جسٹس ثاقب نثار اپنی تمام تر آب و تاب کے ساتھ ریٹائر ہوگئے، اللہ نے قوم پر رحم کیا کہ ہمیں ایک عظیم الشان منصف سے محروم کر دیا، امید ہے کہ آج رات سے میڈیا حضرت کی ہجو کہنی شروع کردے گا، یہ آرٹیکل جو میں آج لکھ رہا ہوں کئی دن پہلے لکھنا چاہتا تھا لیکن جب میں نے نہال ہاشمی، طلال چودھری، دانیال عزیز، فیصل رضا عابدی جیسوں کا حشر دیکھا تو ساری انقلابی سوچیں خود بہ خود موخر ہوگئیں کہ میں کیا اور میری اوقات کیا، اسُ دن ماتم کیا جس دن حسین نقی جیسے شخص کو معافی مانگتے ہوئے دیکھا، آج تک اس آدمی ثاقب نثار کا جملہ میرے دماغ میں گھومتا ہے اور جسم غصے کی شدت سے کانپنے لگتا ہے کہ "یہ حسین نقی کون ہے” جس دن یہ واقعہ ہوا تھا اسُ دن میں نے فیس بک پر سٹیٹس دیا تھا کہ ” حسین نقی صاحب کے بارے میں کی جانے والی بکواس نے اچھے بھلے لوگوں کو خادم رضوی بننے پر مجبور کردیا ہے” آپ یقین کریں کہ جو لوگ حسین نقی کے قد سے واقف ہیں اور جو لوگ اس کام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ جو انہوں نے زندگی بھر کیا ہے وہ اس جملے سے کتنے آزردہ ہوئے ہیں اس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے کہ جس کی زندگی میں سیریس کام کی کوئی اہمیت ہو،
آج میں کہنا چاہتا ہوں کہ ثاقب نثار تمھارے جیسے کئی ہزار جج حسین نقی کی جوتی کے برابر بھی نہیں ہیں، تم جیسے نوٹنکی اس ملک کے لوگوں نے کئی بار دیکھے ہیں اور جس نجاست پر ہمارے اداروں کی بنیادیں اٹھائی گئیں ہیں تم جیسے بونے ہم آگے بھی کئی بار دیکھیں گے، جب یہ آدمی چیف جسٹس بن رہا تھا تو اسکے بارے میں افواہ اڑی تھی کہ یہ نواز شریف کا دوست ہے عمران خان چیخ چیخ کر اسکے خلاف باتیں کیا کرتا تھا فیک تصاویر ہر روز سوشل میڈیا پر گردش کیا کرتیں تھیں لیکن قوم کے وسیع تر مفاد میں چیف جسٹس نے جو کیا وہ اپکے سامنے ہے.
آئیے ذرا ان کیسز پر نظر ڈالتے ہیں کہ جن کا بہت شور و غوغا سنا گیا چیف صاحب ریٹائر ہوگئے لیکن نتائج ہمارے سامنے ہیں.. عزیر بلوچ کیس نتیجہ صفر، عابد باکسر کیس نتیجہ صفر، ڈاکٹر عاصم کیس نتیجہ صفر، شرجیل میمن کیس نتیجہ صفر، کرنل جوزف کیس نتیجہ صفر، ریمنڈ ڈیوس کیس نتیجہ صفر، مجید رکن بلوچستان اسمبلی پولیس اہلکار قتل کیس نتیجہ صفر، انسپکٹر اعجاز قتل کیس نتیجہ صفر، ایان علی منی لانڈرنگ کیس نتیجہ صفر، بارہ مئی قتلِ عام کیس رزلٹ زیرو، راجہ رینٹل کیس نتیجہ صفر، نیو بینظیر انٹرنیشنل ائرپورٹ کرپشن کیس نتیجہ صفر، رئیسانی کے گھر سے پیسوں کی برآمدگی کا کیس نتیجہ صفر، ایم کیو ایم غداری و را فنڈنگ کیس ثبوت موجود نتیجہ صفر، بابر غوری کیس نتیجہ صفر، کلبھوشن یادو کیس نتیجہ صفر، آسیہ مسیح کیس فیصلہ ہوجانے کے باوجود عملدرآمد نہیں کرایا جا سکا، ارسلان افتخار کیس رزلٹ زیرو، حافظ عبد الکریم کرپشن کیس زرلٹ ندارد، حسین حقانی کیس رزلٹ زیرو اس کے علاوہ نہ جانے کتنے سائلین ہیں جو آج بھی انصاف کے اداروں کے باہر ہر روز صبح صبح جمع ہو جاتے ہیں کہ شاید آج انکی سنی جا سکے..
پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا کیسز کی تعداد ایک اندازے کے مطابق چودہ لاکھ سے زیادہ ہے عجیب عجیب فیصلے سننے کو ملتے ہیں کبھی سنتے ہیں کہ اس شخص کی ضمانت ہوگئی کہ جس کو دو سال پہلے پھانسی دے دی گئی تھی، ایک آدمی نے 1989 میں سترہ ہزار روپے کی ادائیگی کا کیس کسی شخص پر دائر کیا اس کا فیصلہ 2017 میں سنایا گیا جبکہ دونوں فریقین رحلت فرما چکے تھے اور لواحقین کو تیرہ ہزار آٹھ سو روپے کی ادائیگی ہوئی جبکہ دونوں فریقین کے اس کیس پر اس سے کہیں زیادہ پیسے خرچ ہو چکے تھے مشہور بات ہے کہ اس ملک میں کیس دادا دائر کرتا ہے تو پوتا اس کا فیصلہ سنتا ہے..
ہمارے عدالتی نظام کا حال یہ ہے کہ کچہریاں اور جیلیں جرائم کی یونیورسٹیوں میں تبدیلی ہو چکی ہیں لوگ وکیل اس لیے بنتے ہیں کہ وہ جرائم کھل کھلا کر کر سکیں، ججوں نے ٹاؤٹ رکھے ہوئے ہیں کہ جو کیس کے حساب سے سائلین سے جج صاحبان کے behalf پر پیسے وصول کرتے ہیں. جیلوں کی صورت حال یہ ہے کہ وہ جانوروں کے رہنے کے قابل بھی نہیں ہیں چہ جائیکہ وہاں انسان رکھے جائیں.
مجھے پہلی بار کسی جج کو دیکھ اور سن کر کراہیت تب آئی تھی جب میں نے جسٹس نسیم حسن شاہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ بھٹو کیس میں غلطی ہوگئی تھی کوئی اس بالشتیے سے پوچھے کہ ایک ایسا آدمی کہ جو لاکھوں لوگوں کا لیڈر تھا اسکو مار کر تم کہتے ہو غلطی ہو گئی تم پر اللہ کی لعنت ہو،
ہمارے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہر کام کیا ڈیم کی تعمیر کے لیے چندہ مہم شروع کی، آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا، ہسپتالوں پر چھاپے مارے، ججوں کو انکے کمرہِ عدالت میں ذلیل کیا، ڈاکٹروں پر دھندے کرنے کے الزامات لگائے، سیاست دانوں کو کٹہرے میں بلا کر ذلیل و رسوا کیا، موبائل کے کارڈز پر سے ٹیکس ختم کرائے لیکن اگر نہیں کیا تو اپنا کام نہیں کیا کوئی فیصلہ نہ کر سکے آسیہ مسیح کیس کا فیصلہ ہوا لیکن اس کو رہائی نہ دلا سکے مولویوں سے گالیاں الگ کھائیں، ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا لیکن کسی بڑے آدمی کی جائیداد کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے، ملک ریاض جیسوں سے بھیک ہی مانگتے رہ گئے پندرہ سو ارب سے مطالبہ شروع کیا اور نوبت یہاں تک آئی کہ جانے سے کچھ دن پہلے فرمایا کہ پانچ سو ارب دے دیں آپکو کلئیر کر دیتے ہیں لیکن مجال ہے کہ کسی نے پوچھا ہو کہ آپ ہیں کون کسی کو کلئیر کرنے والے آپکا کا کام کیس سننا ہے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے آپ جسٹس ہیں کہ واشنگ مشین کہ جو کسی کو کلئیر کریں گے؟ یہ جملہ کہ اتنے پیسے دے دو بذات خود توہین عدالت ہے یہ ایک جملہ اس آدمی کو خائن ثابت کرنے کے لیے کافی ہے.
ہمارے ہاں یہ ایک عام تاثر ہے کہ حکومتیں عدلیہ اور فوج مل کر بناتی اور گراتی ہیں لیکن اس تاثر کو جو تقویت قبلہ ثاقب نثار نے بخشی وہ کسی کے حصے میں نہیں آئی ملک کا بچہ بچہ الیکشنز سے پہلے یہ مانتا تھا کہ موجودہ عدالتی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کا تہیہ کر لیا ہے HRCP نے الیکشن سے پہلے اس ہونے والے الیکشن کو Dirtiest اور Micro Managed الیکشنز کہا انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ چھوٹی سے چھوٹی تفصیل پہلے سے طے کی جارہی ہے یہاں تک کہ وؤٹس کی تعداد بھی پہلے سے طے شدہ ہے اس پر مہرِ تصدیق عدالتوں نے اس وقت ثبت کی کہ جب سنیچر کی رات گیارہ بجے حنیف عباسی کو ایفیڈین کیس میں سزا سنا کر نااہل کردیا گیا اور باقی کے سات لوگوں کو بری کر دیا گیا پھر کسی جج کی یہ صدا بھی سنائی دی کہ ہدایات یہ تھیں کہ نواز شریف کو دورانِ الیکشن جیل میں رکھنا ہے تاکہ عمران خان کو جتوایا جاسکے..
بجائے اس کے کہ آپ عدلیہ کی بحالی عزت کے لیے اقدامات کرتے آپ کن کاموں پر تل گئے آپ کی اوقات کا اندازہ تو قوم کو تب ہی ہوگیا ہو گا کہ جب آپ نے شرجیل میمن کے کمرے سے خود شراب کی بوتلیں برآمد کیں لیکن ان کو شہد ماننے پر مجبور ہوگئے آپکی اوقات مجھے اس دن شاہ رخ جتوئی کے چہرے پر موجود طنزیہ ہنسی نے بتا دی تھی کہ جب آپ نے اس کے جیل کے کمرے پر چھاپہ مارا تھا
عرصہِ ملازمت اور اقتدار و اختیار کے معاملے ہوتے تو چند سال کے ہیں لیکن یہ آنے والے زمانوں میں آرکائیو بن جاتے ہیں ہمیں یاد ہے کہ کس طرح افتخار محمد چوہدری کو یہاں عدلیہ کا امام بنا کر. پیش کیا گیا تھا اور آج اس آدمی کی اوقات کیا ہے سب کے سامنے ہے ہم اسُ وقت بھی اسکی مخالفت کرتے تھے آج بھی کرتے ہیں میں ثاقب نثار کی مخالفت اس کے دور میں بھی کیا کرتا تھا اور ساری زندگی کرتا رہوں گا کیونکہ اس آدمی نے عدلیہ کے وقار کو اور بھی زیادہ مجروح کر دیا ہے جس ڈھٹائی سے تم اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بنے ہو شاید ہی کوئی بنا ہو قوم کے بانجھ پن کا عالم یہ ہے کہ عمران خان کے یوتھیے یہ کہتے تھے کہ اگر عمران خان اکیلا ہے تو وؤٹ حاضر ہے اور اگر اسکے پیچھے آئی ایس آئی ہے تو جان بھی حاضر ہے یہ جملہ بتاتا ہے کہ یہ ذہنی طور پر بیمار لوگوں کا ایک ہجوم ہے جو فاشسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ جاہل اور غیر سیاسی بھی ہے، میں اور مجھ جیسے لوگ صرف ماتم کر سکتے ہیں ثاقب نثار ہم تم جیسوں کا مقابلہ اس لیے نہیں کر سکتے کیونکہ ہم تم جیسے ضمیر فروش نہیں ہیں یہ صرف تمھارا نہیں بلکہ تمھاری پوری نسل کا المیہ ہے کہ تم لوگ نہ کبھی حق کا ساتھ دو گے نہ ہی کبھی ظالم کی حمایت چھوڑو گے کیونکہ تمہیں جو نصاب پڑھایا گیا ہے وہ فاشسٹ ذہنوں میں ترتیب دیا گیا تھا اور تم جیسے بونے ان تمام گھٹیا باتوں پر یقین رکھتے ہیں.
تمہارے فیصلے، تمہارے جملے، تمھارے آرڈر، تمھاری دی ہوئی سزائیں، تمھاری شروع کی ہوئیں مہمات، تمھاری ہمدردیاں، تمھارا عدل سب فراڈ تھا یہ آج نہیں تو کل پوری قوم جان لے گی جو جاہل یہ سمجھتے ہیں کہ نواز و شہباز شریف جیل میں ہیں تو اللہ ان کی عقلوں پر رحم کرے جس طرح کے کپڑے پہن کر تازہ دم ہوکر شہباز شریف اسمبلی میں تشریف لاتے ہیں کیا کوئی قیدی اس شان و شوکت کا سوچ بھی سکتا ہے یہ بھی تمھارا اور تمھاری بانجھ عدلیہ کا ایک ڈرامہ ہے کہ جس کے ڈائریکٹر و پروڈیوسر وہی ہیں کہ جن کے خلاف بات نہیں کی جا سکتی
آخر میں صرف یہ کہ شاید تم جیسے ججوں کو دیکھ کر ہی یہ کہاوت بنی ہوگی کہ وکیل کیا کرنا جج ہی کر لیتے ہیں….
فیس بک کمینٹ

