قبل ازیں یہ اطلاعات گردش کررہی تھیں کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کی زیر قیادت جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے 40 سے زائد منحرف اراکین نئی سیاسی جماعت بنانے یا پیپلزپارٹی میں شمولیت جیسے آپشنز پر غور کررہے ہیں۔پی ٹی آئی کے ایک اور سابق رہنما چودھری سرور بھی ہیں جو پی ٹی آئی کے دور حکومت میں گورنر پنجاب رہ چکے ہیں، ان کے تعلقات مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی دونوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور یہ بھی اپنا مستقبل پیپلز پارٹی یا ترین گروپ میں سے کسی ایک کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے ان کی اِس ’قربانی‘ کے عوض انہیں گزشتہ سال جولائی میں ضمنی انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا تھا، تاہم ان میں سے تقریباً تمام امیدواروں کو پی ٹی آئی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے برطرفی کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔اسی طرح ترین گروپ میں شامل پی ٹی آئی کے کچھ منحرف اراکین قومی اسمبلی نے مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحاد سے ہاتھ ملا لیا تھا، موجودہ اپوزیشن لیڈر راجا ریاض ان ہی میں سے ایک ہیں، خیال کیا جارہا ہے کہ وہ بھی اپنے سیاسی مستقبل کے لیے آپشنز تلاش کر رہے ہیں۔یہ اقدام پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے مستقبل کے بارے میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی جانب سے حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کی رائے کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے۔انہوں نے جولائی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپنی شکست کا ذمہ دار پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ٹھہرایا تھا اور واضح کیا تھا کیا کہ اگلے عام انتخابات میں ان لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا، مسلم لیگ (ن) حلقوں کے کارکنوں کی خواہشات کی بنیاد پر امیدواروں کو ترجیح دے گی۔
بشکریہ ڈان نیوز

