بلوچستان کے مقبول سیاسی رہنما نواب اکبر بگٹی کی 18ویں برسی کے موقع پر کیے گئے حملوں میں پچاس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان میں موسی خیل میں بسوں ٹرکوں کو روک کر پہچان کے بعد قتل کیے گئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 22 افراد بھی شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 21 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے تاہم ان کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے14 افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
یہ حملے گزشتہ رات کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے کیے۔ تنظیم نے ان حملوں کو’آپریشن ہیروف‘ کا نام دیا ہے۔ پنجاب سے بلوچستان جانے والی شاہراہ پر عسکریت پسندوں نے مورچے لگا کر ٹرکوں اور بسوں کو روکا اور مسافروں کی شناخت کرکے افراد کو قتل کیا گیا۔ اس کارروائی میں مارے جانے والے سب افراد کا تعلق پنجاب سے تھا۔ تاہم اس دوران پورے بلوچستان میں متعدد تھانوں اور لیویز کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا جن میں درجن بھر سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے۔ یہ حملے اچانک اور تیزی سے کیے گئے ۔ بادی النظر میں حملہ آور اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور انہیں حملوں کے دوران میں کوئی نقصان نہیں ہؤا لیکن تھانوں ، چوکیوں ، ریلوے لائن اور کراچی جانے والی شاہراہ پر حملوں کی وجہ سے بلوچستان کے ساتھ ریل کی آمد ورفت کے علاوہ زمینی راستہ بھی جزوی طور سے بند رہا۔
بعد میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں اکیس عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس میں 14 فوج و پولیس سے تعلق رکھنے والے اہلکار بھی جاں بحق ہوئے۔ اس کارروائی کے بارے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ’سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور حالات پر قابو پالیا۔ تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا کام مکمل کیا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پورے عزم وحوصلہ کے ساتھ بلوچستان میں امن و خوشحالی کے سفر کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
صدر آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس افسوسناک صورت حال پر گھڑے گھڑائے بیانات دے کر اور قومی عزم دہرانے کے فرسودہ دعوے کرکے اپنی قومی ذمہ داری پوری کی ۔ بیانات میں عسکریت پسندوں کے عزائم کو مسترد کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔ البتہ پاکستان میں ایسے بیانات گزشتہ کئی دہائیوں سے سننے میں آرہے ہیں اور کبھی ان پر عمل درآمد ہوتے نہیں دیکھا گیا۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ حملے منظم طریقے سے کیے گئے تھے اور ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس منصوبہ بندی کی کوئی بھنک نہیں پڑی۔ اس ناکامی پر حکومت اور متعلقہ حکام کو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے خود اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے عوام کو جواب دینا چاہئے کہ کیا وجہ کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنے میں مسلسل ناکام ہیں۔ یہ بھی نوٹ کرنا چاہئے کہ یہ حملے زیادہ تر تھانوں اور سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر کیے گئے اور کسی مرحلے پر حملہ آوروں کو روکا نہیں جاسکا جس کی وجہ سے انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ بعد میں کی گئی کارروائی میں مزید 35 افراد جان سے گئے۔
وزیر اعلیٰ سرفراز احمد بگٹی نے آج رات حملوں کئے تناظر میں کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بلوچوں نے پنجابیوں کو نہیں مارا بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو مارا ہے۔ دہشت گردوں کی کوئی قومیت اور کوئی قبیلہ نہیں ہوتا۔ یہ بزدالانہ حملے ہیں اور ان سے ہمارا عزم متزلزل نہیں ہوگا۔ ہم اپنے شہدا کا انتقام لیں گے اور دہشت گردوں کو انہی کی زبان میں جواب دیں گے‘۔
دوسری طرف وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’ان حملوں کی شفاف تحقیقات قوم کے سامنے پیش کی جائیں گی‘۔ حالانکہ انہیں پہلے وفاقی اداروں کی ناکامی اور منظم حملوں کے بارے میں قبل از وقت معلومات حاصل کرکے ان کی روک تھام نہ کرنے پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے تھی۔ بعد میں لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں سے دہشت گردوں کے طور پر ہی نمٹا جائےگا۔ انہیں ناراض بلوچ عناصر کا نام نہیں دیاجائے گا۔ ہمیں خبر ہے کہ یہ کام کن عناصر کی منصوبہ بندی سے ہؤا ہے۔ ایک ہی دن میں متعدد حملے منظم کرنے کا مطلب ہے کہ ان حملوں کی بہت پہلے سے سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ انہوں نے بلوچستان کے وزیراعلی سرفراز بگٹی کے اس بیان کی تائید کی کہ ہلاکت خیزی میں ملوث عناصر بلوچ نہیں بلکہ یہ دہشتگرد ہیں اور ان سے ان ہی کی زبان میں بات ہوگی۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے سیاسی عناصر کے ساتھ بات چیت کا ایک ایکشن پلان ترتیب دیا ہے۔ ہم ضرور ناراض عناصر سے بات کریں گے لیکن حملے کرنے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔
یہ بیانات حکومت کی ناکامی کے علاوہ بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس وقت پاکستان کو امن قائم رکھنے اور اپنے عوام کو احساس تحفظ دینے کے علاوہ عالمی اداروں اور دوست ممالک کو اعتبار دلانے کی ضرورت ہے کہ حالات حکومت وقت کے قابو میں ہیں ، ملک سے تجارت کرنے یا یہاں سرمایہ کاری کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ آج بلوچستان میں یکے بعد دیگرے متعدد کامیاب حملے کیے گئے اور درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی صوبہ میں چین کے تعاون سے متعدد معاشی منصوبے مکمل کرنے کا خواب دیکھا جارہا ہے ۔ یا صوبے کے کثیر معدنی ذخائر کا پتہ لگانے کے لیے دوست ممالک کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن حکومت امن تو کجا یہ تک بتانے میں ناکام ہے کہ بلوچستان میں پھیلی ہوئی بے چینی دور کرنے کے لیے اس کے پاس کون سا سیاسی یا معاشی منصوبہ ہے۔ کسی جگہ پر بھی عوام کی بے چینی بنیادی طور پر معاشی محرومیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے لیکن حکومت اس پہلو پر توجہ دینے اور مسئلہ حل کرنے کا عزم کرنے کی بجائے، انتقام لینے اور ہتھیاروں کی زبان میں بات کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔
بلوچستان میں سامنے آنے والی صورت حال قومی المیہ کی حیثیت رکھتی ہے لیکن مرکزی حکومت کے کسی ذمہ دار شخص کو کوئٹہ جاکر حالات کو سمجھنے اور صورت حال کی سنگینی کا جائزہ لینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اس قسم کے قومی سانحات پر سربراہان حکومت غیر ملکی اہم دورے منسوخ کرکے متاثرہ لوگوں تک پہنچتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا وزیر اعظم اور وزیر داخلہ محض بیان جاری کرنے اور لاہور میں بیٹھ کر پریس کانفرنس سے کام چلانے پر یقین رکھتا ہے۔ اس رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے اہم عہدوں پر قابض یہ لوگ ایک صوبے میں پائی جانے والی بے چینی یا دہشت گردی کے سبب پیدا ہونے والی تشویش کی تہ تک پہنچنے اور اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وزیر اعظم یا دیگر اہم وزیر اگر اس موقع پر کوئٹہ جاتے تو اس سے کم از کم بلوچستان کے عوام کو یہ تاثر دیاجاسکتا تھا کہ حکومت ان کے دکھ درد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ لیکن اسلام آباد میں بیٹھی حکومت کے عہدیدار لاہور سے بیان جاری کرکے یہ واضح کررہے ہیں کہ انہیں حالات کی سنگینی ہی نہیں حساسیت کا بھی احساس نہیں ہے۔ اسلام آباد کی حکومت اگر بلوچ عوام کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی اور اپنے آرام دہ گھروں یا دفاتر سے بیان جاری کرنا ہی کافی سمجھتی ہے تو کسی کے لیے بھی یہ جاننا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ چھوٹے صوبوں میں کیوں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ صوبوں کے عوام کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کرنے میں اگر عسکریت پسند عناصر یا انتہا پسند سیاسی نظریات کا عمل دخل ہے تو وفاقی حکومت اور کوئٹہ میں گٹھ جوڑ سے بنائی گئی کٹھ پتلی حکومتوں کو بھی اس بداعتمادی پیدا کرنے کی پوری ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
آئی ایس پی آر کے علاوہ وزیر داخلہ اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان کیا ہے لیکن قومی تعمیر کے لیے کی جانے والی سیاست میں اس قسم کے رویہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اگر لوگوں کو ہلاک کرنے اور دہشت و سراسیمگی کا ماحول پیدا کرنے سے مسئلہ حل ہوسکتا تو بلوچستان میں اب تک کبھی کا امن قائم ہوچکا ہوتا۔ ماضی میں بھی ایسے کسی بھی مشکل مرحلہ پر وقتی بیان بازی کے بعد کوئی ٹھوس اقدام کرنے اور مسائل کا حقیقی معنوں میں جائزہ لے کر اقدام کرنے کی کوشش نہیں گئی۔ اب بھی یہی رویہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیر داخلہ اب سیاسی ڈائیلاگ کی بات کررہے ہیں۔ محسن نقوی نے اس مقصد کے لیے ایکشن پلان کا حوالہ دیا ہے ۔ ان سے پوچھنا چاہئے کہ اس ایکشن پلان کا اعلان کرنے کے لیے انہیں درجنوں بے گناہ لوگوں کی جان جانے کا انتظار تھا؟ جب صوبے میں بے چینی ایک مستقل عنصر کی حیثیت رکھتی ہے تو سیاسی مذاکرات اور ناراض عناصر کو منانے کا اعلان یا عملی کام اس سے پہلے کیوں شروع نہیں ہوسکا؟
بلوچستان کے عوام اس وقت دو اہم مسائل سے پریشان اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ ایک لاپتہ افراد کا معاملہ ہے جو کسی طور سے اپنے انجام کو نہیں پہنچتا۔ یہ غم بلوچستان کے گھر گھر کا المیہ بن چکا ہے کہ خاندان کے کسی فرد کو اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں گیا۔ بعض صورتوں میں تشدد شدہ لاشیں ضرور ملتی ہیں لیکن اچانک اٹھالیے گئے لوگوں کے اہل خاندان کے اس مطالبے پر کان نہیں دھرے جاتے کہ اگر ان کے عزیزوں سے کوئی قانون شکنی ہوئی ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ یہ ایک جائز اور آئینی مطالبہ ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی حکومتیں اس معاملے میں اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے بھی شرمساری محسوس نہیں کرتیں اور پاک فوج کی قیادت شرپسندوں اور عسکریت پسندوں پر الزامات کا بوجھ ڈال کر اس غیر قانونی طریقہ کار کے بارے میں کوئی قابل قبول اور انسانی حل تلاش کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ اس سنگدلی اور کٹھور پن کی وجہ سے گھر گھر پیدا ہونے والی بے چینی ایک بڑی تشویش میں تبدیل ہورہی ہے۔ اگر علیحدگی پسند عناصر اس بے چینی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اسے پیدا کرنے کی ذمہ داری نااہل اور کمزور سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کی پراسرار خاموشی پر بھی عائد ہوتی ہے۔
بلوچستان کا دوسرا مسئلہ صوبے کے وسائل میں مقامی آبادی کے حصے کا تعین ہے۔ یہ ایک جائز، قانونی اور سیاسی طور سے درست مطالبہ ہے۔ لیکن اس بارے میں بھی ابھی تک کسی سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ حالانکہ اگر حکومت بلوچ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کا کوئی سیاسی منصوبہ بنا رہی ہے تو مقامی وسائل میں بلوچ عوام کے حصے کا ایجنڈا پہلے نمبر پر ہونا چاہئے۔ جب تک یہ اہم مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس وقت تک بلوچستان میں سہولتوں کے فقدان اور محرومیوں کا ازالہ کرنے کی شکائیتوں کو دور نہیں کیا جاسکے گا۔
حملوں کے بعد فوجی کارروائی اور پرجوش بیانات سے تو یوں لگتا ہے کہ حکومت بلوچستان میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے ان شعلوں کو تیز کرنا چاہتی ہے۔ حالانکہ اس وقت نعرے بازی کرنے اور اشتعال دلانے کی بجائے جذبات ٹھنڈے کرنے اور مسائل حل کرنے کی معنی خیز اور قابل قبول کوششوں کی ضرورت ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

