ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

میرے دادا کا فسانہ ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

میری دوست رفعت ناہید،جو بہت اچھی شاعرہ ہیں ان کی بیٹی نے مجھ سے کہا آنٹی ایک فلم آئی ہے امیتابھ بچن اور تبّو کی، چینی کم ہے۔مجھے تو پسند نہیں آئی ہیرو ہیروئن میں 30 سال کا فرق دکھایا ہے۔ میں نے کہا میں وہ فلم ضرور دیکھوں گی۔ کیونکہ یہ میرے اپنے گھر کی کہانی ہے۔ عموماً لوگ شعر و ادب، فلم اور افسانے کو کتابی باتیں سمجھتے ہیں۔یہ تو ترقی پسند تحریک نے سمجھایا کہ مضامین ِ حیات غیب سے نہیں اُترتے اسی زمین سے جنم لیتے ہیں ۔ میں اَدبدَا کر اسی لئے اپنی نثر میں کوئی نہ کوئی شعر مصرع ضرور شامل کرتی ہوں،کہ زندگی سے شعر کا جُڑا رشتہ سامنے آتا رہے۔اصل میں شاعری اگر مخلصانہ ہے تو وہ واحد تاریخ ہے انسانی جذبات و احساسات کو محفوظ کرنے کی۔ خیر 2007 ء میں ہم انگلینڈ تھے ، وہاں میں نے یہ فلم دیکھ لی۔
اب میں 2000 ء دسمبر میں دہلی کے کناٹ پلیس کی دوکان میں کھڑی ہوں اور اسد اریب دہلی سے میرٹھ جانے کا پتہ پوچھ رہے ہیں،ایک سردار جی وہاں آ جاتے ہیں، انہیں جب پتہ چلتا ہے ہم پاکستان سے ہیں اور اسد اریب اپنا تعلق لاہور سے بھی بتاتے ہیں تو سردار جی کی باچھیں کِھل جاتی ہیں ،وہ اِن کے گلے سے لپٹ جاتے ہیں اور ہمیں بس کا نمبر، میرٹھ پہنچ کر خیرپور تک جانا پھر وہاں سے محلہ زاہدیان اور بس۔
یہ پونے دو گھنٹے کا سفر تھا، بیچ میں غازی آباد پڑا ، بس گھٹیا سی تھی لیکن ہمیں میرٹھ پہنچا دیا۔ خیرپور سے ہم سائکل رکشا میں بیٹھ کر محلہ زاہدیان پہنچ گئے۔ وہاں عزادار زاہدی(میرے پاپا کے رشتے کے بھتیجے) نے ہماری خاطر تواضع کے بعد ہمیں اُس مکان تک پہنچا دیا جو منزلِ مقصود تھی۔عزادار زاہدی چونکہ پاپا کے تایا زاد بھائی شبیہ الحسن کے بھتیجے تھے، اس لئے وہ میرے مضبوط گواہ بن گئے۔
لبِ سڑک ایک صاف سُتھرا نئی وضع کا مکان نظر آیا جو کبھی حویلی تھی،وہ اب تین بھائیوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ہمیں مرکزی مکان تک لے جایا گیا جہاں کبھی میرے پاپا اور دادا کی رہائش رہی ہوگی۔ یہ حصہ نجم الحسن زیدی کا تھا،برآمدے میں ان کی والدہ نرجس خاتون ایک آبنوسی چھپرکھٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں، میرے تعارف کے بعد نجم الحسن نے کہا آج آپ اس مکان کی دوسری وارث آئی ہیں۔ تقسیم کے بعد آپ کے چچا مسعود زاہدی آۓ تھے۔ خیر نرجس خاتون جو نوّے سے اوپر کی ہونگی ،انہوں نے دلچسپ بات یہ بتائی کہ اس مکان میں اگر کوئی چیز اُس وقت کی ہے تو وہ یہی چھپرکھٹ ہے جو ہل نہیں سکا اور بِک نہیں سکا۔ دوسری بات انہوں نے بتائی کہ تمہاری دادی کو میں نے اس گھر میں دلہن بن کر آتے دیکھا ،ظاہر ہے وہ ان کی ہم سن رہی ہوں گی۔ یہ لوگ ہم اجنبیوں سے ایسی محبت سے پیش آ رہے تھے، حیرت ہو رہی تھی، انہوں نے کھانے اور چاۓ کے بعد ہمیں رات اپنے ہاں بسر کرنے کو کہا، اور جب نرجس خاتون نے یہ کہا کہ آپ کو آپ کی دادی کے کمرے میں ٹھہرائیں گے تو میں فوراً تیار ہو گئی۔ انہوں نے یہ تک پوچھا صبح ناشتے میں آپ کیا لیں گے، میں نے چونکہ پاپا سے بارہا ان کا ماضی سنا ہوا تھا،سو پوچھا یہاں کسی مُراری لال کی دوکان ہوتی تھی،وہیں کا ناشتہ کروا دیجئے گا، وہ لوگ میری معلومات پر حیران تھے کہ مجھے اپنے پاپا کا بچپن تک یاد تھا، انہوں نے جواباً کہا اب مُراری لال کا پوتا دوکان سنبھالتا ہے پہلے تو آپ کو وہاں کا دودھ پِلواتے ہیں، اور مٹی کے کُلہڑ میں گرما گرم پستے پڑا دودھ ہمیں پیش کیا گیا۔ میری معلومات کے اظہار سے انہیں یقین ہوگیا تھا کہ میں سید تصدُّق علی زاہدی کی پوتی ہوں۔
رات تھی اور میری حیران جاگتی آنکھیں، کیا یہی وہ درودیوار ہونگے جہاں میرے پاپا نے جنم لیا،امی دلہن بن کر آئیں، کیا یہیں پاپا نے اُنیس سال کی عمر میں علمائے کرام سے خطاب لکھی، کیا یہیں بیس اکیس سال میں انہوں نے ذ کروفکر کا دیباچہ ساغر نظامی سے لکھوایا؟ اور جب یہ کتاب سجاد حیدر یلدرم کی خدمت میں پیش کی تو انہوں نے بڑا یادگار جملہ کہا،”میاں مقصود تمہاری پوری کتاب میں کہیں بھی عورت کا ذکر نہیں،حیرت ہے “۔ کیا اسی گھر میں اخترالایمان پاپا کے ہمراہ ایک سال مقیم رہے۔۔یادوں کا ایک ہجوم تھا اور میں، پھر میں نے اپنے دادا ابا کے بارے میں سوچنا شروع کیا، کہ اس افسانے کے ہیرو وہی ہیں۔
سید تصدُّق علی زاہدی
وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے،ایک متمول آدمی،اور رئیسانہ ٹھاٹ باٹ والی زندگی گزارتے تھے۔ یہ تمام باتیں میں نے پاپا اور اپنے نانا سید فصیح الزمان سے سن رکھی ہیں۔ میرے پر دادا سید پرورش علی کے بارہ گاؤں تھے۔وغیرہ وغیرہ۔
میرے دادا مزاج کے غُصیلے تھے اور ان کی پہلی بیگم بھی شاید ڈنکے کی چوٹ تھیں۔ ایک روز دادا کے عدالت جانے سے پہلے دونوں میں تلخ کلامی ہوئی،دادا غصے کی حالت میں عدالت چلے گئے اور بیگم صاحبہ نے پالکی منگائی اور اپنے میکے کا رُخ کیا۔اس دور میں شادی بیاہ عزیزوں اور برادری میں ہوتے تھے چنانچہ گھر بار بھی دُور نہیں ہوتے تھے۔
جب دادا لَوٹے تو بیوی ندارد ، مزاجاً دونوں ہی زبردست ضد رکھتے تھے۔ دونوں کو ہر طرف سے سمجھایا گیا، دادا کا بیان تھا ”مجھ سے پوچھے بغیر گئیں خود ہی آئیں “۔ خاتون کہتی تھیں ”خود لے کر جائیں گے تو جاؤں گی “۔ (میں سوچتی ہوں وہ بیگم تبھی سے آزادئ نسواں کا پرچم اُٹھاۓ ہوۓ تھیں)
اس عالَم میں بیس برس بیت گئے، میرے دادا پیشے سے تو وکیل تھے لیکن طبعاً فنکار تھے ان کے مشاغل میں (بقول میرے نانا ) ناخُن سے خطاطی کرنا، سِتار بجانے پر دسترس حاصل کرنا، تھا۔ پاپا کے مطابق وہ فارغ اوقات میں سِتار بجاتے رہتے، یا پھر ادب پڑھتے، ادب سے لگاؤ کا یہ عالم تھا کہ پاپا کو پانچ سال کی عمر میں ”فسانہء آزاد “پڑھا دی تھی، جبکہ اس عمر کے بچوں کو عموما ً کچھ اور پڑھایا جاتا ہے۔ان کے مشاغل میں ایک شوق چیزیں جمع کرنا بھی تھا، مثلا ً وہ ابتدائی سائیکل جس کا ایک پہیہ بہت بڑا اور دوسرا چھوٹا سا تھا۔ گھر میں جھاڑ فانوس لٹکتے تھے،جو پاپا کے مطابق،ان کے انتقال کے بعد پاپا اور عمو جان (سید مسعود زاہدی) گاؤ تکئے اُچھال اُچھال کر توڑا کرتے۔(دادا کے انتقال کے وقت پاپا ،صرف پانچ سال کے تھے)
یا پھر دیگیں، مشینیں،قناتیں اور جو بھی ان کے جی میں آتا درجنوں کے حساب سے لے لیتے ، سو اِردگِرد جو لوگ بستے تھے اور رَعیت کہلاتے تھے وہ اپنی تقاریب میں دادا ہی کا سامان استعمال میں لاتے تھے۔دادا کے غصے کی ایک منفی مثال یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے کسی دشمن کی کھڑی کھیتی جلوادی تھی۔(پاپا کو اسی لئے زمیں داری سے نفرت ہو گئی تھی،کیونکہ یہ مخاصمتیں زمین داری کا حصہ ہیں۔ چنانچہ پاپا نے کلیم میں ملی زمینوں کی طرف کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا اور ساری زندگی قناعت میں گزار دی)
بیس سال بعد، ایک دن پاپا کے نانا سرفراز علی جو دادا کے دوست اور ہم سِن تھے،انہوں نے کہا ” تصدُّق تم دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے؟“دادا جواباً بولے، ”تمہیں آج خیال آیا “؟ یہ جملہ تِیر بن کر سرفراز علی کے دل میں گڑا وہ گھر آۓ اور اُسی روز میرے دادا کا نکاح اپنی گیارہ سال کی بچی ہاشمی بانو سے کروادیا۔دادا کی عمر چالیس سال تھی۔ میں اپنے نانا(میری دادی کے بھائی) سے سُنتی چلی آئی کہ دادا نے میری دادی کو نازونعم سے رکھا، بقول پاپا وہ سر سے پاؤں تک زیورات میں ایسی لدی ہوتی تھیں جیسے گوندنی کا پیڑ۔ میری دادی بے حد حسین تھیں سارا خاندان ان کے حسن کا ذکر کرتا تھا۔ جب سولہویں سال میں کسی تقریب میں پالکی سےاُتریں اور محفل میں پہنچیں، تو وہاں دادا کی پہلی بیوی بھی تھیں انہوں نے ہم نشین سے پوچھا ” یہ کون ہیں؟“جواب ملا ” تمہاری سوکن“۔ سننے میں آیا کہ پہلی بیوی کو وہیں ہَلہَلا کے بخار چڑھا اور وہ پھر جانبر نہ ہو سکیں۔
دادا نے دادی کے ساتھ حج کیا اس زمانے میں جب پانی کے جہاز کا سفر ہوتا تھا،جانے سے پہلے رعیت میں بسنے والے قصائی کو کراۓ کا مکان عطیہ کر گۓ۔ چھ ماہ بعد واپسی پر ٹیلیگرام میں اپنے خسر اور دوست سے ماش کی دال اور پلاؤ کی فرمائش کی۔
دادا اور دادی کی پانچ اولادیں ہوئیں، بڑے بیٹے عون محمد چُھٹپن میں گزر گئے۔ باقی کے نام رفعت بانو،منظور حسین،مقصود (حسین)مسعود (حسین)۔پاپا اور عمو جان دونوں نے اپنے ناموں کے ساتھ فقط زاہدی لگایا۔
دادا نے حج ضرور کیا لیکن میں سمجھتی ہوں وہ مذہبی مزاج نہیں رکھتے تھے،وہ rituals کے سخت خلاف تھے۔ جن کے اپنے باپ کا امام باڑا تھا، انہیں عورتوں کا مجالس میں مارے مارے پھرنا پسند نہیں تھا۔بلکہ وہ ایسی عورتوں کے لئے جو لفظ استعمال کرتے تھے، وہ میں یہاں لکھ نہیں سکتی۔
اسی لئے شاید پاپا بھی جب محرم کے دنوں میں گھر آ کر امی کو نہ پاتے تو کبھی کبھی جُھونجل میں کہتے ،” گھر کو عزاخانہ بنا دیا ہے “۔
دادا نے میرے خیال میں حج بھی سِیراُالِفیلاَرض کے طور پر کیا، اور وہ شاید ایک آزادہ رَو آدمی تھے۔ ترقی پسند سوچ رکھنے کےلئے کمیونسٹ ہونا ضروری نہیں۔میرے دادا اکبر الہ آبادی کے ہم عصر تھے اکبر الہ آبادی کی وفات 1921 میں ہوئی،تقریبا ً یہی دور دادا کی وفات کا ہے۔ مجھے اکبر الہ آبادی کا شعر یاد آ رہا ہے جو اس وقت کا ہے جب ابھی اشتراکیت نے ہندوستان کے دروازے پر دستک نہیں دی تھی۔:
پڑا ہُوا ہے درِ خانقاہ پر اکبر
خُدا ملے نہ ملے روٹیاں تو ملتی ہیں۔
دادا نے اپنے اُس دوست اور رشتے کے بھائی کی بیٹی سے نسبت قائم کی ، جو اہلِ سُنت میں سے تھے، ایک اور حیران کن بات ان کا نکاح امام کے سوئم کے اگلے دن ہُوا ۔ ویسے میرے نانا کہتے تھے پہلے ہندوستان میں سوئم کے بعد سوگ اُٹھ جاتا تھا اور چُوڑی والی کو بُلا کر گھر کی عورتوں کو چُوڑیاں پہنوای جاتی تھیں۔ رام بابو سکسینہ نےبھی تاریخ اردو ادب میں یہ لکھا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker