کالملکھاری

بوٹیئے کی عقل گٹوں میں کیوں ہوتی ہے ؟ ۔۔ علی نقوی

آج صبح معروف سماجی کارکن اور وکیل جلیلہ حیدر کی گرفتاری کی خبر ملی اطلاعات کے مطابق انہیں لاہور ائیر پورٹ پر اس وقت روک لیا گیا کہ جب وہ ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لئے انگلینڈ جا رہی تھیں ایف آئی اے کے ارکان نے کہا کہ آپ کا نام خفیہ ادارے کی ای سی ایل لسٹ پر ہے اب اطلاع یہ ہے کہ انکو رہا کر دیا گیا ہے جلیلہ حیدر کی بہن عالیہ حیدر اور سماجی کارکن عمار علی جان کے مطابق حساس ادارے کے اہلکاروں کی طرف سے کوئی معقول وجہ نہیں بتائی جا رہی تھی کہ آخر کس وجہ سے انکا نام ای سی ایل پر ڈالا گیا انکو حراست میں لیا گیا اور پھر رہا کر دیا گیا، کسی بھی انٹرنیشنل ٹریولر کو اسطرح کی اذیت سے گزارنا مہذب دنیا میں ایک جرم تصور کیا جاتا لیکن کہاں مہذب دنیا اور کہاں ہم
وطنِ عزیز کا معاملہ یہ ہے کہ اب تو یہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ اربابِ اختیار پر تنقید کی جائے، ان پر ہنسا جائے، غصہ کیا جائے یا انکی دماغی حالت پر تشویش کا اظہار کیا جائے ڈیڑھ سال میں اس حکومت اور اسے لانے والوں نے وہ سب کچھ کر دکھایا ہے جس پر عمران خان تنقید کیا کرتے تھے آٹے کے بحران پر صدر مملکت عارف علوی نے کل رات فرمایا کہ مجھے اس بحران کا پتہ نہیں ہے حالانکہ پتہ ہونا چاہیے….. یہ چھوٹے چھوٹے معاملات تو اپنی جگہ ہیں لیکن وہ معاملات کہ جو کل تک زندگی موت کا مسئلہ تھے ان کی صورتحال زیادہ دلچسپ ہیں مثال کے طور پر جب یہ حکومت آ رہی بلکہ لائی جا رہی تھی تو اس وقت کی چیف جسٹس ثاقب نثار کی تمام تر دلچسپی اور قوت اس بات پر صرف ہو رہی تھی کہ ملک میں اگر ڈیم نہ بنا تو یہاں پر لوگ پانی کی قلت سے مر جائیں گے ایسے لگتا تھا کہ اس ملک میں اس سے اہم کوئی معاملہ ہے ہی نہیں ایک فنڈ قائم ہوا اور اسکے بعد چیف صاحب ریٹائر ہو گئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والی رقم سے وزیراعظم ہاؤس کے یوٹیلیٹی بلز ادا کر دئیے گئے جی ہاں اسی وزیر اعظم ہاؤس کے کہ جو کل تک ایک یونیورسٹی بن رہا تھا۔
2018 کے انتخابات سے قبل جو بیانیہ بنایا اور پھیلایا گیا اس کے مطابق نواز شریف اور آصف زرداری اس ملک کی تمام تر بربادی کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے اور عمران خان بار بار ایک بات کہا کرتے تھے کہ میں ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑوں گا لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف لندن جا چکے ہیں اور زرداری صاحب بھی ضمانت پر باہر ہیں تقریباً ایک ایک سال جیل میں رکھنے کے باوجود حکومت ان دونوں شخصیات پر کوئی ایسا قابلِ ذکر کیس فائل نہیں کر سکی جو ان لوگوں کو کسی سزا تک لے جاتا مریم نواز، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، خورشید شاہ، فریال تالپور تمام لوگ نیب اور باقی ریاستی اداروں کی حراست میں رہے لیکن کسی ایک پر بھی کوئی جرم ثابت نہیں کیا جا سکا اور ان تمام لوگوں پر بنائے جانے والے کیسز کی نوعیت یہ تھی کہ اس ملک کا ہر وہ فرد کہ جس کو تھوڑا سا بھی شعور ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کے کیسز کس طرح بنتے ہیں، رانا ثناء اللہ پر بننے والے کیس نے 2014 میں ماڈل ٹاؤن میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی سوال اٹھا دیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن واقعی اگر رانا ثناء اللہ نے کرایا تھا تو اسکو اس طرح کے بوگس کیس میں پھنسانے کی کوشش کیوں کی گئی؟ جبکہ بقول عمران خان اور طاہر القادری کے رانا صاحب ماڈل ٹاؤن والے واقعات کے مرکزی ملزم ہیں، اب جبکہ عمران خان کی حکومت ہے تو کیوں طاہر القادری اپنے سیاسی کزن عمران خان کی سربراہی میں پاکستان آ کر اس کیس کی پیروی نہیں کرتے؟ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا انصاف کو ایک طرف یہاں تو عالم یہ ہے کہ ساہیوال کا سانحہ ہوئے آج ایک سال ہوگیا ہے اور خلیل کریانے والے کا خاندان اب رو رو کر اس لیے چپ ہو چکا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انکو کسی قسم کا انصاف نہیں ملے گا۔
اب آتے ہیں بوٹ کی سوچ اور بیانیے کی طرف میری ذاتی رائے میں جو بیانیہ نواز شریف اور الطاف حسین 80 ء کی دہائی میں لائے وہ بھی بوٹ کی سوچ اور اس کا بیانیہ تھا کیونکہ اسوقت بوٹ کو بینظیر ملکی سلامتی کے لئے خطرہ لگا کرتی تھیں، اور اب جو بیانیہ عمران خان لائے وہ بھی بوٹ کو سوٹ کرتا ہے آئیے ذرا اس پر بات کرتے ہیں عمران خان کہتے کیا ہیں ؟
وہ کہتے ہیں کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور کرپشن سے انکی صرف ایک مراد ہے مالی کرپشن اور مالی کرپشن سے انکی مراد صرف دو لوگوں یا دو خاندانوں کی مالی کرپشن ہے نہ تو عمران خان کو جھوٹ بولنا، گالیاں و مغلظات بکنا، دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگانا، لوگوں کی کردار کشی یہاں تک کہ ان پر ہاتھ اٹھا دینا، سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانا، نا اہل کی حمایت، اپنے دوستوں کو نوازنا اور اسی قسم کے دیگر کاموں میں سے کوئی کام بھی کرپشن نہیں لگتا (بلکہ یہ وہ تمام کام ہیں کہ جن پر وزیراعظم شاباش دیتے ہیں) اور اس کی وجہ وہی ہے جو 80 ء کی دہائی میں نواز شریف کے سامنے تھی اور وہ ہے بوٹ کے بیانیے اور اسکی سوچ کی حمایت اور اسکی پرورش، اس وقت بوٹ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ صرف سیاست دان کرپٹ ہیں اور سیاست ہی ہے جو مسائل کی وجہ ہے۔
اس وقت اگر آپ غور کریں کو دنیا کی گردن پر غیر سیاسی لوگ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلط کیے گئے ہیں چاہے وہ ٹرمپ ہو، مودی ہو، محمد بن سلمان ہو، عمران خان ہو، طیب اردگان ہو، شی جنگ پنگ یا بورس جانسن ہو یہ تمام وہ لوگ ہیں جن میں کچھ باتیں مشترک ہیں ایک ان میں سے کسی کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے نہ ہی ان میں سے کوئی کسی بڑی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں لیڈر بنا ہے یہ سب طاقتور حلقوں کے نوازے ہوئے لوگ ہیں، یہ سارے ملک کہ جن کے حکمرانوں کے نام لیے گئے ہیں بد ترین درجے کی انتہا پسندی کے دہانے پر کھڑے ہیں بلکہ گوڈے گوڈے اس میں دھنسے ہوئے ہیں، جہاں ایک طرف مودی ہندوستان کو انتہا پسند ہندو ریاست بنانے پر، محمد بن سلمان باقی تمام شہزادوں اور انکے خلاف لکھنے والے صحافیوں اور یمن جیسے ملکوں کو نشانِ عبرت بنانے پر تلے ہیں وہیں عمران خان اور انکی پارٹی پانچ پانچ سو سیاسی مخالفین کو بیک وقت پھانسی دینا چاہتے ہیں، جہاں ایک طرف چین میں اب کوئی اور شخص صدر نہیں بن سکے گا جب تک موجودہ صدر صاحب زندہ ہیں وہیں ہمارے یہاں یہ لوگ کبھی صدارتی نظام لانے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی یہ کہتے ہیں کہ اب اس پرائم منسٹر ہاوس میں اور کوئی نہیں آ پائے گا کیونکہ تحریک انصاف کے علاوہ کوئی اور بچے گا ہی نہیں،
جب میں عمران خان سے یہ سنتا ہوں کہ اس ملک کی ہر خرابی یہاں کے سیاستدانوں کی دین ہے تو مجھے ان کی ذہنی صحت پر اتنا ہی یقین ہوجاتا ہے جتنا مجھے اس ٹرمپ کے پاگل پن پر ہے کہ جب وہ دنیا کی ہر برائی کو ایران کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔
جہاں یہ سب کچھ سیاست کو گالی بنانے کے ایجنڈے کا حصہ ہے وہیں دوسری طرف یہ لوگ لائے بھی اسی لیے گئے ہیں کہ لوگوں کو سیاست اور سیاسی لوگوں سے نفرت کرادی جائے ذرا خود سوچیں کہ کیسے کوئی شخص سیاست اور سیاست دان کو اچھا سمجھ سکتا ہے جبکہ وہ کسی ایسے ملک میں رہ رہا ہو کہ جو ان لوگوں میں سے کوئی ایک چلا رہا ہو کہ جن کے نام میں نے اوپر درج کیے ہیں؟؟
بوٹ کی سوچ یہ کہتی ہے کہ پرویز مشرف کو اگر اس ملک کی کوئی عدالت بھی سزا دے گی تو اس کے خلاف مزاحمت کی جائے گی عدالتی فیصلے کے باوجود ہم پورے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں پرویز مشرف کی حمایتی پوسٹرز اور بینرز لگائیں گے اور ڈنکے کی چوٹ پر لگائیں گے ملتان میں تو کمال یہ ہوا کہ ہائی کورٹ کے آس پاس کے علاقوں میں اس طرح کے بینزر زیادہ تعداد میں آویزاں تھے لیکن کسی ہائی کورٹ، سیشن یا سول کورٹ کے جسٹس یا جج کی نظر ان پر نہ پڑی کہ اس کا نوٹس لے لیتا، کیا اس طرح یہ ادارے تصادم کی طرف نہیں جا رہے؟ جبکہ خان صاحب کے سیاسی ایجنڈے پر سب سے اہم بات اداروں کو باہمی تصادم سے بچانا تھا۔
اسی بوٹیائی سوچ اور بیانیے نے یہ بتایا اور کر کے دکھایا پرویز مشرف ہر عدالت اور ہر عدالتی فیصلے سے بڑا ہے وہ عدالت تو تحلیل ہو سکتی جو پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ دے گی لیکن مشرف کو سزا نہیں ہو سکتی۔
جس عدالت نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تھا اسی نے جہانگیر ترین کو بھی نا اہل کیا تھا لیکن کسی عدالت کی کیا مجال کہ وہ جہانگیر ترین کو کام کرنے سے روک سکے آج بھی یہ نااہل ترین شخص وہ طوطا ہے کہ جس میں حکومت کی جان ہے اور اسکے ہاتھ میں حکومت کا گلا ہے کہ جب چاہے گھونٹ دے وہی جہانگیر ترین جو سپریم کورٹ سے ناہل قرار دیا گیا تھا آج ایم کیو ایم اور باقی اتحادیوں کو مناتا ہے اور حکومت کو گرنے نہیں دیتا لیکن یہ کرپشن تھوڑی ہے۔
وہ فیصل واڈا جو اپوزیشن کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ اپوزیشن کرپٹ ہے کی آج کی خبر یہ ہے کہ انہوں نے الیکشن کے وقت جو کاغذ جمع کرائے اس میں انہوں نے اپنی امریکی شہریت کے حوالے سے جھوٹ بولے تھے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ بھی کرپشن تو نہیں ہے۔
آج کل حریم شاہ اور صندل خٹک کا بہت تذکرہ ہے اس قسم کا کوئی بھی واقعہ سنتا ہوں تو ایک بات یاد آ جاتی ہے راولپنڈی ریڈیو کے آرکائیوز میں ایک واقعہ ہے اور وہ یہ کہ ایک بار میڈم نور جہاں نے راولپنڈی ریڈیو پر تین گانے ریکارڈ کرائے ریکارڈنگ کے ختم ہوتے ہی میڈم سٹیشن مینیجر کے کمرے میں آتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ آغا جی (جنرل یحییٰ خان) سے بات کراؤ سٹیشن مینیجر گھبرا جاتا ہے میڈم فرماتی ہیں کہ تم فون ملا کر مجھے دے دو ایسا ہی کیا جاتا ہے میڈم آغا جی کو فرماتی ہیں کہ آغا جی میں نے آج تین گانے ریکارڈ کرائے ہیں آپ نے ٹھیک آٹھ بجے وہ ریڈیو پر سننے ہیں، اس پر سٹیشن مینیجر گھبرا جاتا ہے کیونکہ آٹھ بجے تو خبروں کے مین بلیٹن کا ٹائم ہوتا تھا میڈم نے یہ زحمت بھی گوارا نہ کی وہ پوچھ ہی لیتیں کہ کس وقت یہ گانے نشر کیے جانے ہیں بلکہ انہوں نے خود سے فیصلہ کیا اور ٹائم بتا دیا بڑی منت سماجت کر کے ٹائم پانچ منٹ آگے کرایا گیا…. آج بھی عالم یہ ہے کہ حریم شاہ اور صندل خٹک کے نام سے عمران خان کی آدھی کابینہ کانپتی ہے کہ کہیں انکی تو کوئی ویڈیو ان لڑکیوں کے پاس تو نہیں ہے۔
دو باتیں ایسی ہیں کہ جو اس ملک کا ہر آدمی مانتا ہے ایک کہ اس ملک کو نا دیدہ قوت چلا رہی ہے اور دوسری یہ کہ حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں لیکن جب کوئی ان دو باتوں کا آپس میں تعلق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ماتھے شکن آلود ہو جاتے ہیں آج کے دن بوٹیے یہ کہتے ہیں اس وقت جتنے بحران عمران خان کو گھیرے ہوئے ہیں وہ اس کو پچھلی حکومتوں سے ورثے میں ملے ہیں مان لیتے ہیں۔
اب ذرا پیچھے چلیں پرویز مشرف کی حکومت کو یاد کرکے آہیں بھرنے والے بوٹیے اس فراوانی کا کریڈٹ پچھلی حکومتوں کو نہیں دیتے جو انکو پرویز مشرف کے زمانے میں میسر تھی، اور اگر کوئی یہ کہے کہ زرداری حکومت کے وقت میں جو بحران موجود تھے کیا اس کا ذمہ دار پرویز مشرف ہے؟ تو اس پر منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو جاتی ہے، بوٹ کا بیانیہ نظریہ ضرورت کے تحت ترتیب پاتا ہے نہ کہ کسی منطق کے لہذا کوئی بھی منطق، شخص یا گروہ اس وقت تک کام کا ہے جب تک وہ اس سوچ کو سوٹ کر رہا ہے، لہذا جب کوئی اس سوچ کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو نا قابل شکست اور نا گزیر ہی سمجھتا ہے۔
آخر میں صرف یہ کہ بوٹ کی سوچ جہاں تک کسی معاشرے کو پہنچا سکتی ہے ہم وہیں پہنچے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم کہیں نہیں پہنچیں گے کاش ہم فیصلہ کرنے کا اختیار اہل علم و دانش کو دیں نہ کہ اہل بندوق اور اہل بوٹ کو، کاش ہم ان سیاستدانوں کو پیدا کر سکیں کہ جن کو اپنی سیاسی جدوجہد پر فخر ہو نہ کہ وہ میز پر بوٹ رکھ کر اپنی وابستگیوں کا اعلان کرنے میں فخر محسوس کرتے ہوں…. اس سوچ سے وہی اتفاق کر سکتا ہے کہ جس عقل گٹوں میں ہو کیونکہ بوٹ تو پاؤں میں پہنا جاتا ہے۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker