اسلام آباد 🙁 گردو پیش نیوز ) نام ور ادیب ، محقق ، سوانح نگار احمد سلیم طویل علالت کے بعد دس دسمبر کی شب انتقال کر گئے ۔ان کی شاگرد ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے ۔ احمد سلیم نے سید قسور گردیزی کی سوانح حیات پر ابتدائی کام کیا تھا جس کے بعد وہ علیل ہو گئے ۔
نام ور محقق اور ماہر تعلیم ڈاکٹر انوار احمد نے احمد سلیم کی آپ بیتی ” میری دھرتی میرے لوگ “ کے بارے میں لکھا کہ
”بہت سے لوگوں کی آپ بیتیاں پڑھی ہیں مگر احمد سلیم کی آپ بیتی کئی اعتبار سے منفرد ہے ۔احمد سلیم نے لکھا ہے اپنے ماں باپ سے میں نے محبت اور محنت سیکھی ۔اس کتاب میں استاد دامن، فیض احمد فیض ، شیخ ایاز، انور سجاد ، مسعود کھدر پوش ، سارا شگفتہ ، منو بھائی کے بارے میں بعض وہ باتیں ہیں جو پہلے کبھی نہیں پڑھیں۔
احمد سلیم ایک طرح سے ہمارے فکری قائد بھی ہیں مگر وہ نیشنل عوامی پارٹی سے وابستگی کے سبب بھٹو پر بھی تنقید کرتے ہیں جو ہمیں بھٹو کی پھانسی کے بعد اس سے جذباتی لگاو کے سبب اس کے کھروں یا مسعود محمودوں کی حرکات کو نظر انداز کراتی ہیں مگر تاریخ تو تاریخ ہے ۔احمد سلیم قدامت پسندی اور مذہبیت کے مخالف ہیں مگر استاد دامن جب سلاد پر وہسکی چھڑکتے ہیں تو بھوکے ہونے کے باوجود کھانے میں شریک نہیں ہوتے ۔
زاہد حسین گردیزی نے ان کے انتقال پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ احمد سلیم نے خاندانی فائلوں ،سیاسی فائلوں اور عدالتی فائلوں کے پلندے سے مواد کا انتخاب کیا اور ابتدائی مسودہ تیار کیا جسے اب رضی الدین رضی کتابی صورت میں تیار کر رہے ہیں ۔
سید قسور حسین گردیزی کے صاحب زادے سید زاہد حسین گردیزی اپنے منفرد والد کی سوانح عمری کے لئے ہر دو ہفتے کے بعد خاندانی فائلوں سیاسی فائلوں اور عدالتی فائلوں کے پلندے لاتے ہیں اس میں اس مواد کا انتخاب کیا جاتا ہے جسے احمد سلیم کے ابتدائی مسودے کو رضی الدین رضی کتابی صورت میں تیار کر رہے ہیں ۔
فیس بک کمینٹ

