2018 انتخاباتاختصارئےعلی نقویلکھاری

جیو ، پی ٹی آئی ، موروثی سیاست کے ساتھ” جیو “۔۔ علی نقوی

کل تک ہم جب بھی اپنے کسی پی ٹی آئی کے دوست کے سامنےکسی دلیل کے دوران غلطی سے بھی جیو ٹی وی کا حوالہ دے دیتے تھے تو ہماری بات جتنی بھی وزنی ہوتی رد کر دی جاتی تھی کیونکہ جیو ٹی وی پی ٹی آئی کے دوستوں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا اور ہم یہ دیکھتے تھے کہ اے آر وائی اور چینل 92 ایسے چینل سمجھے جاتے تھے کہ جو اس لیے قابلِ قبول تھے کہ وہ ن لیگ اور نواز شریف پر شدید تنقید کرتے ہیں ارشد شریف، سمیع ابراہیم، کاشف عباسی ، حبیب اکرم کو ہمارے پی ٹی آئی کے دوست ہر دوسری بات میں کوٹ کیا کرتے تھے لیکن کل کیا دیکھا کہ زلفی بخاری کیس پر اتنا شور جیو ٹی وی نے نہیں مچایا جتنا واویلا اے آر وائی، 92 اور ایکسپریس نیوز نے مچایا ہوا ہے اور لیڈرانِ پی ٹی آئی فیصل جاوید خان، علی محمد خان، فیصل واڈا اور دیگر جو کبھی ان چینلز پر بیٹھ کر دندنایا کرتے تھے اور انہی اینکرز کے ساتھ مل کر ن لیگ کے رہنماؤں کو معتوب ٹھہرایا کرتے تھے بے بس نظر آئے اس بے بسی کی ایک وجہ تو وہ حرکت ہے جو عمران خان سے سرزد ہوئی کہ وہ عمران خان (جو ایک طرف قوم کو ہر وقت یہ بتاتے تھے کہ یورپی ممالک کے سیاسی رہنما کتنی سادہ زندگی گزارتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کرتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کس طرح ایک عام آدمی کے سامنے جواب دہ تھے) نے ہر قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نگران حکومت کو پریشرائز کر کے اپنی ضد پوری کی اور یہ ثابت کیا کہ وہ کسی طور پر نواز شریف سے کم نہیں ہیں، وہ طاقت کا استعمال کرنا جانتے ہیں اور جہاں جہاں ضرورت پڑے گی وہ اس کا استعمال ضرور کریں گے اور کیا مجال ہے کہ کوئی قانون انہیں روک سکے، اس بے بسی کی دوسری وجہ ان لیڈروں کا اپنا مزاج ہے کہ یہ انکی عادت بن چکی ہے کہ عمران خان کی ہر حرکت کا دفاع کرتے ہیں چاہے وہ حرکت دفاع کے قابل بھی نہ ہو ۔ میری ناقص رائے میں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ نقصان اس وجہ سے ہوگا کہ اس میں کوئی آدمی بھی اپنے آپ کو جواب دہ نہیں سمجھتا چاہے وہ عمران خان ہوں کوئی اور رہنما ہو یا کوئی عام سپورٹر۔۔ جو رویہ زلفی بخاری والے معاملے میں پوری پی ٹی آئی نے اپنایا ہوا ہے وہ کسی بھی طور پاکستانی سیاست کے عمومی رویے سے مختلف نہیں ہے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا یہ رویہ جہاں باہمی سیاسی گفتگو کے خاتمے کا باعث بنا ہے وہیں اس رویے نے عمران خان کو بھی رعونت کی اسُ بلندی تک پہنچا دیا ہے کہ جو انکے اپنے لیے شدید نقصان دہ ہے مثال کے طور پر نعیم الحق نے نیشنل ٹی وی چینل پر لائیو شو کے دوران دانیال عزیز پر ہاتھ چھوڑ دیا جو کہ ایک انتہائی گری ہوئی حرکت تھی لیکن ہم نے دیکھا کہ نہ صرف یہ کہ پی ٹی آئی نے اسکی مذمت نہیں کی بلکہ یہ بھی سنا گیا کہ عمران خان نے نعیم الحق کو شاباش دی۔ کچھ یہی حال پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا بھی ہے کہ جو کھلے عام سوشل میڈیا پر نعیم الحق کی تعریفیں کرتے رہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ دانیال عزیز کے ساتھ یہی ہونا چاہیے ۔ اب ذرا جنابِ زلفی بخاری کی بھی سنیے یہ خبر کہ عمران خان نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکلوایا سب سے پہلے ہمارے پیارے رؤف کلاسرا نے بریک کی اور اسکے بعد اس کو ارشد شریف نے پک کیا جب لے دے شروع ہوئی تو زلفی بخاری نے ایک ٹویٹ کیا اور اس میں فرمایا کہ رؤف کلاسرا کو یہ تکلیف ہے کہ انکو عمرہ ٹرپ پر کیوں نہیں لے کر جایا گیا اور ارشد شریف کو یہ دکھ ہے کہ مالدیپ کے ٹرپ میں انکو کیوں نہیں یاد رکھا گیا کیا ۔کوئی بھی باشعور آدمی اس توجیہہ کو مانے یہ مشکل ہے (بشرطیکہ وہ یوتھیا نہ ہو)… جنابِ عمران خان سے ایک گزارش ہے کہ وہ اپنے اور اپنی پارٹی کے اس رویے پر غور کریں ۔خان صاحب آپکی یہ حد سے زیادہ بڑھی ہوئی خود پسندی اور ڈھٹائی آپکو کبھی ایک سیریس لیڈر نہیں بننے دے گی خان صاحب ذرا غور فرمائیے کہ سنجیدہ اور نظریاتی لوگ تیزی کے ساتھ آپ سے متنفر ہورہے ہیں، آپ کو بہت عزت ملی ہے آپ گزشتہ چالیس برسوں سے پاکستانی قوم کے لاڈلے رہے ہیں قوم سے آپ نے جو مانگا قوم نے آپکی آواز پر لبیک کہا آ پ نے شوکت خانم کے لیے چندہ مانگا قوم نے جھولیاں بھر بھر کر پیسے دیے آ پ نے ووٹ مانگا آ پکی نا تجربہ کاری اور بالکل نئی ٹیم کے باوجود اپکو اسی لاکھ ووٹ دیے لیکن آپ نے اس مینڈیٹ کے بدلے کیا دیا کہ آپکی پارلیمنٹ میں حاضری نواز شریف سے بھی کم رہی آپ ہمیں اسی طرح کے کمپرومائزز کرتے ہوئے نظر آئے جو کہ ہماری روایتی پارٹیوں کا خاصہ تھا وہی چہرے وہی لوگ وہی گدی نشین اور وڈیرے ۔ وہی بیٹے بہنوئی وہی موروثی سیاست جس سے لڑنے کے لیے لوگ آپ کے پاس آئے تھے اور جو مخلص لوگ جو آپکے لیے لڑتے رہے جب ان پر آپ نے Electables کو ترجیح دی تو انکے لیے کتنا مشکل ہوگیا میڈیا کے سوالات کا جواب دینا شاید آپکو اسکا اندازہ بھی نہیں ہے… آنے والے انتخابات کی جیت شاید آپ کے لیے ناگزیر ہو لیکن اسکی قیمت آپکی ساکھ نہیں ہونی چاہیئے جو کہ تیزی سے متاثر ہو رہی ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker