اکٹھے اس وقت روزنامہ امروز ملتان کے میگزین انچارج اقبال ساغر صدیقی مرحوم کے گھر گئے وہ بےحد نفیس اور وضعدار انسان تھے وہ ہمیں نہ صرف بڑی محبت سے ملے ہمیں پرتکلف چائے پلائی بلکہ انھوں نے ہماری تحریریں پڑھ کر ہماری بہت حوصلہ افزائی بھی کی اگلے ہفتے کالم شائع ہوا تو مزید لکھنے کا حوصلہ ہوا ہم ادب کے طالب علم تھے اس لئے ہمارا بات کرنے کا ڈھنگ بالواسطہ اور اشاراتی ہوتا تھا۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ طالبعلموں کی مختلف اور متنوع سرگرمیوں کے بارے میں لکھتے ہوئے میں اکثر لوگوں(خاص طور پر لڑکیوں) کے نام نہیں دیتا تھا البتہ ان کے بارے میں کچھ اشارات دے دیتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کالم چھپتے ہی مختلف احباب پوچھنے لگتے یہ کس کی طرف اشارہ ہے میں چپ رہتا لیکن جن کے بارے میں اشارہ ہوتا تھا بات ان تک پہنچ جاتی اوراکثر پسندیدگی یا گاہے ناگواری کا اظہار ہوجاتا۔۔۔ فاروق کا انداز اپنا تھا اور اس کی تحریروں کو پسند کیا جاتا تھا۔ کچھ عرصہ بعد کالم نگاری کے حوالے سے میں فاروق سے زیادہ باقاعدہ، میں ہوگیا اور امروز کے ادبی صفحہ پر بھی میرا کالم باقاعدگی سے شائع ہونے لگا میرے ان کالموں میں‌بارہا فاروق کا اور دیگر دوستوں کا ذکر آجاتا تھا جس پر مجھے کئی احباب کی طرف سے طعنے بھی ملتے میں ا نہیں ہنس کر جواب دیتا "میں اپنے مخصوص دوستوں کا ذکر کرتا ہوں لیکن میری کامیابی یہ ہے کہ پڑھتے آپ بھی ہیں ”
فاروق کی تحریر کی دلکش کے حوالے سے ایک واقعے کا ذکر ضرور ہے 1978 کی بات ہے جب میں شعبہ کی مجلس اقبال کا صدر تھا نشتر میڈیکل کالج میں مشاعرہ ہوا جس میں شرکت کیلئے نامور شاعر منیر نیازی آئے ہوئے تھے ہم نے نشتر کالج کی سٹوڈنٹس یونین میں اپنے دوستوں (تنویر گوندل بعد میں لال خان اور محمود ناصر ملک وغیرہ) سے سازش کی کہ نیازی صاحب کو اگلے دن ہم یونیورسٹی لے جائیں گے لیکن ہم ان کے مطلوبہ مشروبات کی ذمہ داری نہیں لے سکیں گے ۔۔۔ بہرحال میں دن گیارہ بجے کے بعد انہیں لینے نشتر کالج پہنچا۔ نیازی صاحب بہت اچھے موڈ میں تھے یونیورسٹی کی گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھ کر بہت دلچسپ گفتگو کرتے رہے جس میں انہوں نے عہد ماضی میں نواں شہر ملتان میں اپنی ایک محبوبہ کا تذکرہ بھی کیا جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔۔۔ خیر یونیورسٹی ہم نے صرف شعبہ اردو کی دو کلاسوں ہی کیلئے اس تقریب ملاقات کا اہتمام کیا تھا اس لئے حاضرین میں اکثریت خواتین کی تھی جس سے نیازی صاحب بہت خوش ہوئے فاروق نے انہی دنوں منیر نیازی کی شاعری پر ایک مختصر لیکن بہت جامع مضمون لکھا تھا جو چند روز پہلے امروز کے ادبی صفحہ پر شائع ہوا تھا تقریب کے آغاز میں اس نے اپنا یہ مضمون پڑھا جس کی نیازی صاحب نے نہ صرف بہت تعریف کی بلکہ اس کی نقل بھی مانگ لی (فاروق مشہدی کے ایسے مضامین کو مرتب کرکے شائع کرنے کی بہت ضرورت ہے)۔۔۔ منیر نیازی کی عادت تھی کہ وہ اپنا کلام بہت کم سناتے تھے اور فرمائشوں پر اپنے کمزور حافظے کا بہانہ کرکے ٹال جاتے تھے لیکن ہماری اس محفل میں خاص طور پر فاروق کے مضمون سے خوش ہو کر وہ سنانے کے موڈ میں آگئے۔ ہم انہی دنوں اپنے سلیبس کے تحت جدید اردو شاعری کو پڑھتے ہوئے منیر نیازی کی شاعری کا خصوصی مطالعہ کر چکے تھے اور اس کی اکثر غزلیں اور نظمیں کم از کم اپنے مطلعوں اور عنوانات کی حد تک ہمیں یاد تھیں اس لئے وہ ایک غزل یا نظم سنا چکتے تو خواتین کی طرف سے ایک اور غزل کا مطلع یا نظم کا عنوان پڑھ کر فرمائش کردی جاتی (لڑکیوں کی طرف سے اس فرمائشی پروگرام کی پہلے ہی باقاعدہ منصوبہ بندی کر لی گئی تھی ظاہر ہے شاعر کو اس کا علم نہیں تھا) اس روز حیران کن طور پر نیازی صاحب نے حافظے کی کمزوری کا کوئی بہانہ نہیں کیا ایسا کوئی شاعر خاص طور پر اس وقت کربھی کیسے سکتا ہے جب حاضرین نہ صرف اس کا ہر مصرع ہر شعر اٹھا رہے ہوں بلکہ شاعر سے پہلے ہی اگلا شعر پڑھنے لگ جائیں ڈیڑھ دو گھنٹے یہ محفل جمی رہی اور شاعر کے تھک جانے کے اعلان پر ختم ہوئی ۔ منیر نیازی نے آخر میں فاروق کو مخاطب کرکے اس کے مضمون کی ایک بار پھر تعریف کی اور اپنے مختصر اختتامی کلمات میں یہ اقرار کیا کی کسی یونیورسٹی میں انہیں ایسے سخن فہم طلبا و طالبات نہیں نظر آئے۔ اس کے بعد نیازی صاحب سے گاہے گاہے اس درویش کی ملاقاتیں ہوتی رہیں اور انہوں نے ٹاؤن شپ لاہور میں کئی بار چائے پر بھی بلایا ان ملاقاتوں میں طویل وقفوں کے باوجود انہوں نے مجھے دیکھتے ہی میرے نام سے بلایا اورکئی بار انہوں نے فاروق کا بھی پوچھا ۔۔
فاروق کی ادبی زندگی کی بات چلی ہے تو یہ بھی بتاتا چلوں کی وہ اس نومولود یونیورسٹی میں آتے ہی اس کی ادبی سرگرمیوں کا حصہ بن گیا ہماری بظاہر پڑھاکو سی کلاس میں اس وقت فاروق اور نگینہ گل دو ہی لوگ تھے جو کلاس سے باہر کی دنیائے ادب سے جڑے ہوئے تھے اور پوزیشن کا اصل مقابلہ بھی ان دونوں میں تھا آخر میں فاروق نے پہلی اور نگینہ گل (جن کا گھریلونام الماس تھا) بعد میں ان کی شادی میرے ایک بہت عزیز دوست منظر گیلانی مرحوم سے ہوئی شادی کے بعد نگینہ گل نے یہ کہہ کر کہ ” گھر سنبھالنا بھی ایک کل وقتی کام ہے” ادبی دنیا کو مکمل خیرباد کہہ دیا تھا حتی کہ کالج کی لیکچرر کی نوکری بھی چھوڑ دی اور مکمل گھریلو خاتون بن گئیں اس طرح فاروق کے ایجوکیشن کا مضمون اختیار کرنے اور نگینہ گل کے گھریلو زندگی کو ترجیح دینے سے بہت اچھا ادبی ذوق رکھنے والے ہمارے دو بہت اچھے دوستوں نے خود کو دنیائے ادب سے بے دخل کرلیا۔۔۔ فاروق پہلے سال طالب علموں کے لئے یونیورسٹی کے رسالے "ملتان یونیورسٹی میگزین کا اسسٹنٹ ایڈیٹر اور اگلے سال ایڈیٹر منتخب ہوا اس نے اپنی یہ ذمہ داری بہت توجہ اور محنت سے نباہی وہ ہمیں بھی اس کام کی مشاورت میں شریک کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔ جب وہ ایڈیٹر بنا تو ظاہر ہے مواد کے معیار کی ساری ذمہ داری اس پر تھی اس لئے وہ اشاعت سے پہلے جمع شدہ تحریروں کو بار بار پڑھ رہا تھا شعبہ تاریخ کے ایک صاحب نے کہ "اختر” جن کے نام کا حصہ تھا ایک غزل اشاعت کیلئے دی جس میں اختر تخلص استعمال کیا گیا تھا غزل اتنی اچھی تھی کہ ان صاحب کی اوقات سے باہر لگتی تھی فاروق کو شک ہوا اس نے معاملہ ہمارے سامنے رکھا کیونکہ اس کا ایڈیٹوریل بورڈ اس معاملے کو حل نہیں کر پایا تھا میگزین کے انچارج پروفیسر صاحب کی رائے تھی کہ طلبا کی تحریریں ہیں اتنے چھان بین کی ضرورت نہیں لیکن ہمارے شاہ جی کو چین نہیں آرہا تھا ۔۔۔ ہم سب کی رائے بھی یہ تھی کہ فاروق کا خدشہ صحیح ہے۔ اختر نام/ تخلص کے ادیبوں کی فہرست بنائی گئی۔۔۔ جانثار اختر، ہری چند اختر، اختر حسین رائے پوری، اختر حسین جعفری وغیرہ اور سب لائبریری کی طرف روانہ ہوئے اگلے ہی روز زیرتفتیش غزل جانثار اختر کی ایک کتاب میں تلاش کر لی گئی اب چور شاعر سے بات ہوئی تو وہ سینہ زوری پر اتر آئے اور کہنے لگے
"یہ غزل میں نے خود لکھی ہے۔۔۔ اپنے ان ہاتھوں سے دیکھ لو خط میرا اپنا ہے!*
یہ کہتے ہوئے موصوف بے حد پرسکون اور پر اعتماد تھے انہوں نے میگزین انچارج سے شکایت کی دھمکی بھی داغ دی ان کے "اعتماد” کو دیکھ کر لطف بہت آیا اور پھر کافی عرصہ تک یہ واقعہ ہمارے تفنن طبع کا ذریعہ بنا رہا وہ "پراعتماد شاعر” بھی بعد میں ہمارے دوست بن گئے وہ واقعی ایک دلچسپ کردار تھے جن پر الگ سے ایک مضمون بنتا ہے ۔
ایم اے کا نتیجہ کارڈ ملنے کے کچھ ہی دنوں بعد فاروق کو ایک اخبار میں سب ایڈیٹر کے طور پر ملازمت گئی جو زیادہ عرصہ اس لئے جاری نہ رہ کہ اسے خواجہ فرید کالج رحیم یار خان میں بطور ایڈہاک لیکچرر اس کا تقرر ہو گیا۔
بہاولپور ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ میں ہم دونوں میری موٹرسائیکل پر اکٹھے ہی انٹرویو دینے گئے تھے سلیکشن اس درویش کی بھی ہوگئی لیکن اچانک ایک حکومتی پالیسی آئی اور وہ سیٹ ایک معذور(نابینا) نوجوان کو دے دی گئی جس پر راو تسنیم نے یہ ظالمانہ جملہ کہا ” یار تیں بھی ان سسروں کو اپنی یہ موٹی عینک اتار کر دکھا دیتا۔۔۔!”
انہی دنوں خان رضوانی مرحوم (جو ملتان میں ر وزنامہ جنگ کراچی کے بیورو چیف تھے کیا وضعدار انسان تھے اتنا دھیماپن اور نرم گفتاری میں نے کم ہی کسی صحافیوں میں دیکھی ہے) نے میری رہنمائی کی اور مجھے لاہور ایک قومی سطح پر شائع ہونے والے اخبار میں سب ایڈیٹر کا ٹیسٹ دینے کی ہدایت کی مقررہ تاریخ کو وہاں جاکر ٹسٹ دیا اور پھر کچھ دنوں بعد میری مختصر لیکن باقاعدہ صحافتی کا آغاز ہوا،جس کا اختتام خوشگوار نہیں تھا چند ہی ماہ بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن سے منتخب ہو کر پہلے گورنمنٹ کمشل انسٹیٹیوٹ چکوال اور پھر گورنمنٹ کالج کہروڑ پکا میں بطور لیکچرر تعیناتی ہوئی اور ایک لمبی تدریسی زندگی کا آغاز ہوا
پنجاب پبلک سروس کمیشن لاہور میں لیکچرر کا انٹرویو دینے بھی فاروق اور میں اکٹھے ہی گئے ہم دونوں کے نام کے ساتھ سید کا سابقہ لگا تھا اسلئے ہم انٹر ویو کے شاید آخری روز گئے اور میرا نمبر بالکل آخری تھا ہم دونوں کے انٹرویو بہت اچھے ہوئے بعد میں میرٹ آیا تو فاروق کا پہلا اور میرا دوسرا نمبر تھا۔ فاروق کا تقرر رحیم یار خان ہی میں ہو گیا (1980)جہاں وہ پہلے ہی کام کررہا تھا اور میں کہروڑ پکا پہنچ گیا اب رابطہ خط وکتابت کے ذریعے رہ گیا کچھ عرصے میں میرا تبادلہ گورنمنٹ علمدار حسین اسلامیہ کالج ملتان ہو گیا اب فاروق جب بھی ملتان آتا اس سے ملاقات ہوتی .
معقول ملازمت ملنے کے بعد متوسط طبقے کے نوجوانوں کا اگلا بڑا مسئلہ شادی ہوا کرتا ہے ہم تو ابھی بے ہدف لوگ تھے لیکن فاروق مشہدی نے تو منزل کا تعین پہلے ہی کرلیا تھا اس لئے اس سے توقع تھی کہ جلدی گھوڑی چڑھے گا اسی عرصے میں بالآخر اس کے بیرون ملک سکالرشپ کا معاملہ بھی طے ہو چکا تھا ، وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ شادی انگلینڈ سے واپسی پر کرے اس پر ہم اسے چھیڑتے "شاہ جی تمہارا کوئی اعتبار نہیں کوئی پتہ نہیں کسی میم پر پھسل جاو!”
فاروق دھیمی سی ہنسی ہنس کر ان واہموں کی تردید کرتا۔۔۔ اسی دوران میں ایک بار وہ ملتان آیا تو رات کو میرے ہاں ہی ٹھہرا اس سے اس سلسلے میں تفصیل سے بات ہوتی رہی وہ عجیب سے تذبذب میں تھا میں نے کہا "شاہ جی وہ کرو جو تمہارا اپنا دل چاہتا ہے ۔۔ زیادہ سے زیادہ رضوانہ گیلانی سے بات کر لو وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔ ویسے جو تمہارے مسائل ہیں تم وہاں تنہا رہ نہیں سکوگے وہ تم نے نظامی کا نظر نامہ تو پڑھا ہی ہے جس کے مطابق لندن کی شام بڑی ظالم اور اداس کن ہوتی ہے۔۔۔ تم تو رل ہی جاو گے! ”
"بخاری صاحب۔۔۔ میں لندن نہیں بریڈ فورڈ جارہا ہوں ۔۔۔ وہاں شاید موسم بھی تھوڑا مختلف ہوتا ہے اور پاکستانی کمیونٹی بھی کافی تعداد میں ہے ” اس کا لہجہ کچھ طنزیہ سا تھا میں نے اسکی یہ بات نظرانداز کرتے ہوئے کہا "شاہ جی وہاں بچے ہوئے تو انہیں مفت میں وہاں کی شہریت مل سکتی ہے ۔۔۔”
اس ملاقات میں وہ اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کرپایا لیکن اس کے چند ہی روز بعد اس نے اطلاع دی کہ اس کے والدین رشتے کی بات کرنے جارہے ہیں بہر حال انگلینڈ جانے سے پہلے ہی اس کی شادی ہو گئی وہاں جا کر کچھ عرصہ بعد اس نے رضوانہ بھابی کو بھی اپنے پاس بلا لیا بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ اس کا یہ فیصلہ صحیح تھا۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

احمد فاروق مشہدی زکریا یونیورسٹی
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleزاہدہ حناکا کالم:گھروں میں جنگ بندی
Next Article امریکی انخلاء کے بعدافغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ۔۔ مزید 13 اضلاع پرطالبان کا قبضہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی اور نصف صدی کا قصہ : خالد محمود رسول کا کالم

اکتوبر 22, 2025

ڈاکٹر احسان قادر اور ڈاکٹر شازیہ میں ہاتھا پائی : فرانزک رپورٹ میں زیادتی ثابت

اکتوبر 8, 2025

زکریا یونیورسٹی : اسسٹنٹ پروفیسر کے ساتھ ہیڈ آف ڈیمارٹمنٹ کا مبینہ ریپ : تحقیقات شروع

ستمبر 30, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم جون 4, 2026
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم جون 3, 2026
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک جون 3, 2026
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار جون 3, 2026
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی جون 1, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.