علی نقویکالملکھاری

چیف جسٹس کا ڈیم فنڈ اورپانی ، بجلی کا بحران ۔۔ علی نقوی

آج کل چیف جسٹس ثاقب نثار بے پناہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں جہاں ایک طرف وہ سیاستدانوں سے متعلق کیسز کو  سنجیدگی سے ڈیل کر رہے ہیں وہیں عوامی دلچسپی کے معاملات کو بھی اُسی سنجیدگی سے لے رہے ہیں جس کے وہ متقاضی ہیں ۔ جہاں مجھے کچھ معاملات پر ان سے اختلاف ہے وہیں ایک معاملہ ایسا ہے کہ جس پر ان کو جتنی داد دی جائے کم ہے اور جتنی مدد کی جا سکے کرنی چاہیے وہ معاملہ ہے ڈیم کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے فنڈ کا چیف جسٹس نے ایک فنڈ قائم کیا ہے کہ جس میں جمع ہونے والی رقم وہ ڈیم بنانے کے لیے فراہم کریں گے اور اس فنڈ کے پہلے ڈونر وہ خود تھے انہوں نے اپنی جیب سے دس لاکھ روپے اس فنڈ میں جمع کرائے تاکہ باقی لوگوں کو ترغیب دلائی جا سکے کہ وہ بھی اس مہم کا حصہ بنیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس فنڈ کا کیا انجام ہوتا ہے مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس فنڈ میں اتنے پیسے اکٹھے ہو بھی پائیں گے کہ جس سے ایک ڈیم بن سکے یا نہیں لیکن مجھے اس سوچ سے شدید اتفاق ہے کہ ڈیم بننا اتنا ضروری ہے کہ اس کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میں پی ٹی آئی کا مخالف ہوں میں عمران خان اور انکی پارٹی کےطرزِسیاست پر شدید تنقید کرتا ہوں لیکن جس دن میں نے یہ سنا تھا کہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ہم خیبر پختونخواہ میں ون ملین ٹری پراجیکٹ شروع کرنے لگے ہیں تو میرا دل باغ باغ ہو گیا تھا اور میں نے عمران خان کو کھل کر داد دی تھی کہ خیبر پختون خواہ پاکستان کا وہ صوبہ ہے کہ جہاں سب سے زیادہ جنگلات پائے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس طرف دھیان دینا ایک بہت شاندار سوچ ہے لوگ کہتے ہیں کہ پراپیگنڈا ہے کوئی درخت نہیں لگے پی ٹی آئی والے جھوٹ بولتے ہیں میرا جواب یہ ہے کہ اگر ایک درخت بھی نہ لگا ہو تب بھی میں اس سوچ کو داد دیتا ہوں کہ آپ یہ سوچیں کہ درخت لگنے چاہئیں اگر آپ کے ذہن میں یہ سوچ بھی آتی ہے تو آپ ایک انسان دوست اور ماحول دوست شخص ہیں۔  اسی طرح 2008 کی حکومت کے دوران پنجاب گورنمنٹ نے ایک پراجیکٹ شروع کیا تھا کچن گارڈننگ کا جس کے تحت سبزیوں اور پھلوں کے بیج دیے گئے تھے لیکن وہ پراجیکٹ حکومت کی بے توجہی کا شکار ہو گیا اور آگے نہ بڑھ سکا لیکن سوچ اچھی تھی۔
کل کی خبر تھی کہ منگلا اور تربیلا ڈیمز میں پانی اپنے ڈیڈ لیول کے نز دیک ہے لیکن یہ خبریں ہماری توجہ حاصل نہیں کر پاتیں ابھی ہم یہ تصور نہیں کر پارہے کہ پانی کی قلت ہوتی کیا ہے کل ن لیگ کے ایک سابق وزیر ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر یہ فرما رہے تھے کہ یہ چیف جسٹس کا کام نہیں ہے کہ وہ ڈیموں کے لیے پیسے اکٹھے کرتا پھرے ہو سکتا ہے کہ وہ ٹھیک کہہ رہے ہوں لیکن حضور بات یہ ہے کہ ابھی آپ پانچ سال حکومت کے مزے لیکر گئے ہیں دس سال سے جمہوریت کا راج تھا آپ نے کیوں کچھ نہیں کیا مشرف کے دور سے اس ملک میں بجلی کا شدید بحران ہے آپ جمہوری لوگ آئے آپ نے کیوں توجہ نہ کی کہ یہ فوری نوعیت کا معاملہ ہے اس پر توجہ کرنی چاہیے،  لیکن یہ شاید آپ کے لئے فوری نوعیت کا معاملہ نہیں ہے جن سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کا کُل فوکس اگلے الیکشن کی جیت ہو انکے لیے قابلِ توجہ مسائل اور ہوتے ہیں پیپلز پارٹی ہو یا ن لیگ راجا پرویز اشرف ہوں یا شہباز شریف سب نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے عوام کو لولی پوپ دئیے رکھا لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا یہ پنجاب کے شہری علاقوں میں جو بجلی کی صورتحال تھوڑی بہتر ہے یہ ان پراجیکٹس کی مرہون منت ہے جو سی پیک کے تحت لگ رہے ہیں مثال کے طور پر سب سے بڑا پراجیکٹ ساہیوال کول پراجیکٹ ہے جس کا کریڈٹ میاں شہباز شریف لیتے ہیں چائنیز انویسٹ منٹ ہے اور ڈیم صرف بجلی کی پیداوار کے لئے ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بقا کے لئے بھی ایک ناگزیر شے ہے ہم بچپن سے دیکھ رہے ہیں کہ ہر کچھ سالوں کے بعد اس ملک میں سیلاب آتے ہیں اور ہر سیلاب میں یہ سیاست دان فوٹو شوٹ کروانے کے لیے پائنچے اٹھائے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں چاہے وہ شہباز شریف ہوں، بلاول بھٹو ہوں یا آصف علی زرداری لیکن جب وہ سیلابی پانی فصلوں، جانوروں، اور غریب لوگوں کی جمع پونجی لے کے سمندر میں جا گرتا ہے سب ایسے بھول جاتے ہیں کہ جیسے سیلاب تو کبھی آیا ہی نہیں تھا نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ وہ پانی جو آپ کے لیے کئی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا تھا، کئی ہزار ایکڑوں پر محیط فصلوں کو سیراب کر سکتا تھا اس نے کئی ہزار خاندانوں کو دربدر کر دیا۔ جب سے چیف جسٹس نے یہ فنڈ قائم کیا ہے تب سے ہر پارٹی اپنے اپنے منصوبے بتانے میں مصروف ہے کہ ہم فلاں ڈیم کی تیاری مکمل کر چکے ہیں اور ہم فلاں کی لیکن کسی پارٹی یا سیاسی رہنما نے میری اطلاع کے مطابق اس فنڈ میں ایک روپیہ جمع نہیں کرایا جو چیف جسٹس نے قائم کیا ہے پھر یہ لوگ یہ کہتے بھی پائے جاتے ہیں کہ یہ کام چیف جسٹس کے کرنے کے نہیں ہیں کوئی ان سیاسی جماعتوں سے یہ پوچھے کہ آپ کا حال تو یہ ہے کہ آپ سے نگران وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر اتفاق رائے قائم نہیں کیا جاتا آپ قومی نوعیت معاملات کیا خاک نبٹائیں گے. ابھی گزشتہ روز رانا ثناء اللہ شاہ زیب خانزادہ کے شو میں یہ فرما رہے تھے کہ نیب کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے ہم پر دباؤ تھا یہ ہمارا فیصلہ نہیں تھا میرا رانا صاحب اور ان جیسے سیاستدانوں سے صرف ایک سوال ہے کہ حضور اگر آپ اتنے ہی بے بس ہوتے ہیں اور آپکے ہاتھ اتنے ہی بندھے ہوئے ہوتے ہیں تو آپ کو کیا شوق ہے اقتدار میں آکر اپنی مرضی کے خلاف ہوئے فیصلوں پر اپنے نام کی مہر لگانے کا چھوڑیں اس کام کو اپنی عزت بچائیں ٹکے ٹکے کے لوگ دن رات صبح و شام آپکو گالیاں بکتے ہیں، ہر روز ٹی وی چینلز اور اخبارات میں آپ کی بینڈ بجائی جاتی ہے، آپ پر، آپکے ساتھیوں اور آپکے خاندان کے لوگوں پر جھوٹی ایف آئی آرز کٹوائی جاتیں ہیں، آپکی اور آپکے پیاروں کی کردار کشُی کی جاتی ہے، آپکو کچی آبادیوں اور جھونپڑ پٹی میں جا جا کر میلے کچیلے بدبودار لوگوں سے ووٹ مانگنے پڑتے ہیں اور گالیاں بھی سننی پڑتی ہیں اور اس سب کے بعد آپکے بقول آپ کو آپکی مرضی سے کام بھی نہیں کرنے دیا جاتا اسٹیبلشمنٹ آپ پر اپنے فیصلے مسلط کرتی ہے آپ سے ان فیصلوں پر عمل درآمد کرایا جاتا ہے جو آپکی مرضی کے مطابق نہیں ہوتے تو سرکار کس قیمت پر آپ یہ کام (سیاست) کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ فوج کے سیاسی کردار پر  ہمیں شدید اعتراض ہے، لیکن عام آدمی جب یہ دیکھتا ہے کہ سویلین ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے بھی فوج سے مدد لیتے ہیں تو وہ فوج کی کارکردگی سے متاثر ہوتا ہے مثلاً محرم میں اور دوسرے حساس موقعوں پر سیکورٹی فراہم کرنا پولیس اور سویلین سیکورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن جب بھی معاملہ سنگین ہونے لگتا تو فوج طلب کرلی جاتی ہے اور انکے آتے ہی حالات بہتر ہونے شروع ہو جاتے ہیں تو ایک عام آدمی ریلیف محسوس کرتا ہے، سیلاب آ جائے تو ریسکیو کے لیے فوج بلائی جاتی ہے، بھل صفائی فوج سے کرائی جاتی ہے، مردم شماری کے لیے بھی فوج کی مدد درکار ہے، الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوتے ہیں، جب جمہوری حکومتیں اور سویلین ادارے فوج سے یہ کہتے ہیں کہ ہم سے حساس موقعوں پر سیکیورٹی نہیں سنبھلتی تو آپ ایک سطح پر یہ اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ نے ادارے مضبوط نہیں کیے آپ نے اپنے کام ٹھیک طرح سے انجام نہیں دئیے آپ نے میرٹ پر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے آپ نے عابد باکسر، راؤ انوار اور نا جانے کس کس بدمعاش کو قانون کی گردن پر مسلط رکھا ہے، اور اگر میں آپکی نیت پر شک نہ بھی کروں تو بھی آپکی اب تک کی کارکردگی آپکی اہلیت اور قابلیت دونوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker