ڈاکٹر علمدار حسین بخاریکالملکھاری

محمود ناصر پر ایک مضمون لکھنے کی خواہش (اور اسکا ایک ادھورا ساخاکہ)

محمود ناصر ملک سے اس دور کا دوستانہ ہے جب وہ نشتر میڈیکل کالج ملتان میں طالب علم تھا یعنی چالیس برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔۔۔ ملتان یونیورسٹی۔۔۔اردو اکیڈمی مختلف ادبی محفلوں کے منظر اور چائے خانے ریستوراں وغیرہ ۔۔۔۔ نشستیں گفتگوئیں ۔۔۔ ناصر کی شاعری۔۔ ضیاع الحق کے مارشلا کی تاریکیوں میں ہم روشنی کی کرنیں نہ ملنے پر جھنجلاہٹ اور غصے سے بھرے رہتے ۔۔۔
سارے سیاسی و سماجی ماحول کی یک گونہ بےحسی اور خود اپنی بےبسی محسوس کرکے اور زیادہ تلملانے باتیں۔۔ تلخ باتیں ۔۔۔ تلخ تر باتیں ۔۔۔شعر میں کوئی ںھی بالواسطہ سیاسی و سماجی طنزیہ کمنٹ ہوتا تو خوب داد ملتی عرش صدیقی ارشد ملتانی عابد عمیق فیاض تحسین ممتاز اطہر محمد امین غلام حسین ساجد اظہر علی سلیم خلجی علی اطہر شوکت مصدق اقبال (جسے اب مرحوم لکھتے ہوئے کتنا دل دکھتا ہے)اور کئی دیگر دوستوں کی نظموں اور غزلوں میں سیاسی جبر اور تہذیبی ومذہبی جنوں خیزیوں کے خلاف مزاحمت کے اشارے ہمارے حوصلوں کو زندگی رکھنے کے دلاسے بنتے ۔
ایسے میں محمود ناصر محض محبت کی پرجمال شاعری ہی کیے جارہا تھا ۔ ہمیں غصہ بھی بہت آتا لیکن اس کی موہنی سی شخصیت اور دلپذیر مسکراہٹ ہر کسی کے غصے پر پانی ڈال دیتی تھی اس کا موقف تھا کہ نفرت کی چلتی آندھی میں محبت کا دیا روشن رکھنا ہی کافی ہے۔۔۔ وہ شاذ ہی کسی سیاسی گفتار میں شریک ہوتا ۔۔۔ عموماً بس چپکا بیٹا سنتا رہتا لیکن اس کی موجودگی محسوس ہوتی تھی نہ جانے کیوں وہ اپنی خاموشی کے باوجود پورے منظر نامے کا لازمی حصہ محسوس ہوتا تھا ۔۔۔ باتوں میں بات جب تخصیص سے عمومیت کی طرف آتی تو اس کی زبان کافکا کچھ کھل جاتا تھا۔۔۔ انسانی ذات اس کی پیچیدگی و پنہائی اور انسان مقدر پر گفتگو میں البتہ اس کی باتیں بھر پور اور فکر انگیز ہوتیں ۔۔۔ خیر اس دور کی بہت سی یادیں ہیں۔۔ کہ یہ ایک عہد جنوں تھا۔
ملتان میں محمود ناصرفارغ التحصیل علم ہوکر نشتر ہسپتال میں بھی کئی برس رہا پھر وہ بیرون ملک مزید تعلیم کے لئے چلا گیا جہاں سے واپس آکر اس نے اپنی مسیحائی کا مرکز تخت۔لاہور کو بنالیا جس سی ملاقاتیں وقفوں کی زد میں آگئیں ۔۔۔لیکن یہ الگ قصہ ہے ۔۔۔
ناصر کی کتاب ۔۔ دھوپ ہے میرے دل کا موسم ۔۔ ملتان سے ہی شائع ہوئی تھی اس کی کتابت ۔ٹائٹل طباعت ہر مرحلہ جس شوق سے طے ہوا آج بھی سب یاد ہے ذرا ذرا۔۔۔ نئے مجموعہ بادل جھکتے،پانی ہر ۔۔۔ میں اس پہلے مجموعے کا بیشتر کلام شامل ہے اور پتہ یہ چلتا ہے اس طویل وقفہ ءزماں میں اس نے بہت کم شاعری کی۔ مسیحائی کے شغل نے دلکش اسلوب اظہار کے ایک شاعر کو ہم سے دور کئے رکھا جس کا شکوہ میں ہر ملاقات میں اس سے کرتا رہا ۔۔ شاید اس دورانیے میں ناصر سے ملاقاتوں میں لمبے وقفوں کا باعث اس کی مسیحانہ مصروفیات کے علاوہ یہ بھی تھا کہ اس کے پاس سنانے کو کچھ نیا ہوتا نہیں تھا اور اللہ نےبیماریوں سے کم وبیش محفوظ رکھا ۔۔۔ احباب کو میں اس کے پاس ضرور بھیجتا یا کبھی کبھی خود لے کر جاتا رہا اور لاہور کے نامور فزیشن اور ماہر امراض قلب ڈاکٹر محمود ناصر ملک نے ہمیشہ خصوصی توجہ دی ۔۔۔ یہ بھی ایک کہانی ہے۔
محمود ناصر کا دوسرا شعری مجموعہ مجھے ملا تو میرا اس سے مزید شعر تخلیق کرنے کا اصرار بھی بڑھ گیا ۔۔ اس کا تقاضا اس پر کچھ لکھنے کا تھا جو مجھ سے ہرا نہیں ہو پایا۔۔۔ لیکن میرا ناصر کےلئے ایک زور زبردستی کا مشورہ معاشرتی مواد و موضوعات کو (جن میں سیاست بھی شامل ہے ) ان کا جائز حق دینے کا رہا کرتا ہے جن پر اس نے لگتا یہ ہے کہ اب تھوڑی بہت توجہ دینا شروع کردی ہے جس پر میں نہال ہوں ۔
ناصر سے پرسوں(2ستمبر 2020)لاہور ازمیر کالونی میں اس کے گھر میں ایک تشنہ سی ملاقات ہوئی میری بیگم نصرت بھی میرے ہمراہ تھیں سو ایک تکلف مزید آڑے آیا میں پپچھلے دنوں فیس بک پر اس کی شاعری کا ایک نیا اور حسب دلخواہ انداز دیکھ رہا تھا اس لئے میں نے اس سے کہا:(اور فیس:بک پر اس کے ایک نئے شعر پر رائے دیتے ہوئے بھی لکھا کہ) ناصر! تمہاری شاعری کے نئے رنگ پہت پر کشش ہیں کیوں کہ ان میں اثبات ذات اور معاشرتی منظر کے نقش زیادہ نکھر کر سامنے آرہے ہیں اس نئی تخلیقی جست سے(میں اسے تمہاری شاعری کی نئی تخلیقی جست ہی کہوں گا)شاعری میں جمالیاتی seclusion کا تاثر ختم ہوتا ہے اور معنی آفرینی کےکئی نئے رخ سامنے آتے ہیں لیکن یہ statemental انداز سے بہت دور کی چیزہے جس سے تمہیں چڑ رہی ہے… میرے ان جملوں سے تم اپنی شاعری کی اس جہت کو کچھ اور کھوجنے پر آمادہ ہوسکو تو مجھے تو مسرت ہوگی ہی تمہارے دیگرمداح بھی شاعری کی کئی نئی لذتوں سے آشناہوں گے… ۔۔۔اسی حوالے سے چند باتیں کل لاہور میں تمہارے شاندار گھر میں بھی ہوئی تھیں جو خود ایک مرصع نظم سے کم نہیں ہے
محمود ناصر کی شاعری میں محبت کے جذبوں سے مہکتی لطیف فضا اس کی لفظی تمثال آفرینی سے اور زیادہ دلکش ہو جاتی ہے میں غالب کے طرف داروں میں سے ہو اور اس کے لیے کا قائل ہوں وہ جو اس نے کہاتھا کہ
ہر چند ہو مشاہدہءحق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
بادہ و ساغر کا ذکر اور اس کی تصویریں حق کے اظہار کےلئے ضروری ہیں لیکن ہمارا اپنا اپنا حق اور سچ ہوتا ہے محبت اور حسن حق سہی لیکن
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوااسی بات کا سارا جھگڑا ہے جس پر اپنا اپنا موقف اپنی اپنی بات ۔۔۔ میری خواہش ہے کہ محمود ناصر کی شخصیت اور شاعری پر ایک تفصیلی مضمون لکھوں اس سے مل کر یادوں کو زندگی کروں اس کے شعری تلازمات اور ان کے پس منظر کی کھوج لگاؤں اس کی امیجری و تصویر کاری کی لطافتوں کو دیکھوں اور دکھاوں لیکن اس کیلئے ناصر کو کچھ فرصت اسے جسم انساں کی مسیحائی سے ملے اور مجھے خوداپنی بے پایاں کاہلی ( اور اب تو کہولت سے بھی) کے مشاغل سے کچھ نجات ملے تو
مل بیٹھیں گے دیوانے دو
۔۔۔ اس کا تو پتہ ہے کہ دنیا بر امید قائم۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker